کورونا وائرس: کیا پاکستان میں کووِڈ 19 کی وبا اپنے عروج سے گزر چکی ہے؟

کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی انتہا گزر چکی ہے، چل رہی ہے یا پھر ابھی آنی باقی ہے، اس سوال کا جواب ہر پاکستانی اس لیے جاننا چاہتا ہے کیونکہ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو جون کے آغاز سے وسط جون تک ملک میں یومیہ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔

پاکستان میں یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 13 جون کو ریکارڈ کی گئی جو کہ 6825 تھی۔

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی کہا تھا کہ ہمارے ہسپتالوں میں 12 اور 13 جون کے دن سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا اور اس دوران شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں حکومت کا کہنا تھا کہ اس کا عروج جولائی کے آخری دنوں میں یا اگست کے اوائل میں ہو گا۔ اب حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا جانے لگا ہے کہ شاید ابتدائی اندازوں کے برعکس معاملات جولائی کے پہلے ہفتے میں ہی بہتری کی طرف جانے لگے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہے کہ پاکستان اس وائرس کی انتہا دیکھ چکا ہے۔

کورونا، پاکستان

’پاکستان میں وائرس کے اتار چڑھاؤ کی صورتحال‘

سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بظاہر گذشتہ دو ہفتوں میں یومیہ متاثرین کی تعداد بلند ترین سطح سے کہیں کم ہے۔ خصوصی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اس وقت پہلے کی نسبت بہت کم مریض سامنے آرہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کورونا ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمود شوکت نے بتایا کہ اس میں حقیقت ہے کہ مریضوں میں کمی آئی ہے، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ واقعتاً پاکستان اس وائرس کی انتہا سے گزر چکا ہے۔

انھوں نے مزيد بتایا کہ اگر ہم سائنسی اعتبار سے دیکھیں تو اس کے لیے ماہرین ’آر نوٹ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس سے ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وائرس کا پھیلاؤ اس وقت کتنا ہے۔

کورونا، پاکستان

انھوں نے کہا کہ ہماری تحقیق کے مطابق جون کے مہینے میں آر نوٹ 2.25 فیصد تھا جبکہ اب یہ ایک فیصد ہے۔

’اس سے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم انتہا سے گزر چکے ہیں کیونکہ اس کے لیے مریضوں میں مسلسل کمی ہونی بہت ضروری ہے، اس کے بجائے پاکستان میں ایک دن مریض زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں تو دوسرے دن کم اور پھر اگلے دن تعداد بڑھ جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم اتار چڑھاؤ کی صورتحال میں ہیں، اور اگر ہم احتیاط نہیں کریں گے تو وائرس کا پھیلاؤ دوبارہ بڑھے گا۔

کیا نئے متاثرین میں کمی کی وجہ کم ٹیسٹنگ ہے؟

کچھ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ نئے متاثرین میں کمی کی بنیادی وجہ ملک بھر میں کورونا ٹیسٹنگ میں کمی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ ٹیسٹ ہی کم کریں گے تو یومیہ متاثرین کی تعداد کم ہی سامنے آئے گی۔ ٹیسٹنگ کے حوالے سے تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو درست ہے کہ ملک میں یومیہ ٹیسٹنگ کی تعداد میں گذشتہ ایک ماہ میں کمی آئی ہے۔

اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، چاہے روزانہ ایک ہزار، دس ہزار یا ایک لاکھ، ان میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کہ کورونا میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہم اس شرح کا جائزہ لیں کہ کُل کیے گئے ٹیسٹ میں سے کتنے لوگوں میں مرض کی تصدیق ہوتی ہے۔

کورونا، پاکستان

یہ شرح ہمیں درست انداز میں ایک چیز بتا سکے گی کہ ٹیسٹنگ کی مجموعی یومیہ تعداد سے بالاتر کیا ملک میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی آئی ہے یا سست روی۔’

اس گراف سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ گذشتہ ایک ماہ میں جہاں یومیہ متاثرین کی شرح میں کہیں تیزی یا کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس شرح کا رجحان کمی کی طرف ہی ہے۔

آج سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سات جون کو یہ شرح 20 فیصد تھی، آٹھ جون کو 18 فیصد، نو جون کو 22 فیصد اور 10 جون کو بھی 22 فیصد کے قریب رہی۔

اس کے برعکس پانچ جولائی کو یہ شرح 15 فیصد، چھ جولائی کو یہ 11 فیصد اور سات جولائی کو یہ 13 فیصد رہی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں علامات ظاہر نا کرنے والے کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے۔ اس کے علاوہ پالیسی میں تبدیلی کے بعد اب بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ بھی نہیں کی جا رہی ہے۔

كورونا ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمود شوکت نے اس بارے میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے سمارٹ سیمپلنگ متعارف کروائی گئی تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ درست نہیں ہے کہ ایک چھوٹی سی آبادی پر کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتیجے سے پورے شہر، صوبے یا پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جائے۔

ان کا مزيد کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کر سکیں، اسی وجہ سے ہم نے اپنے وسائل کو بچانے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی کی اور مسافروں کے ٹیسٹ بھی بند کیے۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ جب محکمہ صحت اور ماہرین نے لاہور میں سمارٹ سمپلنگ کرکے ایک اندازے کے مطابق اعداد و شمار دیے تھے تو حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ غلط رپورٹ ہے۔ جبکہ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

اموات کی شرح کم نہیں ہوئی

جون کے مہینے میں پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث 1265 افراد ہلاک ہوئے جو اب تک کسی بھی مہینے میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اور اس کی شرح 2.5 فیصد رہی، یعنی ہر سو کورونا مریضوں میں سے 2.5 فیصد ہلاک ہو رہے تھے۔

اگر ہم اس مہینے یعنی جولائی کے پہلے ہفتے میں ہونے والی اموات کی شرح دیکھیں تو اب تک اس وائرس سے 167 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس ہفتے میں شرحِ اموات 2.7 فیصد رہی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود شوکت کا کہنا تھا کہ ان میں بہت سے مریض ایسے تھے جو دو تین ہفتوں سے شدید بیمار تھے اور وینٹیلیٹر پر تھے، تاہم اب ہمارے پاس شدید بیمار مریضوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب مریضوں میں کمی آتی ہے اور پہلے سے شدید بیمار اگر اب مریں گے تو یہ شرح زیادہ ہی آئے گی۔

’لوگ متاثر ہورہے ہیں لیکن سامنے نہیں آ رہے‘

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے بتایا کہ ان کی تنظیم ماہرین پر مشتمل ہے جن میں فیملی اور ماہر ڈاکٹرز، ہسپتال، اور دیگر سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے ان کی گفتگو اور میٹنگز کے بعد اب تک یہی ماہرانہ رائے کہ یہ بالکل نہیں کہا جا سکتا کہ وائرس کی انتہا گزر چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ البتہ یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ اس وائرس کی شدت میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

مریضوں میں کمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس میں بہت سے عنصر شامل ہیں جن میں ٹیسٹنگ میں کمی ایک ہے۔ ’اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اب لوگوں میں اس بیماری اور کورونا سے متاثرہ مریضوں میں ابتدائی طبی علاج کے حوالے سے بھی شعور آرہا ہے، جس کی وجہ سے معمولی علامات والے مریض گھروں پر ہی طبی امداد لے رہے ہیں۔‘

کورونا، پاکستان

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی معلومات کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں میں لوگوں نے نجی طور پر آکسیجن سلینڈر خرید کر گھروں میں رکھے ہیں اور وہ وہاں ہی اپنا علاج کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے آکسیجن سلینڈرز کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ’جب مریض ہسپتال ہی نہیں جائے گا تو اسے رپورٹ کیسے کیا جائے گا؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 94 فیصد مریض وہ ہیں جو کسی قسم کی کوئی علامات ظاہر ہی نہیں کرتے اور حکومتی پالیسی کے مطابق ایسے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جائیں گے۔ اس سے بھی یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت متاثرین کی صحیح تعداد رپورٹ نہیں ہو رہی ہے۔

لاہور کے ایک رہائشی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا آٹھ افراد پر مشتمل پورا گھر اس وائرس سے متاثر ہوا۔

’شروع میں جب ہمارے گھر کے دو افراد میں علامات ظاہر ہوئیں تو ہم نے ان کے ٹیسٹ کروائے جو مثبت آئے۔ اس کے بعد باری باری ہمارے سب گھر والوں میں علامات ظاہر ہونے لگیں لیکن ہم نے ٹیسٹ نہیں کروانے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہم کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ ہزاروں روپے ٹیسٹوں پر خرچ کرنے سے بہتر یہی تھا کہ ہم اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیں، جو ہم نے کیا۔‘

’وائرس پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے‘

ماہرین کے مطابق اس وائرس کا پھیلاؤ صرف احتیاط سے ہی روکا جا سکتا ہے۔

اس بارے میں ڈاکٹر محمود شوکت کا کہنا ہے کہ آنے والے دن ہمارے لیے بے حد اہم ہیں کیونکہ آگے عید بھی آ رہی ہے اور اگر لوگوں نے عید اور جانور خریدتے ہوئے احتیاط نہیں کی تو یہ وائرس پہلے سے زیادہ پھیل سکتا ہے۔

انھوں نے امریکہ کہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ سب پہلے سمجھتے تھے امریکہ میں اس وائرس کی انتہا گزر گئی ہے لیکن اب وہاں پہلے سے زیادہ وائرس کا پھیلاؤ سامنے آ رہا ہے، اس لیے بہت ضروری ہے کہ لوگ احتیاط کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *