فرانس سے برسلز تک ۔۔۔پوری کہانی !

برسلز ایئرپورٹ اور میٹرو سٹیشن کے حالیہ بم حملوں میں ملوث افراد اور گذشتہ سال نومبر میں پپیرس میں 130 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملوں کے ذمہ دار شدت پسندگروہ کے درمیان تعلق واضح ہوتا نظر آرہا ہے۔گذشتہ سال 13 نومبر کو پیرس میں فائرنگ اور بم حملوں کے فوراً بعد یہ بات ثابت ہوگئی تھی کی ان میں سے کئی بمبار بیلجیئم سے آئے تھے اور یہ کہ حملوں میں استعمال ہونے والے کچھ بم بیلجیئم کے دارلحکومت برسلز کے ایک فلیٹ میں تیار کیے گئے تھے۔برسلز حملوں کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کرلی ہے اور ان حملوں میں ملوث اہم افراد کا تعلق حالیہ اور گذشتہ نومبر میں ہونے والے دونوں واقعات سے جوڑا جارہا ہے۔برسلز حملوں سے کئی دن قبل بیلجیئم کی پولیس نے مفرور نجم العشراوی کا نام پیرس حملوں میں ملوث اہم مشتبہ افراد میں شامل کیا تھا۔برسلز کے مضافاتی علاقے شائربیک سے تعلق رکھنے والے بیلجیئم کے شہری العشراوی کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بیلجیئم میں موجود دولت اسلامیہ کے سیل میں اسلحہ بنانے کے ماہر ہیں۔
بیلجیئم حکام کی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق العشراوی نے 22 مارچ کو برسلز ایئرپورٹ پر براہیم البکراوی کے ساتھ اپنےآپ کو خود کش دھماکے میں اڑا دیا تھا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو برسلرز اور پیرس حملوں کے درمیان تعلق ثابت ہوجائے گا۔پولیس کو برسلز کے ایک فلیٹ اور بیلجیئم کے جنوبی علاقے آویلیز کے ایک گھر سے العشراوی کے ڈی این ملے ہیں۔ مذکورہ فلیٹ اور گھر پیرس حملوں سے قبل بھی حملہ آوروں کے استعمال میں تھے۔اس ہفتے تک العشراوی کو سوفین کیال کے نام سے جانا جاتا تھا جو انھوں نے آویلیز میں گھر لینے کے لیے اختیار کیا تھا۔العشراوی نے 2013 میں شام جاکر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی اور گذشتہ سال واپس بیلجیئم آگئے۔یہ دیگر دو بیلجیئم شہریوں صالح عبدالسلام اور محمد بلقاید کے ساتھ اس گاڑی میں بھی موجود تھے جسے پولیس نے گذشتہ سال ستمبر میں ہنگری اور آسٹریا کی سرحد پر روکا تھا لیکن تفتیش کے بعد آگے جانے کی اجازت دے دی تھی۔یہ تینوں اس سال 15 مارچ کو بھی ایک ساتھ تھے جب پولیس نے جنگل میں واقع ان کے مکان پر چھاپا مارا، اور بلقاید کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔صالح عبدالسلام پیرس حملوں کی منصوبہ بندی اور اس کو عملی جامہ پہنانے میں ملوث تھے۔ ان حملوں میں ان کے بھائی براہیم نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔اور پھر چار ماہ مفرور رہنے اور اپنے ساتھی بلقائد کی ہلاکت کے تین روز بعد انھیں 18 مارچ کو برسلز کے علاقے مولن بیک سے پکڑ لیا گیا۔ عبدالسلام مولن بیک کے علاقے میں ہی پلے بڑھے تھے۔کہا جارہا ہے کہ صالح دولت اسلامیہ کی بیلجیئم سیل کا حصہ تھے جو ایسٹر کے موقع پر حملوں کی تیاری میں مصروف تھا۔ لیکن گرفتاری کے بعد یہ سیل منظر عام پر آگیا۔پیرس حملوں سے قبل عبدالسلام نے پورے یورپ میں کئی دورے کیے اور انھیں دولت اسلامیہ کے سیل کے اہم لاجسٹک ماہر کے طور پر جانا جاتا تھا، جو پورے بیلجئم میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔
عبدالسلام کو پولیس نے اکتوبر کے اوائل میں منیر احمد الاج کے فرضی نام سے سفر کرنے والے ایک اور مشتبہ شخص کے ساتھ جنوبی جرمنی کے علاقے الم میں روکا تھا۔ پولیس کے مطابق الاج عرف امین شکری کو گذشتہ ہفتے عبدالسلام کے ساتھ گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
خالد اور براہیم البکروئی
پولیس کو مطلوب ان دونوں بھائیوں میں سے براہیم نے زاونٹیم ایئر پورٹ اور خالد نے میل بیک کے میٹرو سٹیشن پر 22 مارچ کو اپنے آپ کو خود کش دھماکوں میں اڑا دیا تھا۔بیلجیئم میں کئی سالوں تک ان بھائیوں کو ایک عام مجرم کیطور پر دیکھا جاتا رہا۔ براہیم البکراوی کو 2010 میں اسلحے کے ساتھ چوری کے جرم میں نو سال جیل میں رکھا گیا تھا جبکہ خالد کو 2011 میں گاڑی اغوا کرنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا ہوئی تھی۔لیکن ترکی کے صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ 29 سالہ براہیم کو جولائی 2015 میں شام کی سرحد سے پکڑا گیا تھا، اور انھیں ترکی سے بے دخل کیے جانے سے قبل بیلجیئم کو خبردار بھی کیا گیا تھا کہ براہیم ایک غیر ملکی جنگجو ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ صالح عبدالسلام کا پیرس حملوں سے گہرا تعلق ہے۔27 سالہ خالد البکراوی نے برسلز میں وہ فلیٹ کرائے پر لیا تھا جہاں 15 مارچ کو محمد بلقاید کو ہلاک کردیا گیا۔ پولیس کئی دنوں سے دونوں بھائیوں کی تلاش میں تھی اور اس ہی دوران اس نے برسلز کے نواحی علاقے ریو ڈو ڈریس میں واقع اس فلیٹ پر چھاپہ مارا۔یہ بات بھی اہم ہے کہ بیلجیئم کے جنوبی علاقے چارلی روئی میں جو فیلٹ پیرس حملوں میں حصہ لینے والے گروہ کے زیر استعمال تھا اسے بھی ممکنہ طور پر خالد البکراوی نے کرائے پر لیا تھا۔چارلی روئی میں ریو ڈی فورٹ کے فلیٹ میں عبدالسلام برادران، سٹیٹ ڈی فرانس حملے کے بمبار بلال حدفی کے علاوہ ان کے گروہ کے سرغنہ عبدل حامد اور شکیب آکرو کی موجودگی کے اشارے ملے تھے۔ عبدل حامد اور شکیب آکرو کو پیرس حملوں کے پانچ دن بعد پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔جبکہ ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کا پیرس حملوں میں معمولی کردار تھا، لیکن حملوں میں ان کا ملوث ہونا ان کے صالح عبد السلام اور نجم العشراوی کے ساتھ تعلقات کو واضح کرتا ہے۔انھیں پیرس جاتے ہوئے ایک پٹرول سٹیشن پر اس رینالٹ گاڑی میں دیکھا گیا تھا جسے حملوں کی رات بھی استعمال کیا گیا تھی۔پیرس حملوں کا مقدمہ ٹھنڈا پڑ چکا ہے، لیکن مشتبہ افراد کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔ پولیس نے برسلز بم دھماکوں سے کئی دن قبل العشراوی کی تلاش میں محمد عبرینی کا نام بھی لیا تھا، جبکہ یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ عبرینی کا برسلز دھماکوں میں ایک اہم کردار ہے۔
نومبر 13 کے حملوں سے قبل مولن بیک سے تعلق رکھنے والے صالح عبدالسلام کے بچپن کے دوست نے سلام برادران کے ساتھ 10 سے 11 نومبر کے درمیان بیلجیئم سے پیرس اور اور بھر واپس بیلجیئم کا سفر کیاتھا۔انھیں پیرس جاتے ہوئے ایک پٹرول سٹیشن پر اس رینالٹ گاڑی میں دیکھا گیا تھا جسے حملوں کی رات بھی استعمال کیا گیا تھی۔یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ اس کے بعد عبرینی کے ساتھ کیا ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *