گنے سے گنڈیری تک

razia syyed

آج شاہ زیب جیسے ہی گھر آئے تو ان کا منہ سوجا ہوا تھا خیر میں نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی کیونکہ اکثر اوقات دفتر میں کام کی زیادتی کی وجہ سے مرد حضرات کے چہروں کے زاویے بگڑنا معمول کی بات ہے بالکل اسی طرح جس طرح ہم گھریلو خواتین سار ا دن گھر کے کام کر کر کے تھک جاتی ہیں اور اکثر خواتین تو شوہر کی آمد سے قبل سر درد کی شکایت لے کر دوپٹہ سر پر باندھ لیتی ہیں ۔ خیر مہینے میں ایک آدھ مرتبہ اس خراب موڈ کو برداشت کیا جا سکتا ہے ۔
میں نے بھی ان کی حالت کے بارے میں کچھ نہ پوچھا اور انھوں نے بھی کچھ نہیں بتایا حالانکہ روز میں ایک اچھی بیوی کی طرح آتے ہی ان کی خیریت دریافت کرتی اور کھانے کو بھی پوچھتی ہوں اور ان بیویوں میں سے ہوں جو گھر ، بچے اور اپنے آپ سب کو صاف ستھرا رکھ کے شوہر کو کم ازکم گھریلو طور پر سکون پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ لیکن آج شاہ زیب کے غصے کو دیکھ کر میرا بھی دل نہیں چاہا کہ کوئی بات کی جائے ۔ لیکن پھر آخر بچوں کی شامت آگئی جب انھوں نے دو جھانپڑ فائقہ کو رسید کئے اور اسد کو زور سے بیڈ پہ دے مارا تو میرے بھی غصے کی انتہا نہ رہی ۔ میں خاموش نہ رہ سکی اور پوچھ ہی لیا ’’ آخر جو ہوا ہے آپ بتا ہی دیں اپنے ہی بچوں کو تشدد کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں ‘‘؟ بس پوچھنے کی دیر تھی صاحب بہادر فرمانے لگے ’’ دیکھو یار تمھیں پتہ ہے کہ میں بازار کی چیزوں سے ویسے ہی پرہیز کرتا ہوں لیکن وہ ہمارے کولیگ ہیں ناں کامل صاحب خود تو بیمار ہوں گے مجھے بھی کردیں گے ، میرے منع کرنے کے باوجود گرمی کے موسم کا بہانہ بناتے ہوئے لے گئے مجھے بھی گنے کے رس کی دکان پہ، اب دل تو تھا نہیں میرا مگر اخلاقیات بھی کوئی چیز ہے اور پھر وہ ہمارے ہمسائے بھی ہیں ‘‘
’’ آپ اصل بات بتا ہی نہیں رہے آخر اتنی لمبی تمہید کا کیا مقصد ، صرف زچ کر رہے ہیں مجھے ‘‘ اتنی لمبی داستان سن کر اب میری ہمت بھی جواب دینے لگی تھی ۔ خیر انھوں نے کہانی پھر سے شروع کی ’’ وہاں دکان پر گندگی کے ڈھیر ، مکھیاں ، مچھر او ربھڑیں ۔ لیموں کٹے ہوئے ہیں تو وہ گندے ، نمک مصالحے کے برتن میں گنوں کا رس کا ٹپک رہا ، مشین تو لگتا کب سے صفائی نہیں ہوئی ابھی میں یہی دیکھ رہا تھا تو اچانک ایک بھڑ میرے ہی گلاس کے اوپر منڈلانے لگی اور میرے گال پر کاٹ لیا اور اب اسکے بعد سیدھا انجکشن لگوا کے گھرآرہا ہوں اور تم ہو کہ سنتی نہیں ہو ‘‘ ہمارے شوہر بہت نرم مزاج ہیں لیکن آج جب انھوں نے یہ کہا کہ دیکھو میں سوچتا ہوں کہ فوڈ انسپکٹر یہاں پر کیوں نہیں چھاپے مارتے ؟ ان کو کیوں آزاد چھوڑا ہوا ہے تو واقعی مجھے احساس ہوا کہ ان کی یہ بات ٹھیک ہے ۔
یہ بات تو تھی ہمارے گھر کی ، لیکن کیا یہ پورا ملک ہمارا گھر نہیں ، یہاں کے شہری ہمارے کچھ نہیں لگتے جو ہم کی جانوں سے کھیل رہے ہیں ؟ ہم بھی سب آنکھوں کے اندھے ہیں اور نام رکھا ہوا ہے نین سکھ ۔
نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جودن رات یہاں گنے کا گندا رس پیتے ہیں ، نہ یہاں گلاسوں کی کوئی صفائی ہوتی ہے اور نہ ہی مشین کی ۔ گنے ہیں تو وہ بھی صاف نہیں ۔ کتنے لاکھوں مریض یرقان کے یہاں آتے ہیں اور گنے کا رس پیتے ہیں ان کے جراثیم ان گلاسوں پر لگے ہوتے ہیں اور نئے آنے والوں تک منتقل ہوتے ہیں ۔ لیموں کو آدھا کاٹ کرچھریاں وہیں رکھی جاتی ہیں اور لوہے کی اشیا سے فوری طور پر یرقان ہوتا دکانداروں کو دیکھیں تو آپ کبھی گنے کا رس پی ہی نہ سکیں ۔اور تو اور نہایت خوبصورتی اور ہوشیاری سے شکرکی جگہ سستی چینی اور ملاوٹ والی سکروز بھی ملا دی جاتی ہے ۔
اصل میں ہم جب فطرت سے روگردانی کرتے ہیں ناں تو نقصان اٹھاتے ہیں ۔ یہی گنے آُ پ کو آپ کے گاؤں میں ملیں گے مگر آپ کو قدر ہی نہیں ہو گی ۔ ہم جانتے ہیں کہ گنے انسانی صحت کے لئے بہت اچھے ہوتے ہیں ، مسوڑھوں کو مضبوطی ملتی ہے اور گنڈیریاں کھانے سے بھی کم و بیش یہی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ کتنا فطری محسوس ہوتا ہے جب ہم ان کھیتوں میں جا کر گنے توڑ کر کھاتے ہیں اور کوئی ڈر نہیں کہ ہماری صحت کو فلاں نقصان ہو گا ۔ تو کھیتوں میں جا کر بھی گنے کھایئے لیکن اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو احتیاط لازم ہے ۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *