Apologists

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

ایک خان صاحب کو اپنی مونچھوں پر بہت ناز تھا‘ہر وقت تائو دینے کی وجہ سے ان کی مونچھوں کی ڈائریکشن کچھ ایسی ہو گئی تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے گھڑی پردس بج کر دس منٹ ہوئے ہوں‘ ایک دن وہ اپنے مصاحبین کے درمیان گھرے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک نوجون پر پڑی جس کی مونچھیں انہی کی طرح گھنی اور نوکدار تھیں ‘ یہ دیکھتے ہی خاں صاحب غصے میں آگئے اور اس نوجوان کو حکم دیا کہ فوراً اپنی مونچھ نیچی کرے ‘نوجوان نے لا پرواہی سے جواب دیا ’’ خان صاحب ‘میری کوئی بیوی ہے نہ بچے ‘مجھے کاہے کسی کا ڈر‘میں تو مونچھ نیچی نہیں کروں گا۔‘‘ یہ سُن کر خان صاحب اٹھے ‘ گھر گئے ‘اپنی بیوی اور بچوں کو گولیاں مار یں اور واپس آکر اس نوجوان سے کہا’’ اب میرے بیوی بچے بھی نہیں رہے ‘اب مونچھ نیچی کرو۔‘‘ یہ سن کر نوجوان نے ایک لمحے کے لئے خان صاحب کی طرف دیکھا اور پھر خاموشی سے مونچھ نیچی کر لی۔
دہشت گردی کے موسم میں اس قسم کے گھسے پٹے لطیفے سنانا یقینا چاقو سے گدگدی کرنے کے مترادف ہے مگر کیا کریںکہ ہم سب ہی ایک دوسرے کو چاقو سے گدگدی کرنے میں لگے ہیں ۔شان نزول اس لطیفے کی یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں دہشت گردوں کے مطالبات کا علم ہو جائے گا (گویا اس سے پہلے دہشت گردوں نے اپنا ایجنڈا خفیہ رکھا ہوا تھا)۔دہشت گردوں کا ایجنڈا تو خیر پہلے دن سے ہی روز روشن کی طرح عیاں تھا مگر ان کے معذرت خواہوں (apologists) کی تسلی کی غرض سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا اور اس دوران درجنوں خود کش حملوں اور سینکڑوں بے گناہوں کی موت کے بعد دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر ببانگ دہل اپنا ایجنڈا دہرایا تو معذرت خواہوں نے خاموشی سے یہ کہہ کر ’’مونچھ نیچی کر لی‘‘ کہ اچھا ہوا‘آخر ہمیں پتہ تو چلا کہ وہ چاہتے کیا ہیں !
اصولی طور پر ہمیں دہشت گردوں سے کوئی گلہ نہیں کرنا چاہئے کہ ان کا تو کام ہی دہشت پھیلانا ہے اور وہ اپنا کام بطریق احسن انجام دے رہے ہیں ‘اصل قصور وار ان کے apologistsہیں جو ان کے ہر حملے کا دفاع کرتے ہیں ‘ان کے ہر عمل کا جواز پیش کرتے ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں ‘ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں ‘ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ‘ہمارے ساتھ مل کر دعوتیں اڑاتے ہیں ‘ شادی بیاہ او ر جنازوں میں شریک ہوتے ہیں‘ٹاک شوز میں گفتگو کرتے ہیں ‘اخبارات میںبیان دیتے ہیںاور سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کی نام ہو میو پیتھک قسم کی مذمت بھی کرتے ہیں ۔یہی وہ لوگ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں اور انہی کی وجہ سے قوم کنفیوژن کا شکار ہوتی رہی ہے ۔تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران اس ضمن میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ‘دہشت گردوں کے ان حمایتیوں کے پاس اب کہنے کو کچھ بھی نہیں رہا ‘ان کی ہر دلیل ہر جواز ہر سازشی تھیوری کی دھجیاں اڑ چکی ہیں اور ان کے تمام مفروضے ‘تمام پیشن گوئیاں ‘تمام تجزئیے باطل ثابت ہو چکے ہیں۔جس کسی کو اس بات کی صداقت میں شبہ ہو وہ پچھلے ایک برس کے اخبارات اکٹھے کرے اور ان میں وہ تمام تجزئیے ‘بیانات اور تحریریں پڑھ لے جو ان apologistsنے گاہے بگاہے ہر بم دھماکے کے بعد اپنی زنبیل سے نکال کرقوم کے سامنے رکھیں ‘لطیفوں کی ایک ایسی کیٹلاگ تیار ہوگی جس پر ہم بلاشبہ ایک اور عالمی ریکارڈ کے حقدار بن جائیں گے ۔
لیکن یہ apologistsبہت ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں ۔پہلی ‘ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں انہیں سُبکی محسوس ہوتی ہے کیونکہ انا بھی آخرکوئی چیز ہے‘اوردوسری ‘اعتراف کرنے کی صورت میں ان کی ’’fan following‘‘ اور ووٹ بنک متاثر ہوتا ہے اور یہ قربانی دینا کوئی آسان کام نہیں ۔اول تو یہ لوگ اپنے بیانئے کے ضمن میںکسی قسم کی دلیل دینے میں یقین ہی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے نزدیک اپنے بیانئے کو سچ ثابت کرنے کا بہترین طریقہ دوسروں پر لعن طعن کرنا ہے ‘مثلاً اگر انہیں کہا جائے کہ جناب والا آپ تو فرماتے تھے کہ یہ ساری دہشت گردی ڈرون کا رد عمل ہے ‘جس دن ڈرون حملے بند ہو جائیں گے دہشت گردی ختم ہو جائے گی اوراب جبکہ ڈرون حملے نہیں ہو رہے ‘مذاکرات کی منتیں بھی کی جارہی ہیں ‘جنگ بندی کی دہائی بھی دی جا رہی ہے اور ان سب کے باوجود دہشت گردی جاری و ساری ہے کیونکہ دہشت گردوں کا ایجنڈا تو گن پوائنٹ پر اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنے کا ہے جس کا ڈرون حملوں سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ‘تو پھر کیا آپ کا موقف غلط ثابت نہیں ہوا؟ جواب آتا ہے ‘تم ڈالر خور ہو۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ توکہتے تھے کہ اسامہ بن لادن ایک افسانوی کردار ہے اور اب ارشاد فرما رہے ہیں کہ وہ شہید ہے تو اس میں سے کس بات کو سچ مانا جائے تو پورے طنطنے کے ساتھ جواب آتا ہے ’’اصل میں آپ امریکی اشاروں پر ناچتے ہیں ۔‘‘ اگر ان سے پوچھا جائے کہ حضور آپ نے تو ہمیں بتایا تھا کہ ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی تو سی آئی اے‘بلیک واٹر وغیرہ کرواتے ہیں جبکہ طالبان تو افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد کر رہے ہیں تو پھر آپ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات کے حامی کیوں ہیں؟ جواب آتا ہے ‘دراصل آپ سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں ۔اور اگر ان سے بحث کی جائے کہ عالی مرتبت دنیا میں کون سا ایسا ملک ہے جہاں اس قسم کی مسلح بغاوت پر آمادہ گروہوں کومذاکرات کے ذریعے ہتھیار پھینکنے پر قائل کیا گیا اور بعد ازاں وہ دہشت گرد دفتروں میں بطور کلرک بھرتی کر لئے گئے تو جواب آتا ہے کہ آپ تاریخ پڑھیں‘آئر لینڈ میں بھی بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی خوں ریزی پر قابو پایا گیا تھالیکن آپ چونکہ بک چکے ہیں لہذا آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔حالانکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ آئر لینڈ کو نقشے پر تلاش کرنا پڑے تو آئس لینڈ پر انگلی رکھ دیں گے۔
اصولاً تو دہشت گردوں کے ان وکیلوں کو ہاتھ جوڑ کر عوام سے معافی مانگنی چاہئے کہ انہوں نے قوم کو اتنے طویل عرصے تک گمراہ کئے رکھا مگر ہمارے ہاں معافی مانگنا تو دور کی بات غلطی کا اعتراف کرنے کا ظرف بھی کسی میں نہیں کیونکہ اس کے لئے بہرحال اعلی ظرف ہونا ضروری ہے۔دہشت گردی کی یہ جنگ دراصل اسی بیانئے کی جنگ ہے ‘جس فریق کا narrativeجتنا مدلل اور مضبوط ہوگا وہ فریق اس جنگ میں فاتح ٹھہرے گا۔تا حال ان apologistsکو دانشوارانہ سطح پر شکست ہو چکی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس سطح پر ان کے ہمنوا صرف اکا دکا لوگ رہ گئے ہیں جن کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں غلطی ماننے میں شرم محسوس ہو رہی ہے او ر انہیں اپنے ’’چھابے‘‘ کے گرد لگے رش کے کم ہو جانے کا ڈر ہے ۔عوامی سطح پر بھی apologistsکا بیانیہ دم توڑ رہا ہے ‘آج سے چند برس قبل عوام یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ کوئی مسلمان دہشت گرد ہو سکتا ہے یا کسی کلمہ گو کو قتل کر سکتا ہے مگرآج حالات بدل چکے ہیں ‘آج عوام کی اکثریت اس کھوکھلے بیانئے کو رد کر چکی ہے اور جوں جوں مزید وقت گذرے گا اس اکثریت میں اضافہ ہوگا‘باقی رہی بات apologistsکی تو ان کے حق میں صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *