ضرب ِ عضب کا خوف

Najam Sethi
چیف آف آرمی اسٹاف ، جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ فاٹا میں فوجی آپریشن کامیابی سے اپنے آخری مراحل کی طرف بڑھ رہاہے۔ اُنھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے دستے افغان سرحد کے نزدیک واقع وادی ٔ شوال، جس میںبہت سے پاکستانی اور افغان طالبان چھپے ہوئے ہیں ، پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے قریب ہیں۔ یہ بلاشبہ اچھی خبر ہے۔ ضرب ِ عضب کا آغاز 2014ء کے متذبذب ماحول میں ہوا۔ سابق چیف، جنرل اشفاق کیانی نے گو کہ تسلیم کیا کہ ’’طالبان ملکی سلامتی کو لاحق داخلی خطرہ‘‘ ہیں لیکن اس خطرے سے نمٹنے کے لئے دوٹوک فیصلہ نہ کرپائے۔چنانچہ اُن کے دورمیں سوات آپریشن کے علاوہ اس خطرے کے تدارک کے لئے بھرپور ریاستی طاقت کا استعمال دیکھنے میں نہ آیا۔
جنرل راحیل شریف کے منصب سنبھالتے ہی تمام موڈ تبدیل ہوگیا۔ اُنھوں نے فوراً ہی انتہا پسندوں کے خاتمے کے لئے فاٹا میں آپریشن ضرب ِ عضب کے عز م کا اظہار کیاتاہم عمران خان، جماعت ِاسلامی ، جے یو آئی اور دیگر مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی ۔ یہ جماعتیں پاکستانی طالبان کے خلاف آپریشن کی بجائے اُن کے ساتھ پرامن مذاکرات کرنا چاہتی تھیں، حالانکہ ماضی میں درجنوں مرتبہ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔اس کے باوجود ان جماعتوں کا اصرار تھا کہ طالبان کے خطرے کے تدارک کے لئے بات چیت ہی بہترین حکمت ِعملی ہے۔یہ صورت ِحال مزید بگاڑ کی طرف چلی گئی جب وزیر ِاعظم نواز شریف بھی ضرب ِ عضب کے لئے گرین سگنل دینے کے بعد عین لمحے پر ڈگمگا گئے ۔ اُنھوں نے چوہدری نثار علی خان کو مذہبی رہنمائوں کے ایک گروہ کے ہمراہ طالبان سے بات چیت کرنے کا ٹاسک دیا۔ اس دوران اسلام آباد کے تذبذب اور عدم فعالیت کا فائدہ اٹھا کر طالبان میر علی، میران شاہ اور شوال وادی میں پھیل گئے اور اپنے قدم جما لئے۔ چھ ماہ بعد آرمی پبلک اسکول پشاور پر طالبان کے اندوہناک حملے نے سویلینز کا شک دور کردیا ۔ چنانچہ جنرل راحیل شریف نے پوری توانائی کے ساتھ طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا۔
ضرب ِ عضب ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہوئی حالانکہ سیاسی طبقے کے شش و پنج کی وجہ سے دشمن کو اچانک جالینے کا موقع ضائع ہوچکا تھا۔فوج کے پرعزم آپریشن کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے۔ ان علاقوں سے طالبان کا صفایا ہونے لگا۔ بہت سے ہلاک یا گرفتار ہوئے ، کچھ بھاگ کر افغان علاقوں میں چھپ گئے۔ اس علاقے میں سیکورٹی فورسز نے خود کش جیکٹس بنانے کی فیکٹریاں، بارودی مواد، ہتھیاروں کے ذخیرے اور طالبان کی پناہ گاہیںبھی تباہ کردیں۔ اس کے علاوہ دوسرے صوبوں میں انتہا پسندوں کی خفیہ پناہ گاہوں پر بھی کارروائی کی گئی۔ آج اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک بھر میں انتہا پسندوں کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوگئی ہے۔
خبر ہے کہ اب جنرل راحیل شریف اس کثیر الجہت آپریشن کے اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ جنرل صاحب نے زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔’’ ہم نے فاٹا میں وسیع پیمانے پر موثر فوجی آپریشن کرتے ہوئے فعال دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا ہے ، لیکن اب ہم نے اس کامیابی کو مستحکم کرتے ہوئے دیر پا امن قائم کرنا ہے۔‘‘اس کا مطلب ہے کہ فاٹا کے علاوہ تمام ملک میںانٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی اور دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا جائے گا۔ انسداد ِ دہشت گردی پلان کے تین پہلو ہیں۔ پہلا ، بے گھر ہونے والوں کی گھر واپسی۔ فوج حکومت پر زور دے رہی ہے کہ اس مقصد کے لئے فنڈز جاری کرے۔دوسرا پہلو ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کی رفتار تیز کرنے کے متعلق ہے۔کراچی میں اس کی رفتار میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں رینجرز برق رفتار آپریشن کررہی ہے ، لیکن ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں پولیس اور حساس اداروں اور سویلینز کے درمیان تنائو دکھائی دیتا ہے۔ اب فوج چاہتی ہے کہ پنجاب میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے جائیں،لیکن اسے پی ایم ایل (ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مزاحمت کاسامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں پولیس اور سی آئی ڈی دفاعی اور حساس اداروں کے تعاون سے موثر کارروائیاں کررہی ہیں۔ تیسرا پہلو انڈیا اور افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ سے متعلق ہے۔ فوج افغان طالبان پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میزپر بیٹھیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ میز پر چین، امریکہ اور پاکستان کے نمائندے بھی موجود ہوں گے ۔ اس طرح یہ چہار فریقی مذاکرات خطے میں پائیدار قیام ِامن کے لئے ضروری ہیں، لیکن اس کے لئے افغان طالبان کا آمادہ ہونا ضروری ہے۔ فی الحال اس طر ف سے حوصلہ افزا اشارے نہیں مل رہے ۔
جہاں تک بھارتی محاذکا تعلق ہے تو پاک فوج انتہا پسندوںکو لگام ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ انڈیا کے ساتھ جامع مذاکرات کا عمل شروع ہوسکے۔یہاں بھی طرفین کے درمیان اعتماد کے فقدان کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور سویلین مکمل طور پر ایک پیج پر نہیں۔ فو ج کا خیال ہے کہ وزیر ِ اعظم بھارت کے ساتھ معاملات میں ضرورت سے زیادہ نرم ہیں،اوراس کے پیچھے وزیر ِاعظم کے مبینہ طور پر اپنے مفادات بھی شامل ہیں۔ وزیر ِاعظم پاکستان کا خیال ہے کہ انڈیا کے ساتھ سخت موقف رکھنا اسٹیبلشمنٹ کی سرشت میں شامل ہے، لیکن تبدیل ہوتے ہوئے داخلی اور عالمی حالات میں یہ ممکن نہیں رہا۔ دوسرے الفاظ میں، ضرب ِ عضب آپریشن فاٹا میں تو بہت بڑی کامیابی حاصل کرچکاہے لیکن باقی ملک میں کچھ مسائل باقی ہیں۔ سویلینز کو خدشہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سندھ میں رینجرز اور نیب کی کارروائیوںکے بعد اب پنجاب میں بھی یہی اقدامات اٹھائے گی۔ اسے ایک طرح کا ’’بتدریج پیش قدمی کرنے والا نرم شب خون‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ ضرب ِعضب کی مکمل کامیابی کے لئے اس خوف سے نجات پاناہوگی۔ - See more at: http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=344900#sthash.zU80MSB4.dpuf

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *