آج پانی کا عالمی دن ہے

Water
ہر سال کی طرح 22مارچ کو  پانی کے عالمی دن کے موقع پر پانی کے تحفظات اور ضرورت و اہمیت اجاگر کرنے کیلئے دنیا بھر میں واٹر واک، سیمینارز، فورمز اور گول میز کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا ۔پانی کی افادیت و اہمیت اور بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر بھارت سمیت اکثر ممالک نے اپنے قانون میں پانی کو قومی اثاثہ قرار دیا ہے۔لیکن پاکستان میں آبی و سائل کی ترقی اور دریائوں کے تحفظات کیلئے کوئی خاطر خواہ عملی اقدامات نہیں کیئے گئے۔ ان خیالات کا اظہار ورلڈ واٹر اسمبلی کے ڈائریکٹر  محمد یوسف سرور نے اپنے خصوصی بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی کی کمی اور پانی کی آلودگی بڑا مسئلہ بن کر سامنے آچکا ہے ملک پینے کے صاف پانی کے سنگین بحران سے دو چار ہے۔صاف و شفاف پانی ملک کے صرف 16%شہریوں کو دستیاب ہے۔آلودہ اور زہر یلا پانی پینے سے ہلاکتوں میں بے پنا اضافہ ہوا ہے۔عوام مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر زندہ لاشے بنتے جا رہے ہیں۔ زیر زمین پانی میں زہر یلا مواد اور فضلہ شامل ہونے سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور زیر زمین پانی کی ری چارجنگ نہ ہونے سے پانی زہریلا اور کڑوا ہو چکا ہے۔ اس نعمتِ خداوندی کو نہ بچایا گیا تو خدشہ ہے کہ 2025 تک پانی صرف بوتل ہی میں دستیاب ہو گا۔ محمد یوسف سرور نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آبی مسائل کے پیش نظر اقوام متحدہ کو اپنے چارٹر میں اصلاحات کرنا ہو گی چونکہ131ممالک پانی کے مسائل سے دو چار ہیں۔ اور جنوبی ایشیائ میں دنیا کا بڑا واٹر سیکٹر تباہی کے دہانے پر ہے جس سے کڑوڑوں انسانوں کو زندگی اور موت کا مسئلہ در پیش ہے جس کو نہ سلجھایا گیا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔چونکہ عوام بھوکے اور پیاسے مرنے کی بجائے لڑ کر مرنا پسند کریں گے۔ پاکستان میں چولستان، تھر اور بلوچستان میں اسطرح کی جھلک پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ 4696افراد اور لاکھوں جانور اور چرند پرند لقمہ اجل ہو گئے تھے۔ پاکستان کو آئیندہ چند سالوں میں ایسے ہی حالات کا مسلسل سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف پانی کے ضیاع میں بے پنا اضافہ لمحہ فکریہ ہے ایک سروے کے مطابق جب سے ٹائون اور یونین کونسل سطح پر ٹیوب ویل کے ذریع واٹر سپلائی سسٹم شروع ہوا ہے عوام  بب کاک کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ضرورت کا پانی بھرنے کے بعد باقی پانی سیوریج کی نذر ہو جاتا ہے ۔انڈسٹریل سطح پر بھی پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کی ری سائیکلنگ کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں 22مارچ سے29مارچ تک قومی ہفتہ برائے آب منایا جائے گا۔ جس میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *