پہلی جنگِ عظیم آخری نہیں تھی

Irfan Hussainعرفان حسین

2014 میں، جبکہ پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کو ایک سو سال ہوچکے ہیں، دنیا بھر میں مضامین، ٹی وی رپورٹس اور کتابیں لکھ کر اُس خوفناک واقعے کی یاد تازہ کی جارہی ہے۔ جب اٹھائیس جولائی قریب آئے گی تو اس موضوع پر،خاص طور پر یورپ میں ، مزید بات کی جائے گی(اٹھائیس جولائی کواسٹریا اور ہنگری نے سربیا کو الٹی میٹم دیا تھا)۔ اگرچہ اس جنگ کو سو سال کا عرصہ گزرچکا اس کی دھشت کے خونچکاں نقوش ذہنِ انسانی پر ثبت ہیں۔ اس میں ہونے والی تباہی و بربادی کو تصور بھی دل دہلا دیتا ہے... سولا ملین افراد کی ہلاکت، جس میں مخالف افواج کی دس ملین ہلاکتیں بھی شامل تھیں اور بیس ملین افراد زخمی۔
اس جنگ میں اس قدر وسیع پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں ، جن کی نظیر چشمِ فلک نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی، کی وجہ جدید ہتھیار اور نئی جنگی ٹیکنالوجی کا استعمال تھا۔ پہلی مرتبہ کسی جنگ میں لڑاکا طیاروں، ٹینکوں، آبدوزوں، مشین گنوں اور مہلک گیس کا استعمال کیا گیا۔ فرانس میں جرمن پیش قدمی کو روکنے کے لیے بچھائی گئیں بارودی سرنگیں ہزاروں فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بنیں۔ ہلاکت خیزی اپنی جگہ پر، لیکن اس جنگ کے آغاز کی وجوھات پر مورخین کا آپس میں اتفاق نہیں ۔ اس سے پہلے یورپی اقوام کی باہم تنظیم سازی اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی پالیسی کی بدولت کریمن جنگ( جو روس اور برطانیہ، فرانس اور سلطنتِ عثمانیہ کے آلائنس کے درمیان ہوں) اور فرانس اور جرمنی کے درمیان ہونے والی جنگ کے سوایورپ میں مجموعی طور پر نپولین جنگوں(Napoleonic wars)کے بعد ایک سوسال تک امن قائم رہا۔ واٹرلو میں نپولین کی شکست کے بعد 1815 میں ’’کنسرٹ آف یورپ‘‘ کے قیام کی وجہ سے یورپی ممالک کے باہم تنازعات سفارت کاری اور مذاکرات کی مدد سے حل کیے جانے کی سبیل پیدا ہوگئی۔
بسمارک نامی بحری بیڑے کے بعد 1871 میں جب جرمن سلطنت کا قیام عمل میں آیاتو جرمن حکمران چاہتے تھے کہ عالمی طاقتیں ، بشمول برطانیہ اس سلطنت کو تسلیم کریں۔ ان دنوں بحری بیڑے اور دنیا کے مختلف ممالک میں قائم کی گئی کالونیوں سے کسی سلطنت کی طاقت اور اختیار کا اظہار ہوتا تھا۔ جرمنی جو پہلے ایک زمینی طاقت تو تھا لیکن اس کے پا س نہ بحری بیڑے تھے اور نہ ہی کوئی کالونی، لیکن بسمارک کے بعد جرمنی برطانیہ کی مسابقت کرنے کے لیے پرعزم تھا۔ اُس وقت روس، جو یورپ کی سب سے پسماندہ ریاست تھی، کے شہنشاہ زار نکولس دوم عوامی حمایت سے محروم ، اس کوشش میں تھے کہ حکومت کے خلاف ابھرنے والے عوامی جذبات کا رخ کسی طرف موڑ دیں۔ یورپ کے سہ رکنی اتحاد ، جو روس، فرانس اور برطانیہ پر مبنی تھا، میں سے سب سے کمزور روس ہی تھا۔ بہرحال جرمنی کو مشرقی محاذ پر روس سے خطرہ محسوس ہورہا تھا، اس لیے اس نے اپنی فوج کو دو محاذوں پر لڑنے کے لیے بھیج دیا۔
پہلی جنگِ عظیم کی صدسالہ یادمنانے کے موقعے پر جو بہت سی کتابیں منظرِ عام پر آرہی ہیں، ان میں مارگریٹ میک ملن (Margaret MacMillan)کی کتاب ’’The War that Ended Peace‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے تاریخی حوالوں سے اس جنگ میں حصہ لینے والے ممالک کے حکمرانوں کے عزائم اور سیاسی مقاصد کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ نے اُن واقعات اور اتفاقات کا بھی ذکر کیا ہے جو اس جنگ کا باعث بنے۔ بنیادی طور پر وہ ان عوامل کا ذکر کرتی ہے کہ جن میں بگاڑ آنے سے ایک ملک کا امن خراب ہوتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے حوالے سے سب سے بڑا عامل جرمنی کی طرف سے جہازسازی کی صنعت کو فروغ دینا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندروں پر برطانیہ کی حاکمیت کو خطرہ محسوس ہوا۔ طاقتور بحری بیڑے جزائرِ برطانیہ کی ضرورت تھے کیونکہ اس کی کالونیاں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف جرمن، جو خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتے تھے، بھی برطانیہ کو چیلنج کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ایک اور عامل جس کی وجہ سے پہلی جنگِ عظیم کا ہونا ناگزیر ہوگیا ، وہ عثمانیہ سلطنت کا یک لخت زوال تھا۔ جب کمزور خلافت اپنے انجام تک پہنچی تو یورپی طاقتیں ، جن کے سرپر زیادہ سے زیادہ کالونیاں بنانے کی دھن سوار تھی، ترکی کی بندر بانٹ کے لیے لپکے۔ اُ س وقت تک سرب قوم پرست بھی آزادی حاصل کرنے کے بعد عظیم سربیا ریاست ، جو Slavic آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئی مشرقی یورپ تک پھیلی ہوئی ہو، قائم کرنے کے لیے پرعزم تھے۔انہی قوم پرستوں کے ہاتھوں اسٹریا ہنگری کے ولی عہد آرک ڈیوک فرانز فرڈینینڈاور اس کی بیوی، جب وہ تئیس جون کو بوسینا کے دورے پر تھے، کا قتل گویا بارود کے ڈھیر کوچنگاری دکھانے کے مترادف تھا۔
جس یورپی آلائنس نے امن قائم رکھنا تھا، وہی جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے لگا۔ روس نے سربیا کے ساتھ اس کی حفاظت کا وعدہ کر رکھا تھا جبکہ جرمنی اسٹریا اور ہنگری کے ساتھ تھا۔ اگرچہ فرانس ، جس کے مشرق میں یہ کشمکش زور پکڑ رہی تھی،اس جنگ سے براہِ راست متاثر نہ تھا لیکن وہ روس کے ساتھ دفاعی معاہدے میں شریک تھا، اور برطانیہ کا فرانس کے ساتھ معاہدہ تھا۔ اگرچہ فرانس اوربرطانیہ طویل عرصہ تک دشمن رہے تھے لیکن برطانیہ جرمن حملے کی صورت فرانس کی مدد کے لیے کمر بستہ ہوچکا تھا۔یہ بات نوٹ کرنادلچسپی سے خالی نہیں کہ جرمنی، برطانیہ،ہنگری ، اسٹریا اور روس کے حکمران نسل کے اعتبار سے ایک ہی تھے ، تاہم جب طبلِ جنگ بج گیا توخون کی یکسانیت ان کو خونریزی سے نہ روک سکی۔ اس جنگ کے اختتام پر چار میں تین سلطنتیں ختم ہوگئیں۔
آج سوسال بعد اس جنگ کے ذکر کی کیا اہمیت ہے؟سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی جغرافیائی حد بندیوں کی شکست وریخت سے بہت سی نئی ریاستیں وجود میں آئیں(اگرچہ آج 2014 میں ان میں سے کچھ ممالک کی جغرافیائی حدود پھر خطرے کی زد میں ہیں)۔ جنگ میں شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوگئی اور اس کے مشرقی وسطیٰ کے علاقوں پر فرانس اور برطانیہ نے Sykes-Picot Agreement کے تحت قبضہ کرلیا۔ جرمنی کی شکست کے بعد Versailles معاہدے کے تحت جدید عراق، اردن ، شام اور لبنان وجود میں آئے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب دنیا کی آنکھیں کھلیں تو اس قدر بھیانک خونریزی سے انسانیت کا دل دہل گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ آئندہ ایسی وسیع جنگ چھڑنے کے امکانات کو روکاجائے گا، چنانچہ لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایاگیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ پہلی جنگِ عظیم وہ جنگ تھی جس نے آئندہ تمام جنگوں کے امکانات ختم کردیے۔تاہم یہ انسان کی خوش فہمی تھی۔جنگ میں شکست خوردہ جرمنی پر سخت شرائط عائد کی گئیں، چنانچہ دو عشروں کے بعد دنیا اس سے بھی زیادہ مہیب جنگ کے شعلوں کی نذر ہوگئی۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *