اداکارہ دیویا بھارتی کی موت کی اصل کہانی

دیویا بھارتی بالی وڈ کی نوے کی دہائی کی خوبصورت اداکارہ تھیں۔ اُن کی فلم دیوانہ کو فلم بینوں سے بیحد پذیرائی ملی تھی جبکہ یہ شاہ رخ کی پہلی فلم تھی۔ مگر بدقسمتی سے دیویا کے اس فلمی کیرئیر کو شائد اُن کی اپنی ہی نظر لگ گئی اور 1993میں پیش آنے والے ایک بھیانک حادثے میں وہ اپنی زندگی کی بازی ہار گئیں۔مختلف لوگوں نے دیویا کی موت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کیں مگر اصل میں اُس رات کیا ہوا اُس کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

divya 1

اپنی موت سے کچھ دیر پہلے وہ اپنے بھائی کے ساتھ تھیں اور باندرا میں اپنے نئے گھر کے بارے میں کافی پرجوش بھی تھیں۔ اُنکے بھائی کے جانے کے بعد اُن سے ملنے اُن کی دوست نیتا للا اپنے شوہر کے ساتھ ائیں۔ تینوں نے مل کر باتیں کیں۔ دیویا کی نوکرانی کچن سے کچھ کھانے کو لینے گئی اور نیتا کچھ دیر اپنے میاں کے ساتھ بات کرتی رہیں، یہی وہ وقت تھا جب دیویا اپنے ورسووا والے گھر کی کھڑکی کی طرف گئیں اور اُس کھڑکی کی گرل بھی نہیں تھی۔

divya 2

رپورٹ کے مطابق دیویا غیر محسوس طریقے سے کھڑکی کی دوسری طرف گئیں۔ اُس طرف جگہ بہت تھوڑی تھی۔ اُنہوں نے پلٹ کر کھڑکی کا فریم پکڑنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں اپنا توازن کھو دیا اور نیچے کنکریٹ کے بنے فرش پر گر گئیں۔

divya 3

دیویا کے گرنے کی آواز اس قدر زور دار تھی کہ وہ بلڈنگ کے تمام لوگوں نے سنی۔  سب لوگ نیچے بھاگے مگر وہاں پہنچ کر دیکھا کہ دیویا کا جسم خون میں لت پت کنکریٹ کے فرش پر پڑا تھا۔ اُن کو ہسپتال لے جایا گیا مگر کوپر ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر دیویا نے اپنی اخری سانس لی

divya 4

دیویا کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ اُس کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی عادت تھی اور اُن کی یہی لاپروائی اُن کی جان لے گئی۔ جبکہ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ دیویا کے انڈر ورلڈ سے تعلقات تھے اور وہی اُن کی موت کی وجہ بنے۔

divya 5

اافیشیل رپورٹ کہتی ہے کہ دیویا کی نوکرانی نے دیویا کو اپنی گود میں کھلایا تھا  اور وہ دیویا سے بیحد پیار کرتی تھی۔ یہی وجہ تھیں کہ دیویا کی موت کے تیس دن کے بعد اُن کی نوکرانی بھی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی۔

دیویا کے مشہور گانوں میں سات سمندر پار، دل آشنا ہے ، ایسی دیوانگی، خطا تو تب ہے  اور تیری اُمید تیرا انتظار شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *