یہی ہیں وہ لوگ ۔ ۔ ۔

razia syed

مجھے لوگوں سے ملنا جلنا بہت اچھا لگتا ہے کہتے ہیں ناں کہ ہر شخص خودغرض ہوتا ہے تو میں مانتی ہوں کہ میں بھی اس معاملے میں ضرور خود غرض ہوں کیونکہ لوگوں سے میل جول ان کی باتوں اور رویوں سے مجھے لکھنے کے لئے مختلف موضوعات مل جاتے ہیں اور میرے ذہن کے دریچے کھل جاتے ہیں اور میں مختلف اشخاص کی رائے کو صفحات پر منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔
کل ہی میں فیس بک پر ایک کوٹیشن پڑھ رہی تھی جس میں لکھا تھا کہ محبت اور خلوص تب ختم ہوتا ہے جب آپ انسانوں کی بجائے چیزوں سے پیار کرتے ہیں ۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا کہ واقعی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کچھ لوگ اپنی چیزوں کے بارے میں بے حد حساس ہوتے ہیں ۔ ہمارے سابق ایک سڑیل سے باس تھے سٹریل میں نے انھیں اس لئے کہا کہ انھوں نے ایک ملازم کی محض ۸۵ روپے کے پوائنٹر کے لئے بے عزتی کر دی ۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ محترم باس اپنے ہی قلم اور پوائنٹر سے لکھنے کے عادی تھے ، اور اس نئے غریب ملازم کو اس بات کا علم نہیں تھا ، اگرچہ کہ باس کا پین ہولڈر انواع و اقسام کے بال پوائنٹس ، پین اور پوائنٹرز سے بھرا رہتا تھا لیکن پندرہ منٹ کی ڈانٹ سے انھوں نے اس ملازم کو اسکی ’’ اوقات ‘‘ بھی یاد دلانی تھی ۔ اسی طرح اکثر لوگ اپنے موبائل کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں اب موبائل کو پرو ٹیکٹر لگایا ہوا ہے وہ کور میں بھی ہے لیکن جان لبوں پر آئی ہوتی ہے ۔
میرے ایک کزن کے پاس اس وقت آئی فون آیا جب کسی کے پاس سمارٹ فون بھی نہیں تھا اب یہ بھی ان کے دفتر کی وجہ سے انھیں دیا گیا تھا یہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا میں ان کا فون ہاتھ میں لینے لگی محض دیکھنے کو کیونکہ اس وقت ہم سب بھی بچے تھے ۔تو انھوں نے موبائل میرے ہاتھ سے جھٹ سے لیا اور بولے ’’ ارے ارے بیٹا توڑ دو گی تم پورے پچاس ہزار کا ہے ‘‘ ۔ویسے ایسی چیزوں کی قیمتوں کے بارے میں بھی فورا مطلع کر دیا جاتا ہے ۔ اصل میں ایسے ہی لوگ میرے خیال میں بہت کم ظرف ہوتے ہیں ۔
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی دنیا میں ضرور ہیں جو ا پنی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں اور ان کی خوشی محض یہ ہوتی ہے کہ آپ خوش رہیں ۔ میرے ساتھ گذشتہ دنوں ایک خوش گوار واقعہ پیش آیا کہ مجھے شادی میں شرکت کے لئے گاؤں جانا تھا اور ڈرائیور بھی موجود نہیں تھا اب میں پریشان کہ کیا ہو گا جانا بھی مجھے اہل خانہ کے ہمراہ تھا ۔ ابھی میں اسی پریشانی میں تھی اور چاہ رہی تھی کہ خالہ کی بیٹی سے معذرت کر لوں گی تو یقین جانئے کہ میرے ایک سینئر کولیگ اور دوست مغیث نے مجھے اپنی نئی گاڑی سووزوکی کلٹس جو کہ انھوں نے چندماہ پہلے ہی خریدی تھی بمعہ ڈرائیور کے دی ۔ میں بہت حیران کہ دنیا میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو چیزوں کے مقابلے میں انسانوں سے پیار کرتے ہیں لیکن یہ سچ ہے ورنہ عبدالستار ایدھی اور انصار برنی اس دنیا میں نہ ہوتے ۔
باقی رہا قصہ پچاسی روپے کے پوائنٹر اور آئی فون کے مالکوں کا تو مجھے یقین ہے کہ انہی کے لئے قرآن پاک میں ایک آیت نازل ہوئی ہے کہ ’’یہی وہ لوگ ہیں جو برتنے کی چیزیں عاریتاً نہیں دیتے ۔ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *