اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستیں غیر موثر قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئیں درخواستوں کو غیر موثر قرار دیکر نمٹا دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے مندر کی تعمیر کے خلاف دائر درخواستوں پر منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں مندر کے لیے جگہ مختص نہیں کی گئی تھی لیکن اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کا چیئرمین اور سی ڈی اے کے بورڈ ممبر لے آؤٹ پلان کے تحت بھی وفاقی دارالحکومت کے کسی سیکٹر میں پلاٹ آلاٹ کرنے کے مجاز ہیں۔ عدالت نے اس نقطے پر درخواست گزار کا اعتراض مسترد کردیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہندوؤں کے تین مندر موجود ہیں جو کہ ان دونوں شہروں میں بسنے والی ہندو برادری کی مذہبی ضروریات کے لیے کافی ہیں اور ایسے حالات میں جبکہ ملک میں کورونا پھیلا ہوا ہےاس مندر کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے حرچ کرنا قومی خزانے کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس مندر کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے جو کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں اس کے بارے میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ابھی تک کوئی فنڈز جاری نہیں کیے گئے اور یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے ارٹیکل 20 کے تحت ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات آزادانہ طریقے سے ادا کرنے کا حق ہے۔

اسلام آباد
مندر کے لیے الاٹ کی گئی جگہ سے سامان بھی ہٹا دیا گیا تھا اور اب پولیس کے اہلکار وہاں نگرانی کر رہے ہیں

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان درخواستوں میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نہیں سمجھتی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے لہذا ان درخواستوں کو نمٹایا جاتا ہے تاہم اگر مستقبل میں اگر درخواست گزار یہ سمجھے کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے تو وہ دوبارہ اس معاملے کو اٹھا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کو رکوانے کے لیے تین درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور مندر کی تعمیر رکوانے کے لیے اس نقطے کو بنیاد بنایا گیا تھا کہ مندر کی تعمیر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں شامل نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *