ویمن فٹبال ورلڈ کپ 2023 کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے نام

فٹ بال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا نے 2023 کا ویمن ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کولمبیا کے مقابلے میں دونوں ملکوں کی مشترکہ بولی منظور کر لی گئی۔

برازیل اور جاپان نے پہلے ہی اس ماہ کے اوائل ہی میں میزبانی کی دوڑ سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا۔

2023 کے عالمی کپ میں پہلی بار خواتین کی 32 ٹیمیں حصّہ لیں گی۔ فی الحال ان مقابلوں میں 24 ٹیمیں شرکت کرتی ہیں۔

یہ مقابلے جولائی سے اگست 2023 کے دوران منعقد ہوں گے۔

فیفا کے صدر جیانی اِنفینٹینو کا کہنا ہے کہ 'بِڈِنگ یعنی بولیوں میں سخت مقابلہ تھا۔ ہم کامیاب بولی والے دونوں ملکوں کے شکر گزار ہیں جنھوں نے غیر معمولی کام کیا ہے۔ ان کی تیاری واقعی بہت اچھی تھی۔'

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی بولی کو فیفا کونسل کے 35 ارکان میں سے 22 ووٹ ملے جبکہ کولمبیا نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ فٹبال ایسوسی ایشن کے چیئرمین گریگ کلارک اور یو ای ایف اے کے آٹھ ارکان نے کولمبیا کو ووٹ دیا۔

اِنفینٹینو نے یو ای ایف اے کے ارکان کی جانب سے کولمبیا کو ووٹ دیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ فیفا کے جانچ کے مطابق اس کا سکور کم تھا۔ کولمبیا نے 5 میں سے 2.8 پوائنٹ حاصل کیے تھے جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے 4.1 پوائنٹ سکور کیے تھے۔

اِنفینٹینو نے کہا: 'ان فنی رپورٹوں کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔'

یو ای ایف اے نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کی میزبانی سے 'جنوبی امریکہ میں ویمن فٹ بال کے فروغ کے مواقع پیدا ہوتے۔'

اِنفینٹینو نے خواتین کے مقابلے ہر دو سال بعد کرانے کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ وہ جنوبی امریکہ اور افریقہ میں ان مقابلوں کے انعقاد کے خواہاں ہیں۔

اِنفینٹینو نے اس کھیل کی ترویج کے لیے مالی اعانت کا اعلان بھی کیا۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم نے اگلے چار برس میں خواتین فٹبال کی ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

'گذشتہ برس فرانس میں وومنز ورلڈ کپ کا ہمارا تجربہ بہت زبردست رہا۔ اس نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ یہ خواتین فٹ بال کو حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر لے کر آیا۔'

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ بولی میں اس مقابلے کے لیے 'بے مثال سرمایہ کاری' کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔

یہ پہلا ورلڈ کپ ہوگا جس کی میزبانی دو مختلف کنفیڈریشن کریں گی (آسٹریلیا ایشیا کنفیڈریشن کا حصہ ہے جبکہ نیوزی لینڈ اوشیانا کا)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *