پنجاب سے جنوبی پنجاب تک

Pakistani author Ayesha Siddiqa prepares to address a press conference in Islamabad, 31 May 2007.  The respected Pakistani author accused the government of attempting to ban the launch of her book"Military Inc: Inside Pakistan's Military Economy,"  on how the powerful military has penetrated the country's economy. Siddiqa said that the book was due to be launched at a conference hall in a government-run club which has had instructions from the top to cancel the reservation.   AFP PHOTO/Aamir QURESHI (Photo credit should read AAMIR QURESHI/AFP/Getty Images)
صوفی محکم دین سیرانی کا مزار بہاول پور سے گیارہ کلو میٹر مشرق کی جانب ہے۔ ان کی وراثت پر بات کرنے کے لیے میرے پاس بہت کچھ ہے، لیکن مزارکے ارد گرد اور گلیوں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیرمیری توجہ بٹارہے ہیں۔ ساٹھ ہزار نفوس پر مشتمل اس قصبے میں میونسپل سروس کی فعالیت بھی رکے ہوئے کلاک کی طرح، گویا نہ ہونے کے برابر ہے۔ آخری مرتبہ میں نے ایسی گندگی امرتسر میں دیکھی تھی۔ اگر لوگوں سے بات کریں تو احساس ہوگا، اس صورت ِحال کی ذمہ داری مقامی عملے پر نہیں، سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں اکالی دل کی قیادت کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ عام لوگ اسے صوبے کی دگرگوں حالت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کی نوجوان نسل منشیات کی عادی بھی ہوتی جا رہی ہے۔ بالکل اسی طرح کی بے چینی جنوبی پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کے حوالے سے بھی پائی جاتی ہے۔ خانقاہ شریف، بہاولپور کی مثال سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگرچہ گزشتہ انتخابات میں پی ایم ایل (ن) کو بھاری مینڈیٹ ملا لیکن صوبائی دارالحکومت سے دور ان علاقوں میں ترقی کے وعدے پورے نہ ہوئے۔ جنوبی پنجاب کا اصل مسئلہ یہی ہے۔
صدیوںکی آمریت تلے دبے رہنے کے بعد اب لوگ صحیح اور غلط کا ادراک کرتے ہوئے نہیں، بلکہ جس طرف سیاسی ہوا چل پڑے، اُسے ووٹ د ے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2013ء کے انتخابات میں خانقاہ شریف قصبے نے پی پی پی کے امیدوارکو ووٹ نہیں دیا تھا؛ حالانکہ اُس نے اپنے حریفوں کی نسبت 2008ء کے بعد علاقے میں اچھا کام کیا تھا۔ اس نے علاقے میں کافی کام کرائے، عوام کو یوٹیلیٹی سہولیات فراہم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا، لیکن موجودہ صوبائی اسمبلی میں اس خطے سے بھی حکمران جماعت کی نمائندگی اس لیے ممکن ہوگئی کہ اُس وقت سیاسی ہوا کا رخ پی ایم ایل (ن) کے حق میں تھا۔
اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ تمام جنوبی پنجاب دم سادھے پاناما لیکس کے مضمرات پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس بگولے سے مہمیز پانے والی ہوا کا رخ دیکھ کر اس بات کا تعین کرے کہ آئندہ سیاسی حمایت کس کھلاڑی کو دینی ہے۔ مبادا کوئی یہ سوچے کہ جنوبی پنجاب کا صرف ایک حلقہ ہی تمام مسائل کی آماجگاہ ہے، دیگر علاقوں کا بھی یہی حال ہے۔ زیادہ تر کیسز میں مُنتخَب افراد شاکی رہتے ہیں کہ تمام اختیارات اور وسائل کا ارتکاز لاہور میں ہے۔ چونکہ ترقیاتی فنڈز آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے،اس لیے مُنتَخَب ارکان کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔ اس کے علاوہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں بھی صرف اس لیے فعال نہیں کیا جارہا کیونکہ تمام فنڈز اورنج ٹرین یا میٹرو بس پر صرف ہوچکے ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں پر ضرورت سے زیادہ فوکس ہونے کی وجہ سے گراس روٹ لیول پر ترقی کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام لوگ شمسی توانائی کے منصوبوں سے بڑھ کر کچھ اور مطالبات رکھتے ہیں۔ انہیں سڑکیں، بجلی، پینے کا صاف پانی، سکول اور صحت کی سہولتیں چاہئیں، نیز وہ اپنے سیاسی رہنمائوں تک آسان رسائی چاہتے ہیں تاکہ وہ سرکاری افسران سے اپنے کام کراسکیں اوراُنہیں ماتحت عملے کے رحم وکرم پر نہ چھوڑ دیا جائے۔ جہانگیر ترین کی ماضی میں شکست کی وجہ اُن تک عوام کی رسائی کا مسئلہ تھا۔ لوگ ایک شیطان پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جو ان کے قریب ہو اور اُن کی بات سنے، بجائے اس فرشتے کے جو اُن کی پہنچ سے باہر ہو۔ یہاں کے مقامی افراد جہانگیر ترین سے گویا لاکھوں میل دور ہیں (وہ ضمنی انتخاب
کیسے جیتے، یہ ایک راز ہے۔) کیا یہ حقیقت ہے کہ پی ایم ایل (ن) سے تعلق رکھنے والے مرکزی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو وسائل نہیں ملے؟ اس علاقے میں سفر کرنے سے ایک اور تکلیف دہ حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔ پہلی یہ کہ یہ علاقہ خود اتنا وسیع ہے کہ اسے ایک الگ صوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ بہاولپور میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اُن علاقوں میں فنڈز کا استعمال ہوا ہے جہاں پنجابی آبادی ہے لیکن سرائیکی علاقے ترقی سے محروم ہیں۔ مخصوص آبادی کے ساتھ یہ سلوک یقیناً خوش گوار صورت ِحال نہیں۔ اس سے سرائیکی آبادی کا ناراض ہونا فطری بات ہے۔ اس پر عوام اپنے مُنتخَب نمائندوں سے سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ اگر پنجابی ممبران فنڈز حاصل کرسکتے ہیں تو دیگر ممبران کو فنڈز کیوں نہیں ملتے؟ اگرچہ اس کا کوئی جواب نہیں ملے گا، لیکن یہ خاموشی پی ایم ایل (ن)کے لیے سود مند نہیں۔ خطے سے تعلق رکھنے والے وزرا بھی آئندہ شاید ہی مُنتخَب ہوسکیں۔ کچھ وزرا تو اپنے حلقے کے عوام سے روپوش رہنے میں ہی بہتری سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مہیا کرنے کے قابل نہیں۔ اس کے علاوہ یہ تاثر بھی گہرا ہو رہا ہے کہ وسطی پنجاب کے شہروں سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت جنوبی پنجاب کے زرعی شعبے کو نقصان پہنچا کر تاجر طبقے کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اُنہیں پی ایم ایل (ن) کی بجائے پی پی پی کے دورمیں زیادہ فوائد حاصل تھے۔
ان حالات میں جنوبی پنجاب آہستہ آہستہ پی پی پی کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے، لیکن گراس روٹ لیول پر غیر موجودگی ذوالفقار علی
بھٹو کی جماعت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ حالیہ دنوں رحیم یار خان میں بہت بڑا جلسہ ظاہرکرتا ہے کہ مخدوم احمد محمود کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے، نیز سرائیکی آبادی کی موجودہ صورت ِحال سے مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔ رحیم یار خان میں
پنجابیوں اورسرائیکیوںمیں تنائو واضح نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ پی پی پی اگلے انتخابات میں کلین سویپ کرے گی، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس نے جنوبی پنجاب میں سانس لینا شروع کردیا ہے۔ اگر گراس روٹ لیول پر کسی واضح پالیسی کے مطابق کام کیا جائے اور جنوبی پنجاب کی ترقی کے منصوبے اور نئے صوبے کے امکانات پر غیر مبہم انداز میں بات کی جائے تو پی پی پی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے۔ اس وقت یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جنوبی پنجاب میں پی پی پی مکمل طور پر ختم ہو چکی، حتّی کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو زرداری صاحب کو بھی مکمل طور پر سائیڈ لائن پر نہیں دیکھنا چاہتے۔
بہرحال ایک سوال اپنی جگہ پرموجود ہے کہ آخر یہاں پی ٹی آئی اپنی موجودگی کیوں نہیں رکھتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عمران خان کی پی ٹی آئی ویسی ہے جیسے انڈیا میں اروند کجریوال کی ''عام آمی پارٹی ‘‘ جس کی موجودگی صر ف شہروں میں دکھائی دیتی ہے لیکن دیہاتی اور مرکز سے دور آبادیوں میں اپنا وجود نہیں رکھتی۔ 2013ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے انتہائی خراب انتخابی شراکت داری کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ذمہ داری شاہ محمود قریشی کے سپرد کی گئی جنھوں نے عوام تک رسائی حاصل کرنے کی بجائے چند جاگیردار خاندانوں کے ساتھ روابط کو ہی کافی گردانا۔ اگر جنوبی پنجاب کی کسی گلی میں کسی عام آدمی سے بات کریں تو وہ بھی اندرون سندھ کے افراد کی طرح بتائے گا کہ اُن کے درمیان پی ٹی آئی اپنا وجود نہیں رکھتی۔ ہو سکتا ہے کہ ناقدین ان افراد کی پسماندگی اور تعلیم کی کمی پر تیوری چڑھاتے ہوں لیکن در اصل اُس رعونت اور منفی سیاست کا گریبان پکڑنا چاہیے جس نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی معاشرے کو مجموعی طور پر پسماندگی کے جال سے آزاد نہیں ہونے دیا۔ مستعمل فارمولہ یہ ہے کہ عوام ریاست کے لیے ہیں، ریاست عوام کے لیے نہیں۔ تاہم اس فارمولے کے اندر رہتے ہوئے بھی عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد دیے جاسکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں جنوبی پنجاب کس طرز ِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *