جی ہاں، محمد علی جناح’’ مولوی‘‘ نہیں تھے

Rauf tahirرؤف طاہر

میرے بیوروکریٹ، دانشور دوست!!
پاکستان کو بانی ٔ پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے نظریات اور مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے افکار کے مطابق ایک جدید اسلامی، جمہوری ، فلاحی مملکت بنانے کا مطالبہ کرنے یا اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے یہ دعویٰ کب کیا کہ محمد علی جناح ؒایک ’’مولوی‘‘تھے لیکن کیا وہ مذہب سے الرجک ‘ ایک مغرب زدہ شخص تھے۔؟ کیا حسن اتفاق تھا کہ جس روز ’’مولوی محمد علی جناح‘‘ کے عنوان سے آپ کا کالم شائع ہوا، اسی روز ’’قائداعظم ؒکی قرآن فہمی ‘‘ کے عنوان سے جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم بھی اسی صفحے پر موجود تھا۔ ہمارے لبرل اور سیکولر دوستوں کے پاس لے دے کے قائداعظمؒ کی گیارہ اگست 1947ء والی صرف ایک تقریر ہے (کہنے والے اِسے ’’میثاقِ مدینہ‘ ‘ کا پرتو بھی کہتے ہیں۔) تاہم اس میں سے سیکولرزم کشید کرنے والوں کے جواب میں ڈاکٹر صفدر محمود قائداعظمؒ کی سو سے زائد تقاریر کا حوالہ دیتے رہتے ہیں، جن میں اُنہوں نے واشگاف الفاظ میں پاکستان کو اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جدید جمہوری و فلاحی مملکت کی بات کی۔ اِن میں درجن بھر تقاریر 11اگست کے بعد کی بھی ہیں۔ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے۔
میرے بیوروکریٹ، دانشور دوست!! آپ اپنے کمرے میں قائداعظمؒ کی کلین شیو، تھری پیس سوٹ اور سگار والی تصویر ضرور لگائے رکھیں۔ضروری نہیں کہ آپ اس کی جگہ قائدؒ کی جناح کیپ اور شیروانی والی تصویر لگانے کی،اپنے دوست کی خواہش پوری کریں۔قائدؒ کے چہرے پر داڑھی لگانے کی بات تو ظاہر ہے، آپ نے مزاح پیدا کرنے کے لیے کی۔ اگرچہ بعض کم فہم لوگوں نے اِسے تمسخر کے طور پر لیا۔ میں نے انہیں یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ آخر مولانا بہاؤالحق قاسمی کے پوتے اور مفتی ٔ اعظم امرتسر مولانا مفتی غلام مصطفیٰ قاسمی کے پڑپوتے کے متعلق ہم کسی سوئے ظن کا شکار کیوں ہوں؟ میں نے انہیں صرف دو ماہ پہلے ’’اپنے ابا جی سے کچھ ملاقاتیں‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والا عطا بھائی کا کالم یاد دلایا، چار قسطوں میں شائع ہونے والے اس کالم میں ایک جگہ انہوں نے لکھا، ابّا جی کو اپنے اسلاف پر بھی بہت فخر تھا اور یہ فخر بے جا نہ تھا کہ ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ علمی خدمات مختلف کتابوں میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، حضرت مجدد الف ثانی اور مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی ہمارے خاندان کے شاگردوں میں سے تھے جبکہ ماضی قریب میں سینکڑوں جید علماء کے علاوہ امیر ِ شریعت سید عطأاللہ شاہ بخاری اور جامعہ اشرفیہ کے بانی مولانا مفتی محمد حسن میرے دادا جان کے قابلِ فخر شاگردوں میں سے ہیں‘‘۔ آپ نے اپنے کالم میںلکھا کہ جن صاحب کو ہم قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتے ہیں اُنہوں نے لِنکنز اِن میں محمد علی جناح کے نام سے داخلہ لیا تاہم بعدازاں درخواست لکھ کر اپنا نام تبدیل کر کے فقط’’جناح‘‘رکھ لیا تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ’’محمد علی‘‘ سے الرجک تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جہاں بھی دستخط کرتے "majinnah" ہی لکھتے (ظاہر ہے دستخط مختصر کئے جاتے ہیں)۔ لنکنزاِن میں داخلے کے حوالے سے قائد کی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے زیادہ کس کی گواہی معتبر ہوسکتی ہے؟ مادرِ ملت اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں لکھتی ہیں، ’’ایک مرتبہ اُنہوں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ’’لٹل گو‘‘کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا… میں نے سوچا کیوں نہ لندن میں موجود مختلف ’’اِنز‘‘ دیکھ لئے جائیں تاکہ یہ فیصلہ کرسکوں کہ مجھے کس ’’اِن‘‘ میں داخلہ لینا ہے… میری نظر لنکنزاِن کے مرکزی دروازے پر پڑی اور جب میں نے اپنے عظیم پیغمبر اسلام ﷺ کا نام دُنیا کے عظیم مقننوں(Law Givers) کی فہرست میں دیکھا تو منت مان لی کہ ’’لٹل گو‘‘ میں کامیابی کے بعد ’’لنکز اِن ‘‘ہی میں داخلہ لوںگا‘‘۔
’’مائی برادر‘‘ ہی میں ایک اور واقعہ بھی پڑھ لیجئے ۔ ’’ایک دِن قائد نے اُنہی دنوں کی باتیں کرتے ہوئے مجھ سے کہا ، کرسمس کا موقع تھا اور ڈریک فیملی کرسمس منا رہی تھی۔ کرسچین خاندانوں کی روایت کے مطابق اس موقع پر دروازوں کی چوکھٹوں پر آکاس بیل لٹکا دی گئی تھی۔ عیسائیوں میں یہ روایت ہے کہ اگر کوئی نوجوان ایسی کسی چوکھٹ کے نیچے کسی لڑکی کو کھڑا پا لے تو اس کا بوسہ لے سکتا ہے۔ میں اس دن بے خبری میں ایک ایسے ہی دروازے میں کھڑا تھا جس پر آکاس بیل آویزاں تھی۔ اتفاق یہ کہ مس ڈریک نے مجھے وہیں پکڑ لیا اور بازوؤں میں بھینچ کر کہا کہ میں اس کا بوسہ لوں۔ لیکن میں نے اُسے جھڑکتے ہوئے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا، کیونکہ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے، نہ اس کی اِجازت ہے۔ اس روز میں نے مس ڈریک کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ، اس کے بعد میں اس کی عشوہ طرازیوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے محفوظ ہوگیا تھا۔‘‘
تب جناح نوجوان تھا، بیس اکیس سال کا نوجوان، جب جوانی دیوانی ہوتی ہے اور لندن کے لبرل ماحول میں تو یہ اور بھی دیوانی ہوجاتی ہے۔ لیکن ایسے میں بھی اس نوجوان کو اپنی خاندانی روایات اور اخلاقیات کا کتنا لحاظ تھا، اس کا اظہار خود میرافاضل دوست بھی اپنے کالم میں کر گیا۔ جناح نے لندن میں شیکسپیئر تھیٹر کمپنی میں سٹیج فن کار کی ملازمت کی تو اُن کے والد نے اُنہیں خط لکھا (ترجمہ! اپنے خاندان سے غداری مت کرو) جس کے بعد جناح نے یہ ملازمت ترک کر دی۔
میرے بیورو کریٹ دانشور! آپ نے سر ڈنشا کی بیٹی رتی کے ساتھ جناح کی شادی کو ’’لو میرج ‘‘ کا نام دیا ہے، (جو رتی کے والدین کی مرضی کے بغیر ہوئی )۔ لیکن یہاں آپ اس حقیقت کو نظر انداز کر گئے کہ اس شادی سے پہلے رتی نے باقاعدہ اسلام قبول کیا اور مولونا شاہ احمد نورانی کے تایا نے نکاح پڑھایا۔ آغاشورش کاشمیری نے اپنی یادداشتوں ’’بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغ محفل‘‘ میں لکھا، مشہور کالم نویس میاں محمد شفیع المعروف م ش ڈان کے وقائعِ نگار تھے۔ اُنہوں نے ’’سول ‘‘ کے پرانے فائل تلاش کئے اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے حوالے سے قائداعظم کے نکاح کی خبر نکال لی جس میں واضح طور پر درج تھا کہ سر ڈینشائٹ کی بیٹی رتن بائی نے فلاں مسجد میں اسلام قبول کیا اور مسٹر جناح سے اسلامی اصولوں کے مطابق شادی کرلی‘‘ اور ہاںکیا فاضل کالم نگار کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ’’مولوی محمد علی جناح‘‘ کی صاحبزادی نے ایک پارسی نوجوان سے شادی کر لی تو اُنہوں نے اپنی چہیتی اور اکلوتی صاحبزادی سے ہمیشہ کے لئے قطع تعلق کرلیا اور زندگی بھر اس کی شکل دیکھنا گوارا نہ کی۔
آپ نے بیورلے نکولس کی تصنیف کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے مطابق قائد اعظمؒ نے مسلمانوں کے مقدمے کے لیے پانچ نکات بیان کئے ، مسلمان ایک قوم ہیں ۔ ’’اپنی تاریخ کے لحاظ سے ، اپنے ہیروز کے لحاظ سے، اپنے آرٹ اور فن ِ تعمیر کی روشنی میں، موسیقی کے لحاظ سے اور قوانین کے مطابق جو ہندوؤں سے مختلف ہیں‘‘۔
لیکن کیا یہ بات میرے دانشور دوست کے مؤقف کے خلاف نہیں جاتی ؟ اور ہاں ! شریف المجاہد کی کتاب کے حوالے سے آپ نے یہ کیا لکھ دیا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے سے قائداعظم ؒ کا مقصد مسلمان دانشوروں، تعلیمی ، معاشی ماہرین ، سائنس دانوں ، ڈاکٹرز ، انجینئرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی تیاری تھا جو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے کام کر سکیں‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *