سیکولرزم، اسلامی جماعتیں، قائد اعظم اور پاکستان

حسن اعجاز گوندل

Hassan Ejaz Gondal

مورخہ ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو محترم وجاہت مسعود صاحب نے سیکولرزم جرم نہیں کے نام سے ایک کالم تحریر کیا۔اس کالم میں موصوف سیکولرزم کی تشریح کے ساتھ ساتھ چند اعتراضات بھی اٹھاتے ہیں جن میں بنیادی دو اعتراضات تھے۔ ایک تو اسلام پسندوں اور خاص طور پہ جماعت اسلامی کا لفظ سیکولرزم کو لادینت لکھنا اور کہنا ایک بدیانتی پہ مبنی عمل تھا اور یہی نہیں انکے بقول جماعت نے باقاعدہ نظریاتی پروپیگنڈا کا سہارا لے کر سکولرزم کی ساخت کو نقصان پہنچایا۔انکے نزدیک لفظ سیکولزم کے معنی ریاست کا مذہبی معاملات سے لاتعلقی ہے۔
دوسرا وہ یہ فرماتے ہیں کے قائداعظم محمد علی جناح ایک سیکولر اانسان تھے اور انہوں نے ایک سیکولر ریاست کی بیناد رکھی تھی جسکا بعد میں اسلام پسند حلقے کی جانب سے قرادا مقاصد کی صورت انکار کیا گیا۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کے بیوروکریسی اور قائد کے قریبی رفقاٗ دونوں کی جانب سے ۱۱ اگست کی قائد کی تقریر کو نشر کرنے سے روکنے یا اس میں ترمیم کرنے کی کوشش کی گئ جسکا انکشاف ضمیر نیازی صاحب نے کیا۔

آئیے اب ان دونوں باتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔۔!!

 جہاں تک اسلام پسند طبقہ اور خاص طور پہ جماعت اسلامی کی بات ہے تو بانی جماعت مولانا مودودی نے اگر کوئی فریضہ انجام دیا ہے تو وہ اسلام کو از سر نو پیش کرنے کا کام ہے۔ جب اسلام کی بات کی جاتی ہے تو ایک مومن اس بات پہ ایمان رکھتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے نہ کہ چند عبادات اور رسومات کا مجموعہ ۔وہ یہ جانتا ہے کہ اسلام کا ایک نظام حیات ہے جو معاشرت، معیشت، تمدن، قانون، خاندانی زندگی اور سب سے بڑھ کہ ریاست یا حکومت کے حوالے سے واضع اور بنیادی راہنمائی فرماتا ہے۔ سید مودودی نے بھی انہی تعلیمات کو از سر نو اجاگر کیا انہوں نے  بتایا کے اسلام کیا ہے؟ اسکا نظام حیات کیا ہے؟ اسکے علاوہ انہوں نے عبادات کا تصور واضع کیا۔ عبادت، کے جو لفظ عبد سے نکلا ہے جسکا معنی بندگی اختیار کرنا یا  سرتسلیم خم کرنا کا بھی  ہے۔ تو ایسے میں بقول سیکولرزم کے اگر دین محض عبادات اور چند عقائد کا نام ہے۔ تو اسلامی نظام معیشت, معاشرت, تمدن, نظام حکومت اور نظام عدل جو کہ خالص اجتماعی معاملات ہیں ان کو چھوڑ کہ یہ دعویٰ کرنا کہ اسلام فرد کا ذاتی معاملہ ہے یہ اسلام کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟  اور یہ کہنا کس طرح بجا ہوگا گے سید مودودیؒ نے اسلام کی تشریح میں کسی قسم ذاتی رائے, منافقت یا بغض سے کام لیا...؟         درحقیقت منافقت، بدیانتی اور بغض کا پرچار تو وہ حلقے کر رہے ہیں کہ جوکس قدر ڈھٹائی کے ساتھ ایک نظام حیات کو ذاتی معاملہ قرار دے کر فیصلے صادر فرما رہے ہیں۔

اب ایسے میں وجاہت صاحب کا یہ دعویٰ کرنا کہ سیکولرزم کو اسلام سے کوئی مسئلہ نہیں,اور سیکلولرزم کسی مذہب کی مخالفت نہیں کرتا  یہ ایک مفروضہ نہیں تواور کیا ہے؟۔ جیسے سوشلزم اور کمیونزم یا سرمایہ دارانہ جمہوریت ایک نظام ہے اسی طرح اسلام بھی ایک مکمل ضابطہ حیات رکھتا ہے۔ اسی لیے یہ ایک واضع اصول ہے کسی بھی نظام کو تسلیم یا رد کیا جاتا ہے۔ اب ایسے میں یہ رونا رونا کہ مسکین سیکولرزم کی غلط تشریح کی جاتی ہے یہ سن کہ تو خود جیکب  ہولیوکس جیسا بندہ بھی سر پیٹ دیتا کہ نجانے میرے نظریات کہ پیروں کو کیا خوف ہے کے کھل کے اسکو بیان بھی نہیں کرپاتے۔

اب آجاتے ہیں قائداظم، انکی تقاریر اور ریاست پاکستان پہ؛ تو اس ضمن میں قائد کے فرامین سے ہی جواب دینا مناسب سمجھوں گا کیونکہ موصوف نہ ۱۱اگست کی مکمل تقریر کا حوالہ دیا تھا۔ اس تقریر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ تقریر بیورکریسی نے سینسر کرنے کی کوشش کی اور اسکو ڈان میں چھپنے سے روکا گیا تو عرض یہ ہے کہ؛ ڈان کا پہلا شمارا ۱۶ اگست کو چھپا ہے جبکہ تقریر کے حوالے سے کہا گیا ہے کے تقریر کو اسکے اگلے دن چھپنے سے روکا گیا، اس بات کو بھی چھوڑ کا اگر سیدھا بیوروکریسی پہ آجائیں تووہ مسکین خود سیکولر تھی کون اس بات سے آشنا نہیں کہ ایک لمبے عرصے تک اسٹبلیشمنٹ اور اہل اقتدارکی شریعت میں شراب و شباب کی مستیاں جائز رہی ہیں۔ اب ایسے میں اس کم بخت سیکولر اسٹبلشمنٹ کو کیا موت پڑی تھی کہ قائد کی اس تقریر کو سنسرکرتے یا چھپنے سے روکتے۔ اسی تقریر کا جواب خود  کراچی بار کا قائداعظم کا خطاب ہے کےجس میں قائد کہتے ہیں کہ :

“I cannot understand the logic of those who have been deliberately and mischievously propagating that the Constitution of Pakistan will not be based on Islamic Sharia. Islamic principles today are as much applicable to life as they were 1300 years ago.(Januray,1948 at Karachi Bar)”

اس کے علاوہ قائد اعظم کی سٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پہ وہ مشہور تقریرجو انکی آخری تقریربھی تھی اس میں وہ فرماتے ہیں:

“ I shall watch with keenness the work of your Research Organization in evolving banking practices compatible with Islamic ideas of social and economic life. The economic system of the West has created almost insoluble problems for humanity and to many of us it appears that only a miracle can save it from disaster that is not facing the world. It has failed to do justice between man and man and to eradicate friction from the international field. On the contrary, it was largely responsible for the two world wars in the last half century. The Western world, in spite of its advantages, of mechanization and industrial efficiency is today in a worse mess than ever before in history. The adoption of Western economic theory and practice will not help us in achieving our goal of creating a happy and contended people.  We must work our destiny in our own way and present to the world an economic system based on true Islamic concept of equality of manhood and social justice. We will thereby be fulfilling our mission as Muslims and giving to humanity the message of peace which alone can save it and secure the welfare, happiness and prosperity of mankind”
(This speech can found at official website fo State Bank of Pakistan).

میں بہت تندہی سے آپ کی تنظیم کی تحقیقی کاروائی کو دیکھوں گا کہ جو ایسے اصول بینکاری مرتب کرے گی کہ جو اسلامی تصورات کی معاشرتی اور اقتصادی زندگی سے ہم آہنگی رکھتے ہوں۔ مغرب کے اقتصادی نظام نے انسانیت کیلئے ناقابل تلافی مسائل پیدا کیے ہیں۔ اور ہم میں سے بہت لوگوں کے لئے یہ بات واضع ہے کہ دنیا کو اب جس تباہی کا سامنا ہے اس سے کوئی معجزہ ہی بچاسکتا ہے۔ مغرب کا اقتصادی نظام انسان کو انصاف مہیا کرنے اور بین الاقوامی انتشار کو ختم کنے سے کاسر قاصر ہے۔ درحقیقت گزشتہ نصف صدی میں دو عالمی جنگوں کی بڑی وجہ یہی اقتصادی نظام تھا۔ مغری دنیا اپنی اعلیٰ صنعتی کارکردگی اور مشین سازی کہ باوجود آج تاریخ کے بدترین انتشار کا شکار ہے۔ مغربی اقتصادیات کے نظریہ اور ضابطہ عمل کو اپنا کر ہمارے لوگ کبھی بھی خوش حال اور مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنی قسمت خود بنانی ہے۔ اور دنیا کو ایک ایسا اقتصادی نظام مہیا کرنا ہے جس کی بنیاد اسلام کے تصور مساوات اور معاشرتی انصاف پر ہو۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم بحثیت مسلم اپنے مشن کی تکمیل کردیں گے اور انسانیت کو امن کا پیغام دیں گے ہپ پیغام ہی کل انسانیت کی بقا راحت اور آسودہ حالی کا ذامن ہے۔

(۱ جون ۱۹۴۸، افتتاح سٹیٹ بینک پاکستان )

یہ دو تقایر اتنی دو ٹوک اور واضع ہیں کے کوئی بھی ذی شعور انسان اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کے قائد کی فکر کیا تھی اور وہ پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے اب ایسے میں قائد اعظم اور پاکستان کو سیکولرزم کا لبادہ اورحنے پہ مجبور کرنے والا طبقہ منافقت، بغض اور بدنیتی سے کام لیتا ہے یا کوئی اور فیصلہ آپ کریں۔ اس کے علاوہ بھی اگر کعئی شائبہ باقی رہ جاتا ہے تو قائد نے اپنی زندگی میں پاکستان کے جس  محکمے کی بنیاد خود رکھی تھی اسکا نام ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن رکھا اور علامہ اسد جیسے اسلامک سکالر کی سربراہی میں اسکے ذمے یہ فرائض سونپے گئے کے دامن اجتہاد تھامتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام معیشت، حکومت، قانون اور تعلیم تشکیل دیا جائے۔ اپنی بات قائد کے ایک اور فرمان کے ساتھ ختم کروں گا کہ جس میں قرادا مقاصد کی ترجمانی اور پیشین گوئی واضع طور پہ دیکھی جا سکتی ہے۔ قائد اعظم ۱۴ فروری ۱۹۴۸ کو سبی دربار بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

.It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set us by our great law giver, The Prophet(PBUH) of Islam. Lets lay the foundation of our democracy on the basis of  truly Islamic Ideals and principles.

یہ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہری اصولوں کی پیروی میں ہے کہ جو عظیم قانون دان پیغمبر اسلام ص کی جانب سے واضع کیے گئے ہیں۔ آئیں اپنی جمہوریت کی بنیاد حقیقی اسلامی نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر رکھیں۔
(۱۴ فروری ۱۹۴۸، سبی دربار بلوچستان )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *