آپکی طبع نازک سےایک سوال

Seemi Kiran

مارچ ہے ، بہار جوبن پہ ہے- ابھی ابھی آٹھ مارچ ہو کر گزرا ہے تو کیوں نہ وہی باتیں کر لی جائیں جو کچھ طبع نازک پہ بڑی ناگوار گزری ہیں!  یہ طبع نازک تو ویسے بڑی متنازع سی ہو گئی ہے، آج کل یہ طبع نازک اور نازک مزاجی مردوں کو مخصوص ہو گئی ہے۔ حقوق نسواں پہ آنے والے بل کی بات کریں یہ مردوں کی طبع نازک پہ بہت ناگوار گزرتا ہے! اور جب کچھ نہیں بن پڑتا تو مرد بے چارا گھبرا کر پناہ فوراً مذہبی چولے میں لے لیتا ہے! اور اسلام اور مذہب کی بھی خوب رہی! جہاں کہیں بس نہ چلے وہاں اسلام کی ٹانگ گھسیٹ لو! ورنہ یہ سب مولانا جس قدر اسلام کے پیروکار ہیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں! یہ شراب کی بوتلوں کے ساتھ پکڑے جائیں تو بھی اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا! جھومتے جھامتے ٹی وی پہ آکر بیان دئیے جائیں تو بھی اسلام سلامت رہتا ہے! ڈیزل، پلاٹوں، حکومتوں کے سکینڈلز آنے جانے سے بھی اسلام پر آنچ نہیں آتی! آنچ صرف تب آتی ہے جب مردانہ انا پہ کاری ضرب پڑتی ہے اور حقوق نسواں پہ کوئی بل آجاتے تو مردانہ انا کی طبع نازک کو بڑا ناگوار گزرتا ہے! اور جونہی حکومت کی ان اسلام کے ٹھیکیداروں کے ساتھ کوئی ڈیل عرف عام میں "مک مکا" ہو جائے گا تو آپ دیکھئے گا کہ کیسے تعبیروں کا نیا نظام کھڑا ہو جائے گا! پھر اسلامی شرع، کلچر، معین حدود سب بکسے میں محفوظ ہو جائیں گی اور ذہین مولوی بھولی عوام کو کوئی نہ کوئی لولی پاپ تھما ہی دے گا! وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ بادشاہ وقت نے اپنے وقت کے مفتی عظیم کو تلوار کی نوک پر حکم دیا کہ چار بیویوں کی حد کو ختم کرنے کی کوئی تجویز نکالو۔ مفتی وقت اتنا ذہین تھا کہ اُس نے دو ، دو، تین، تین، چار، چار کے درمیان جمع لگا دیا اور ازدواجی تعداد کو سولہ تک پہنچا دیا ۔ ہائے یہ ہوس زندگی اور ہوس جاہ و عشرت ! چلئے مولوی سے کیا گلہ کیجئے مولوی تو بادشاہ گر ہے! میرے گزشتہ کالم پر ہمارے عام مرد حضرات کو بھی بہت تکلیف ہوئی اور طبع نازک پر بہت ناگوار گذریں میری کڑوی باتیں! ہاں کچھ بہت اچھے اور علم و فضل میں اس مردانہ انا سے اوپر انسانی آنکھ سے دیکھنے والے صاحب علم و فضل نے بہت حوصلہ افزائی کی! لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ عام مردانہ ذہن بھی آڑ فوراً مذہب کی لیتا ہے لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ میرے کالم سے اسلام کو کیا خطرہ پیدا ہوا اور مغرب پسندی کی بُو کہاں سے آگئی، چلئے میں مردانہ غیرت و شرم و حیا کی بات نہیں کرتی کہ طبع نازک کو ناگوار گزرتا ہے۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا عورت کے انسان ہونے کی بات کرنا خلاف شرع و سماج ہے؟ کیا عورت کو کسی پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی بات خلاف شرع و مغربیت پسند ہے؟ کیا آپ کے غلیظ مردانہ محاوروں کی بات کرنا خلاف شرع و مشرق پسندی کے خلاف ہے؟ کیا نئی مذہبی تعبیروں کو جنم دینے کی بات کرنے سے اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے؟ کیا مرد کو انسانی برادری کا نر کہنا خلاف اسلام ہے؟ کیا گھر کے سب سے اہم فرد پہ تشدد کی مذمت کرنا خلاف مشرق و خلاف اسلام ہے؟ گر آپ کا جواب نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو پھر اسلام اور مغرب پسندی کہاں سے آ گئی؟ گویا جس بات کا ذکر سارے فسانے میں نہیں تھا وہ ان کی "طبع نازک" کو بہت ناگوار گزری ہے! ایسے تو برسبیل تذکرہ اُس ون ڈش ضابطے کی بات بھی کرنی پڑے گی جو  پابندی کی صورت شادی بیاہ پہ لگی تھی اور ہماری مشرقیت تلملا اٹھی تھی کہ ہم تو نانا جی کی فاتحہ پہ بھی عمر بھر کے قرضے سود پہ اٹھانے کے عادی ہیں مگر پھر اِسکی افادیت میں بہت سے سفید پوشوں اور غریبوں نے اپنی بیٹیاں عزت سے بیاہ دیں تھیں مگر اُس وقت یہ ہماری طبع نازک پہ بہت ناگوار گزرا تھا! لیکن میرا سوال آج اس مردانہ غیرت یا طبع نازک سے ہے؟! یہ غیرت اُس وقت کہاں جاتی ہے جب آپ کے گھر کی خواتین رکشوں، بسوں، لوکل سواریوں میں جاتی ہیں، مردانہ غلیظ نظروں و جملوں کو برداشت کرتی ہیں! یہ ہمارے معاشرے و ملک کا ایک اور فرسودہ اور سڑاند دیتا رواج و خیال ہے کہ وہ عورت جو کہ خلا تک قدم رکھ چکی ہے ، جہاز اڑاتی پھرتی ہے، اپنی سواری کا استعمال اُس کے لیے معیوب سمجھا جاتا ہے اور مردانہ غیرت پہ تازیانے کی طرح لگتا ہے، ایسی عورتوں کو "چالو" اور جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا جاتا ہے! ذرا سوچئے کہ گر وہ تمام کام کرنے والی خواتین ، مزدور پیشہ خواتین اپنی حیثیت و اوقات کے مطابق سائیکل یا موٹر سائیکل رکھیں ، استعمال کریں تو یہ نہ صرف اُن کی خود انحصاری ، اعتماد کو جلا بخشے گا بلکہ وہ بس، وین اور رکشہ ڈرائیور حضرات کا خباثتوں اور سوار مردوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو جائیں گی! آخر ہمارے پڑوسی ممالک ہندوستان، چین، جاپان میں بھی تو یہ رواج ہے، ہندوستان میں بہت سے علاقوں میں ویسپا نما سکوٹر جو خواتین کے لیے مخصوص ہے خواتین کے لیے کس قدر سہولت میسر کر رہاہے، چین و جاپان میں خواتین سائیکل کا استعمال کثرت سے کرتی ہیں!یہ نہ صرف آلودگی کے لیے ایک صحت مند عمل ہے بلکہ اپنی سواری آپ کو بہت حد تک خود انحصار کر دیتی ہے! ہمارے ملک میں یہ رواج کیوں نہیں پنپ سکتا؟ کیوں مردانہ غیرت پہ زنانہ سواری تازیانہ بنتی ہے؟ اِس طبع نازک پہ غیر، نامحرم ڈرائیور کے ہونے پہ اثر کیوں نہیں پڑتا؟ بات بڑے شہروں کراچی، اسلام آباد، لاہور کی نہیں کر رہی، ان شہروں میں بھی خواتین کی اکثریت گاڑیوں میں تو نظر آ جائے گی! مگر گاڑی غریب و نچلے متوسط طبقہ کی پہنچ سے باہر ہے! سائیکل اور موٹر سائیکل خواتین کے لیے تیار کردہ موٹر سائیکل نہ صرف کاروباری اور معیشت کے لیے اِک صحت مند رحجان ہوگا بلکہ معاشرے میں بھی یہ اِک انقلابی عمل کے مترادف ہوگا!ہماری حکومت وقت کو صرف بل لانے پہ اکتفا نہیں کرنا چاہئیے بلکہ ایسے موثر اقدامات کرنے چاہئیے کہ یہ صنعت نہ صرف رواج پائے بلکہ خواتین کی خود انحصاری کی طرف اِک مضبوط و موثر قدم ہو آخر اتفاق فائونڈری کا لوہا ملک کی بیٹیوں کے کچھ تو کام آئے!گر بڑے شہروں میں خوااتین گاڑی چلا سکتی ہیں تو سائیکل اور موٹر سائیکل کیوں نہیں؟ لیکن یہ مردانہ تعصب ہی ہے کہ ہم نے خواتین ڈرائیورز کے متعلق اُسی طرح لطیفے مشہور کر رکھے ہیں جیسے سکھوں اور پٹھانوں کی حماقتوں کے قصے! جبکہ عمومی رویہ اِس کے برعکس ہے خواتین ڈرائیونگ سیٹ پہ بہت ذمہ داری کے ساتھ بیٹھتی ہیں یہ جانتے ہوئے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں الزام ہر صورت میں اُن پہ آئے گا! میں نے خود ڈرائیونگ جب سیکھی تو بہت ذوق و شوق سے سیکھی تھی مگر اُس وقت تک لاشعوری طور پہ خوفزدہ رہی جب تک میاں جی نے یہ سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا کہ بچو تمہاری ماں اِک محتاط اور اچھی ڈرائیور ہے! مگر کیا کیا جائے کہ معاشرتی رویے یہ ہیں کہ خاتون کو ڈرائیونگ سیٹ پہ دیکھ کر چنگ چی رکشہ تک آنکھیں مارتا ہے گدھا گاڑی والا اپنے گدھے سمیت بدمست ہو جاتا ہے، سائیکل ، موٹر سائیکل سوار خواہ مخواہ ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں یہ رویے آپ کو چھوٹے شہروں میں عام نظر آ جائیں گے۔ اِس معاملے میں ہم عربی بدوں سے مختلف نہیں! مگر سوال پھر مردانہ غیرت سے ہے کہ آپ یہ محسوس نہیں کرتے کہ اِس رویے کو بدلنا چاہئیے؟ عورتوں کی اپنی جیب و استطاعت کے حساب سے سواری کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئیے؟ اور یہ کہ مردانی غیرت نامحرم ڈرائیور کے ساتھ تو مطمئن رہتی ہے مگر عورت کی اپنی سواری کیوں طبع نازک پہ ناگوار ہے؟

آپکی طبع نازک سےایک سوال” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 21, 2016 at 5:37 PM
    Permalink

    بہت عمدہ کالم لکها ہے آپ نے اور ایک آنکهیں کهولنے والا سوال بهی پوچه ڈالا کہ آخر سائیکل یا موٹر سائیکل عورتیں کیوں نہیں چلا سکتیں
    اسی جرات اور استقامت کے ساته لکهتی رہیں
    خدا آپ کا حامی و ناصر ہو

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *