انگلستان میں پہلا مسلمان

_88838970_tahmasp

کنیز آمنہ،لاہور

سولویں صدی میں انگلستان کی ملکہ کا شمار اپنی قوم کو بخوبی سمجھنے والی خاتون میں ہوتا تھا اور یہ انھی کا دور سمجھا جاتا ہے جب انگلستان میں پہلی مرتبہ مسلمانوں نے آزادانہ طور پر زندگی گزارنا شروع کی ۔صلیبی جنگوں کے بعد یہ پہلا موقع تھاکہ وہ اپنے عقیدے پر بغیر کسی روک ٹوک عمل کرکے اپنا کاروبار زندگی شروع کیا ۔ 
مشرقی افریقہ اور سینٹرل ایشیا میں مسلمان سولویں صدی میں بھی پائے جاتے تھے جو انگلستان میں سفارتکار، سوداگر، متراجم ، موسیقار، غلام کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ انگلستان میں مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ ملکہ الزبتھ کی تنہائی تھی۔ اس نے1570ء میں پوپ یا ئین (پنجم) سے سرکاری بائیکاٹ پر پوپ کے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ پوپ کے فتویٰ کے مطابق اس نے عیسائیوں کو مسلمانوں کیساتھ تجارت کرنے سے منع کیا تھا ۔ لیکن ملکہ الزبتھ نے اشتہارات بنوائے، مختلف اسلامی ریاستیں جن میں مراکش ، سلطنت عثمانیہ اور شیعہ فارسی سلطنت شامل تھی کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کیا ۔ الزبتھ نے اپنے سفارتکار اور سوداگر وں کو انتہائی محفوظ راستہ معلوم کرنے کے لیے مسلم ممالک بھیجا اور بدلے میں مسلمانوں کی انگلستان آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
الزبتھ کے دور حکومت سے پہلے انگلستان میں عیسائی اسلامی نظریے کو صلیبی جنگوں کے تناظر میں دیکھتے تھے،اسلام کا نام انھوں نے ’’بدعقیدہ اور گمراہ ‘‘ رکھ چوڑا تھا۔ کوئی عیسائی اسلام اور مسلمان کے نام سے واقف نہ تھا۔ ان الفاظ کو سترھویں صدی میں انگریزی زبان کا حصہ بنایا گیا۔ عیسائی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ اِسلام ایک عقیدہ ہے۔ عیسائی ریاست کو اسلامی اصطلاح میں دارالحرب کہتے تھے ۔ ان ممالک میں جانے کو خود مسلمان بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے جبکہ عیسائی بھی مسلمانوں کے بارے میں اچھا خیال نہیں کرتے تھے ۔ اس رویے سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور مسلمان اور عیسائی تاجروں کی آمد بہت کم رہتی ۔مگر الزبتھ کے تخت نشینی کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہو نا شروع ہوئی۔ الزبتھ نے ایک سوداگرکو فلسطینی شاہ تہماسپس کے دربار میں بھیجا جہاں اس نے شیعہ اور سُنی عقیدے کے درمیان بنیاد ی اختلافات کے بارے میں سیکھا۔ اسکے بعد بہت سی اسلامی ریاستوں سے لوگ انگلستان آئے ، ابھی بھی بہت سی یادیں، خفیہ معلومات اور الزبتھ کی زندگی کی بہت سی جھلکیاں انگلستان کی شاہی لائبریری کا حصہ ہیں ۔
1584ء میں ترکوں نے بحیرہ روم میں سپین کی طرف سے قبضہ کر لیا گیا جن میں سے ایک شخص’’ چینانوں ‘‘تھاجو وہاں اسلام قبول کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اس نے کہا : اگر انگلستان میں لوگ خدا پر ایمان نہ رکھتے تو اب تک یہاں کوئی بھی باقی نہ ہوتا۔
ملکہ الزبتھ کے دورِحکومت میں مسلم ریاستوں سے مردوں اور عورتوں کے وفود کے بہت سے تبادلے ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کیا جن میں سے ایک نور فورک کا سوداگر بھی شامل تھا جسے ترک قزاقوں نے قبضے میں لے کر قید کر لیا تھا۔ اس نے دورانِ قید اسلام قبول کیا اور اسکا نام حسن آغا رکھ دیا گیا۔ملکہ الزبتھ کے عثمانی ، فارسی اور مراکشی سلطنت کے ساتھ سیاسی اتحاد کی وجہ سے مزید ممتاز مسلمانوں کو لندن بھیجا گیا۔ ء میں مراکشی سفیر احمد بن قاسم انگلستان گئے اور سوداگروں کے باربری گروہ نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ اسکے دس سال بعد ایک اور مراکشی سفیر محمد النوری انگلستان اپنے سوداگروں، ترجمان، نیک آدمیوں اور غلاموں کے ساتھ پہنچنے اور چھ مہینے انگلستان کے لوگوں
کی زیرِ نگرانی ایک گھر میں مذہبی عقائد پر عمل کرتے ہوئے قیام کیا۔ایک رپورٹ کے مطابق : ’’ یہ لوگ اپنی بھیڑوں، مویشیوں اور مرغیوں کا گوشت کھاتے تھے اور جب وہ کسی چیز کو مارنے لگتے تو اسکا منہ مشرق کی طرف کر دیتے تاکہ اس سے وہ اپنے سر پرست کو خوش کر سکیں ۔‘‘ قارئین سمجھ سکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ذبح کے عمل کو بیان کیا جارہا ہے ۔ 
مندرجہ بالا تمام بحث سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ مسلمان انگلستان میں ایک اہم حیثیت رکھتے تھے اور کوئی عام شخص اسکی تاریخ بآسانی نہیں جان سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *