سی ایس ایس کے متعلق غلط فہمیاں

"احمد علی کورار"
گزشتہ دنوں جب سی ایس ایس 2019 کا فائنل رزلٹ آیا تو سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک سی ایس ایس کولیفائیڈ نوجوان زوہیب قریشی نوجوانوں کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ ہمت نہ ہاریں محنت جاری رکھیں ایک دن آپ ضرور کامیاب ہوں گے اس نوجون کا تعلق سندھ رورل سے ہے اور ایک میکنک کے بیٹے ہیں جنھوں نے بڑی تگ ودو اور ہمت کے بعد سی ایس ایس کے فائنل فیز کو بھی عبور کر لیا۔
بدقسمتی سے ہم سی ایس ایس کے حوالے اس قدر غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں ہماری دانست میں صرف یہ بات آتی ہے کہ یہ تو صرف ایلیٹ کلاس کے بچے کر سکتے ہیں جو اچھے اچھے اداروں میں پڑھتے ہیں۔
لیکن زوہیب نے سی ایس ایس کر کے اس حائل تاثر کو زائل کر دیا کہ سی ایس ایس کا امتحان خواہ وہ کسی بھی فیملی بیک گراٶنڈ سے ہوں وہ کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے سی ایس ایس کرنے والا خودcommitted ہو،
اس حقیقت سے مفر نہیں کہ اس امتحان کو پاس کرنے کے لیےمحنت درکار ہوتی ہے وقت کھپانا پڑتا ہے،مطالعہ کو وسیع کرنا پڑتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا ہمارے ہاں اس امتحان کے حوالے سے بہتر رہنمائی کا فقدان ہے۔
امیدوار بہتر رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں امیدواروں میں ایک یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سی ایس ایس میں انگریزی مضمون کا پرچہ بڑا مشکل ہوتا ہے لہذا وہ دوسرے مضامین کو Light لیتے ہیں اور اپنی پوری استعداد اس ایک پرچے کے لیے صرف کر دیتےہیں۔
بلاشبہ انگریزی مضمون کا پرچہ سی ایس ایس میں بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن دیگر مضامین بھی وقت اور توجہ مانگتے ہیں۔
آپ اس سی ایس ایس 2019 کے نتائج کو دیکھ لیں انگریزی مضمون میں بیشتر امیدواروں کے مارکس 40 ہیں جنھیں ہم پاسنگ مارکس کہہ سکتے ہیں حتیٰ کہ اول پوزیشن لینے والے امیدوار کے انگریزی مضمون میں بھی مارکس 40 ہیں۔
لیکن دیگر مضامین میں اس نے اچھا سکور کیا ہے۔
سو کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ انگریزی مضمون کو ہلکا لیں اس کی تیاری نہ کریں اس کی تیاری ضرور کریں لیکن یاد رکھیں دیگر مضامین بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنا کہ انگریزی مضمون۔
ہمارے ہاں انگریزی بہتر کرنے کے بھی مختلف ٹوٹکے بتائے جاتے ہیں کوئی Dawn اخبار Recommend کرتا ہے کوئی انگریزی ناولز پڑھنے کے مشورے دیتا ہے کوئی انگریزی نیوز سننے کا کہتا ہے لہذا ہر ایک اپنی علمی استعداد اور دلچسپی کے مطابق مشورے دیتا ہے۔
ڈان اخبار یا انگریزی ناولز پڑھنے یا انگریزی خبریں سننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس سے آپ انگریزی تو بہتر کر سکتے ہیں لیکن انگریزی مضمون لکھنے کا ہنر جان نہیں سکتے اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ مہنگی اکیڈمی جوائن کریں بلکہ ایک اچھے سے ٹیچر سے مضمون لکھنے کے گر سیکھ لیں باقی کام تو آپ نے خود کرنا ہے
پھر ہر روز کی مشق سے آپ کی مضمون نگاری بہتر ہو سکتی ہے
ضروری نہیں کہ آپ انگریزی مضمون لکھنے کا فن کسی بیوروکریٹ سے سیکھیں جو پہلے سی ایس ایس کا امتحان دے چکا ہے اگر رسائی ممکن ہے تو ٹھیک نہیں تو آپ کسی اچھے ٹیچر سے انفرادی طور پر بھی یہ چیز سیکھ سکتے ہیں۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں سی ایس ایس کے نام پر چلائی جانے والی اکیڈمیز اس قدر بھاری بھر فیس چارج کر رہی ہیں کہ ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا امیدوار فیس کا جان کر دنگ رہ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو جاتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ آپ ان اکیڈمیز کے چکر میں نہ پڑیں یہ تو پیسے بٹورنے اور رینکنگ کے چکر میں ہیں۔
پچھلے دنوں کسی اکیڈمی نے جو اسلام آباد میں معروف اکیڈمی جانی جاتی ہے اور سی ایس ایس امیدواروں سے بھاری فیس وصول کرتی ہے سوشل میڈیا پر اپنی اکیڈمی کے نام سے ایک کامیاب امیداور کی تصویر کے ساتھ یہ لکھا کہ یہ امیداور اس اکیڈمی کا سٹوڈنٹ رہ چکا ہے۔
تھوڑی دیر بعد اس امیداور نے تردید کر دی کی وہ اس اکیڈمی میں نہیں پڑھا ہے اس میں تو اس کی اپنی محنت اور اچھے استادوں کی رہنمائی کار فرما ہے یہ اکیڈمی میرے نام پہ کریڈٹ لے کے رینک بڑھا رہی، باقی کچھ بھی نہیں ہے۔
اتنی بددیانتی دھوکہ اور غیر اخلاقی مظاہرہ۔آپ ایسی اکیڈمیز سے پھر کیا سیکھ سکتے ہیں۔
دوسری اہم بات آپشنل سبجیکٹس سلیکشن کی ہوتی ہے۔
اب یہ آپ پر منحصر ہے لیکن اس معاملے میں آپ نے باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔
اب ہمارے ہاں مضامین کے چناٶ میں تین باتیں آجاتی ہیں ایک یہ کہ آپ کا اکیڈمک بیک گراٶنڈ کیا ہے آپ نے ڈگری کلاسسز میں کون سے سبجیکٹس پڑھے ہیں۔
اگر ان پر آپ گرپ رکھتے ہیں تو ان کا انتخاب کرلیں۔
دوسرا اگر آپ آرٹس بیک گراٶنڈ سے ہیں تو یاد رکھیں اپنے ٹیسٹ کے مطابق ان مضامین کا انتخاب کریں جو آرٹس گروپ میں آتے ہیں جن میں آپ دلچسپی رکھتے ہوں اور یہ ضروری نہیں کہ آپ کی ڈگری کلاسز کے مضامین ہیں۔
تیسرا وہ سبجیکٹس جو بہت زیادہ سکورنگ ہوں اور تھوڑے وقت میں cover ہو جاتے ہوں ان کا انتخاب کر لیں۔لیکن وہی بات ہونے آپ کے ٹیسٹ اور دلچسپی کے مطابق ہوں۔
اب آپشنل مضامین کی تیاری کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ کسی اچھے ٹیچر جو سبجیکٹ اسپیشلسٹ ہو ڈگری کلاسسز کو پڑھاتا ہو ان سے رہنمائی لیں۔
اور آپشنل سبجیکٹس کو شارٹ کٹ طریقے سے نا پڑھیں ایک connectivity کے ساتھ پڑھیں کیونکہ connectivity کے بغیر کوئی چیز سمجھ نہیں آتی۔ ساتھ ساتھ رہنمائی ضروری ہے بغیر رہنمائی آپ کسی بھی مضمون کی essence کو سمجھ نہیں سکتے۔
یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے ہمارے ہاں اچھے اساتذہ کی کمی نہیں۔کچھ غریب پرور اساتذہ بلامعاوضہ یوٹیوب کے ذریعے اپنا علم منتقل کر رہے ہیں اچھی خاصی معلومات مہیا کر رہے ہیں کافی غریب امیدوار اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔یہ ایک اچھا عمل ہے۔ان تمام ٹیچرز اور بیوروکریٹس سے گزارش ہے جن کو سرکاری اداروں کی طرف سے بھی اچھی تنخواہیں اور مراعات ملتے ہیں وہ ان بھاری بھر فیس وصول کرنے والی اکیڈمیز میں پڑھانے کے بجاۓ یوٹیوب یا سوشل میٖڈیا کے ذریعے ہونہار غریب طلبا کی رہنمائی کریں تاکہ آپ کے علم سے ہر کوئی مسفید ہو سکے کیونکہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، رہنمائی کا فقدان ہے۔ اگر اسی سوچ کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے تو وہ دن دور نہیں سی ایس ایس کرنا مڈل کلاس کے لیے خواب نہیں بلکہ حقیقت بن جاۓ گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *