تیل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات کہاں ہیں؟

asghar khan askari
حکومت نے اس مہینے یعنی مارچ2016 ء میں پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں اچھی خا صی کمی کی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لٹرکمی کر دی گئی ہے۔ اسی طر ح ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنو عات کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس مہینے بجلی کی قیمت میں بھی کمی کا اعلان کیا ہے۔اس مہینے بجلی کی قیمت میں دو روپے فی یو نٹ کی کمی کر دی گئی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا پیٹرولم مصنو عات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو کوئی ریلف ملا ہے؟کیا پیٹرولیم مصنو عات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے مہنگا ئی میں کو ئی کمی واقعہ ہو ئی ہے؟دونوں سوالوں کا جو اب نفی میں ہے۔ مہنگائی کو سیٹھ لوگ بجلی اور پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں میں اضا فے کا سبب بتا تے ہیں۔لیکن ان دونوں کی قیمتوں میں کمی کے با وجو د اشیا ء خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔حا لا نکہ گز شتہ کئی مہینوں سے حکو مت مسلسل پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں میں کمی کر رہی ہے ، اس کے با وجود مہنگائی میں کمی نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔وجو ہات کیا ہے؟میرے خیال میں مہنگا ئی کا خا تمہ اور عوام کو ریلف دینا حکومت اور اپو زیشن دونوں کی تر جیحا ت میں شا مل نہیں ہے۔سب سے پہلا فر ض وفاقی حکومت کا ہے ،کہ پیٹر ولیم مصنو عات کی قیمتوں میں کمی کے بعد صو با ئی حکو متوں کو پا بند کر تی کہ وہ اشیا ء خورد و نو ش کی قیمتوں میں منا سب کمی کریں ۔تا کہ آٹھ روپے میں سے کم از کم تین روپے سیٹھوں کی بجا ئے عوام کو ریلف مل جا تا ، لیکن ایسا نہیں کیا جا سکا۔اس لئے کہ وفاقی حکومت بہا نہ بنا کر کہہ دیتی ہے کہ ہم نے تو پیٹرولیم مصنو عات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے اب صو با ئی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمتوں میں کمی کر یں۔ما نا کہ مہنگا ئی کو کنٹرول کر نا اب صو با ئی معاملہ ہے ،لیکن وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معا ملے میں صو بوں کی رہنما ئی کر یں۔پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں میں کمی کے با وجود ٹرانسپوٹر کر ایوں میں کمی کے لئے تیار نہیں ہے۔انٹر اسٹی ٹرا نسپورٹ میں کر ایوں میں صرف ایک روپے کی کمی کر دی گئی ہے، جو کہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ہو نا تو یہ چا ہئے تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں آٹھ روپے کمی کے بعد کر ایوں میں کم از کم تین روپے کمی کر دی جا تی ، لیکن ٹرانسپورٹ ما فیا کے سا منے ضلعی انتظا میہ اورصو بائی محکمہ ٹرانسپورٹ بے بس ہے۔آئے روز سواریوں اور کنڈیکٹروں میں لڑا ئی جھگڑے معمو ل بن چکے ہیں ، لیکن کو ئی شنوائی کر نے والا نہیں ہے۔اسی طر ح اشیا ء خورد و نو ش کی قیمتوں میں بھی ابھی تک کو ئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ دالیں ،دودھ ، دہی، آٹا، چینی،چا ول ، چا ئے کی پتی اور پیک والے دودھ کی قیمتوں میں کمی کی بجا ئے اضا فہ ہو رہا ہے۔ اسی طر ح خوردنی تیل ، گھی،صابن اور دوسرے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کو ئی کمی نہیں کر دی گئی ہے۔حا لا نکہ صو با ئی حکومتوں کو چا ہئے تھا کہ پیٹرولیم مصنو عات اور بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد اشیا ء خورد ونو ش کی قیمتوں میں کمی کر نے کے لئے ضروری اقدامات کر تے ، لیکن ابھی تک چا روں صو با ئی حکومتیں ایسا کر نے میں مکمل طور پر نا کام ہے۔وفاقی اور صو با ئی حکو متوں کے بعد قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صو با ئی اسمبلیوں میں اپوزیشن جما عتوں کا فر ض تھا کہ وہ حکومت پر دبا ؤ بڑ ھا تے کہ پیٹر ولیم اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بعد اشیا ء خورد و نو ش اور کر ا یو ں میں منا سب کمی کر یں۔لیکن قومی اسمبلی سینیٹ اور چا روں صو با ئی اسمبلیو ں میں اپو زیشن عوام کے لئے آواز بلند کر نے میں ابھی تک نا کا م ہے۔پنجاب کے خا دم اعلیٰ کو خوا تین کے تحفظ ،پلوں اور سڑکیں بنا نے سے فر صت نہیں۔پنجاب میں اپوزیشن جما عت تحریک انصاف ابھی تک دھاندلی کے نر غے میں ہے۔لا ہو ر ٹرین منصو بے کے خلاف آئے روز احتجاج کر تے ہیں ، لیکن اشیا ء خورد و نو ش کی قیمتوں میں کمی کے لئے نہ ایوان کے اندر آواز بلند کر تے ہیں اور نہ ہی ایوان کے با ہر۔ بلو چستان کے حکمران کو امن و امان کی فکر پڑی ہے ۔ اس لئے ان کو معلوم ہی نہیں کہ صو بے کے عوام کو کھا نے پینے کے لئے کم قیمت پر اشیا ء فراہم کر نا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔معلوم نہیں وہا ں کی اپو زیشن ایوان میں آتی بھی ہے کہ نہیں، اس لئے کہ بلو چستان میں مضبو ط اپو زیشن کے ہو تے ہو ئے بھی کو ئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہو رہی ہے ۔سند ھ کی سر کار کو رینجر ز اور نیب سے اپنے لو گوں کو بچا نے سے فرصت نہیں مل رہی ہے۔وزیر اعلیٰ جب بھی وزیر اعظم سے ملا قات کر تے ہیں ایک ہی رونا روتے ہے کہ رینجرز اور نیب کو سند ھ میں کارروائیا ں کر نے سے منع کر یں ۔ ڈاکٹر عا صم کو رہا کر یں ۔ ان کے خیال میں بس یہی دو مسا ئل ہے ، کہ جس کے حل ہو نے کے بعد ان کے صو بے میں دودھ اور شہد کی نہریں ہو نگی۔ سند ھ میں اپو زیشن جما عت ایم کیو ایم اس وقت اپنی بقا ء کی جنگ لڑ رہی ہے اس لئے ان کے پا س عوام کے لئے کو وقت نہیں ہے۔خیبر پختون خوا میں امن بھی ہے۔ اس لئے کہ پو لیس سد ھر گئی ہے۔ اب دھما کے بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اس لئے کہ پو لیس اپنا کا م کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کی سو ئی ایک ہی نقطے پر اٹکھی ہو ئی ہے ، کہ وفاقی حکومت سے تما م واجبات وصول کر یں۔ اچھی کا وش ہے ،لیکن دنیا میں اور بھی غم ہے محبت کے سوا۔ان کو تھوڑا سا وقت اس کے لئے بھی نکال لینا چا ہئے کہ مہنگا ئی بھی عوام کا ایک مسئلہ ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اپو زیشن جما عتیں ، جس میں پیپلز پار ٹی ، تحریک انصاف اور جما عت اسلا می شا مل ہیں۔ان کا فر ض بنتا ہے کہ وہ حکومت سے اس بار ے میں پو چھ گچھ کر یں۔ لیکن یہ تما م جما عتیں بھی اس عوامی مسئلے کی طر ف تو جہ نہیں دے رہے ہیں۔اس لئے کہ حکو مت اور اپو زیشن میں شامل جما عتوں کا مسئلہ مہنگا ئی کا خا تمہ نہیں ، بلکہ پر ویز مشرف،ممتاز قادری کی پھا نسی،خواتین بل اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضا فہ ہے۔پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جما عتوں نے اپنے مسا ئل کو عوامی بنا کر ملک کے عوام کو یر غمال بنا یا ہو ا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *