قصور عام آدمی کا ہے

imad zafar

انگریزی کا ایک مشہور محاورہ ہے کہ the dust is settled now. مشرف کے جانے کے بعد یہ ڈسٹ سیٹل ہو چکی اور ہمیں اس سے یہ سبق حاصل ہوا کہ جمہوریت نام کی کوئی بھی چیز وطن عزیز میں نہ پہلے تھی اور نہ آج ہے. جمہوریت عوام کے نمائندوں کو عوام کے زریعے چن کر ان کے ہاتھ میں مملکت کی باگ دوڑ دینے کا نام ہے. بدقسمتی سے یہ تعریف ہمارے ہاں صرف کتابوں یا نعروں میں ہی دکھائی دیتی ہے حقیقت سے اس کا دور دور تلک کوئی واسطہ نہیں. وطن عزیز میں انتخابات کیلئے مہم چلانے سے لیکر انتخابات جیتنے تک خود ساختہ عوامی نمائندوں کو پس پشت قوتوں کی تھپکیاں درکار رہتی ہیں. یوں سیاسی کٹھ پتلیاں پس پشت قوتیں اور سرکاری منشی جنہیں عرف عام میں بیوروکریٹس یا ٹیکنو کریٹس کہا جاتا ہے مل جل کر ایک استحصالی اور جابرانہ نظام کو قائم دائم رکھنے کیلئے اپنی پوری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں. کمال کی بات یہ ہے کہ عوام خود اس استحصالی نظام کی بقا کیلئے ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں. برصفیر پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے آزادی کی لڑائی لڑنے والے بھگت سنگھ نے بہت عرصہ قبل کہ دیا تھا کہ سامراج سے آزادی جھوٹی اور مصنوعی ہے آپ گوروں کی غلامی سے نکل جائیں گے لیکن اشرافیہ کی غلامی میں آ جائیں گے. اور بھگت سنگھ کی بات ہو بہو سچ ثابت ہوئی. برصفیر پاک و ہند تقسیم ہوا اور پھر پاکستان میں صرف چہرے بدلے قانون اور نظام وہی سامراجی رہا. پاکستان کے قیام کی ابتدا ہی سے نواب وڈیرے سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے اور سیاست کو گھر کی لونڈی بنا ڈالا. غلام محمد بوگرہ سے سکندر مرزا تک سیاسی تاریخ نے وہ داستانیں رقم کیں کہ جن کے آگے مغل شہنشاہوں کی عیاشیوں اور خرمستیوں کی کہانیاں بھی بہت ہیچ اور معمولی نظر آتی ہیں.پھر سرحدوں کے محافظوں نے سیاسی رنگیلوں کی چھٹی کروائی اور ایوب خان سے لیکر آج تک کبھی مارشل لا کی صورت میں اور کبھی محض کٹھ پتلیوں کی باگیں ہلا کر اس نظام پر بلا شرکت غیرہ حاکم بنے بیٹھے ہیں. اسی اثنا میں بیوروکریسی میں بھی اشرافیہ کے بچے شامل ہوئے یوں اقتدار اور اس گلے سڑے نظام کی ایک مثلث قائم ہوئی. 70 کی دھائی میں کولڈ وار اور خلیجی اور عرب ریاستوں میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد کے وہاں جانے کے بعد اس نظام میں مذہبی چورن فروشوں کا بھی اضافہ ہو گیا اور یوں معاشرے اور مملکت پر مذہبی رنگ بھی چڑھا دیا گیا. یہ مختصر سی تاریخ بیان کرنا یوں بھی ضروری تھا کہ پاکستان میں ہم جب نظام کے ناکارہ ہونے کی بات یا بحث کرتے ہیں تو اکثر اس نظام کو جلا بخشنے والی قوتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں.یہ جابرانہ اور استحصالی نظام سیاست دانوں، جرنیلوں منشیوں اور مذہبی اجارہ داروں کے بل پر قائم دائم ہے اور رہے گا. ہم لوگ اپنی تاریخ اور ماضی سے کیونکہ سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے اس لیئے کبھی بھی تقسیم پاک و ہند کے اسباب کا جائزہ بھی صدق دل سے لینے کی کوشش نہیں کرتے. وگرنہ بہت سے عوامل ہیں جن پر بحث کی جا سکتی ہے اور تقسیم پاک و ہند کے نتیجے میں کون کون سی عالمی طاقتوں کو فائدہ ہوا اس پر انتہائی مدلل اعدادو شمار حاصل کیئے جا سکتے ہیں. اس نظام کو چاہے وہ جمہوریت کے لبادہ اوڑھ لے یا پھر آمریت کا اس کو بچانے میں یا اس کو چلانے میں ہمیشہ عالمی قوتوں کا ہی خفیہ ہاتھ کیوں شامل ہوتا ہے غالبا یہ اندازہ لگانا ہر چند بھی مشکل نہیں. یعنی آسان الفاظ میں یہ گلا سڑا نظام عالمی طاقتوں کی پشت پناہی اور ان کی دی ہوئی بھیک پر چلتا ہے. اب جو طاقتیں بھیک دے کر اس نظام کو چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں ان کا یقینا کوئی نہ کوئی فائدہ تو اس نظام اور اس کو چلانے والوں سے جڑا ہوا ہے. کبھی مارشل لا کبھی جمہوریت اور کبھی جہاد ان سب ڈوروں کی باگیں جن عالمی قوتوں کے ہاتھوں میں ہیں وہ مفت میں تو سیاسی فوجی یا مزہبی نابغے پالنے سے رہیں. آخر کو یہ اوپن مارکیٹ اکانومی کا دور ہے جہاں ہر شے کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے. عالمی منڈی میں آزادی کے خوابوں سے لیکر جمہوریت اور مزہبی حکمرانی کے خوابوں سے لیکر انسانی حقوق کے خواب سب بکتے ہیں اور خریدے جاتے ہیں. معاشیات کے بنیادی اصول کے مطابق ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے. تییسری دنیا کی اقوام اس عالمی منڈی میں مصنوعات کی حیثیت رکھتی ہیں جنہیں جب چاہے خریدا اور بیچا جاتا ہے. کبھی انہیں جہاد کا چورن بیچ کر افغانستان کے وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے تو کبھی ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن اور ایک آمر کے کیمیائی ہتھیاروں کا خوف دلا کر تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا جاتا ہے. ہمارے وطن میں کوئی مارشل لا آئے تو بھی انہی عالمی طاقتوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے آتا ہے اور جمہوریت بھی انہی کے فائدے کیلئے آتی ہے. کبھی یہ عالمی طاقتیں جہاد کی انڈسٹری پروان چڑھانے پر مصر دکھائی دہتی ہیں تو کبھی لبرل اور سیکیولر انڈسٹری. یوں اس وطن کے نظام کو چلانے والے وقتا فوقتا قوم کو یہ سمجھانے میں مصروف رہتے ہیں کہ جہاد جب تک ڈالرز یا ریال ملیں تو جائز ہے اسی طرح اگر ڈالرز یا ریال ملیں تو لبرلزم وقت کی ضرورت ہے. عالمی قوتوں کو کرائے کے جنگجو اور مزدور ہمیشہ ہی سے درکار رہتے ہیں جو ان کے حصے کی لڑائیاں لڑیں اور زمانہ قدیم کے غلاموں کی طرح خزانے کو غار کے دھانے تک ڈھونے کی محنت. ایسے میں یہ عالمی طاقتیں ہمارے اس نظام اور استحصال کو جائز بنانے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ لگڑ بھگے بھی تیار کرتی ہیں جو قوم کو ہمہ وقت یہ بتانے میں مصروف رہتے ہیں کہ عالمی قوتیں ہم سے بے حد خائف ہیں. خود فریبی کی عادت میں معاشروں کو مبتلا کر کے یہ لگڑ بھگے اپنے نمک کا حق ادا کر دیتے ہیں. یہ تصویر ہے اس نظام کی جو ہمارے ہاں قیام پاکستان سے نافذ ہے اس نظام کو بدلنے کے دعوے کرنے والے آج تک جتنے بھی لوگ آئے ہیں وہ خود اس نظام کا حصہ تھے اور ہیں اس لیئے اس نظام کو بدلنے کے بجائے اسے مضبوط بناتے ہیں تا کہ آقا اور محکوم کا رشتہ ہمیشہ قائم رہ سکے. ایک مزدور کا بیٹا مزدور اور کلرک کا بیٹا کلرک رہے تو یہ نظام پنپتا ہے اور چلتا رہتا ہے. اکثر چند مزدوروں اور کلرکوں کی اولادوں کو یہ نظام کچھ اوپر تک آنے کی اجازت بھی دیتا ہے تا کہ معاشرے میں بسنے والے افراد کو یہ نظام کھوکھلا محسوس نہ ہو. کبھی تبدیلی کبھی روشن پاکستان کبھی سب سے پہلے پاکستان اور کبھی زندہ ہے بھٹو کے نعرے مارنے والے اپنے اپنے مفادات اور خواہشات کو پورا کرنے کے بعد نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں اور ایک عام آدمی محض آنے والے اچھے دنوں کے خواب ہی دیکھتا رہتا ہے.پچھلے اڑسٹھ برسوں سے یہ عام آدمی صرف خوابوں پر گزارا کر رہا ہے. محض نعروں پر پیٹ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے. یہ عام آدمی ایک معمولی سے جھوٹے الزام پر بھی تھانوں اور عدالتوں کے چکر سالہا سال کاٹتا ہے اور اپنے سامنے مشرف یا دیگر اشرافیہ کو کھلے عام گھومتے دیکھتا ہے لیکن چپ رہتا ہے.دفاتر ممیں سرکاری بابووں اور منشیوں سے ذلیل ہوتا ہے لیکن اف تک نہیں کرتا. سرکاری خزانوں کو لوٹنے والوں کو یہ عام آدمی ہیرو بنا دیتا ہے اور اپنے جیسے عام آدمی کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتا. یہ عام آدمی اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگی کو محض روٹی پانی پورا کر دینے میں گزار کر خوش ہو جاتا ہے .اس عام آدمی کی نفسیات کو قابو کرنے کیلئے یہ نظام خوب ایمانداری سے کام کر کے اسے کولہو کا بیل بنائے ہی رکھتا ہے. جب وطن عزیز میں بسنے والے کڑوڑہا افراد کی نفسیات ہی ایسی ہے تو انہیں غلامی یا جبر پر قائم اس نظام سے شکایت کیسی.کیونکہ ظالم وہ نہیں ہوتا جو ظلم کرتا ہے بلکہ ظالم وہ ہوتا ہے جو ظلم سہتا ہے.اور آج کی دنیا میں سوچ نہ رکھنے والے افراد اور معاشرے اپنے ساتھ خود ہی ظلم کرتے ہیں.کیونکہ محنت تو گدھا بھی خوب کرتا ہے لیکن اس کے پاس سوچنے کی صلاحیت نہیں اس لیئے جس کا دل چاہے اس سے اپنی مرضی کابوجھ لدھوا کر لات رسید کر دیتا ہے.یہی حال معاشروں اور اقوام کا بھی ہوتا ہے.اس لیئے ہمارے اوپر اس گلے سڑے نظام کے مسلط ہونے کا زیادہ قصور عام آدمی کا ہے کسی بھی سیاسی مزہبی دفاعی یا سرکاری ٹھگ کا نہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *