ایک اور چراغ بجھ گیا

ارشادمحمود
آج پاکستان کے بہادرسپوت اور کھرے سیاستدان سردار سورن سنگھ کی شہادت کی خبر ملی تو دل دھل گیا۔
گزشتہ چھ برس سے خوشی غمی کا کوئی موقع ایسا نہیں گزرا جب موبائل فون پہ سوات سے سردار سورن سنگھ کی آواز نہ گونجی ہو۔ہیلو کہتے ہی اپنا تعارف یوں کراتے:سوات سے آپ کا دوست سردار سورن سنگھ بول رہاہوں۔جواب میں بے تکلفی سے نعرے مستانہ بلند کرتا۔سست سری اکال سردار جی۔ ہم دونوں زوردار قہقہ مارتے۔سارے پردے اور تکلفات چھٹ جاتے اور کافی دیر تک باتیں کرتے رہتے۔ملکی صورت حال، سیاست، تحریک انصاف کی داخلی سیاسی کشمکش اور خیبر پختون خوا کے حالات۔موضوعات تھے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے۔
sardar soran
چھ برس کی رفاقت میں سردار جی کو کبھی بھی مایوس یا بے حوصلہ نہ پایا۔ان کی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز آئے۔سوات میں طالبان کے عروج کے زمانے میں سکھوں کے لیے زندگی کے دن کاٹنا کوئی سہل کام نہ تھا۔لیکن سورن سنگھ نے اپنا شملہ اونچا ہی رکھا۔وہ سیاست ضرور کرتے تھے لیکن کسی سے ان کی دشمن داری نہ تھی کہ نوبت قتل تک جاپہنچتی۔
سینئر صحافی محترم ہارون الرشید کے ہمراہ مینگورہ میں پاکستان آرمی کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمی نار میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں سردار سورن سنگھ سے ملاقات ہوئی جو بتدریج ایک دائمی رشتے میں بدل گئی۔وہ ہارون الرشید صاحب کے جگری اور بے تکلف دوست تھے۔مینگورہ میں انہوں نے ہماری ایک تاریخی ضیافت کی۔جن کی بادیں کبھی بھی حافظے کی سکرین سے محو نہیں ہوں گی۔استادمحترم پرویز اقبال چیمہ اور رسول بخش رئیس بھی ہمرکاب تھے۔رات گئے لوٹ کر سیرینہ ہوٹل مینگورہ پہنچے تو بدن ٹوٹ پھوٹ رہاتھا لیکن سورن سنگھ کی شگفتگی تازہ دم اورقہقوں کی رفتار قائم ودائم تھی۔مجھے ان میں ایک مستقل مزاج اور پہیم جدوجہد کرنے والا سیاستدان نظر آیا جو وقت کے ساتھ ترقی کرتااور مسلسل آگئے بڑھتاجاتا۔
اپنی مٹی سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ایک مرتبہ پوچھا کہ سردار جی لوگ پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہے ۔بیرون ملک سیاسی پناہ بھی آسانی سے مل جاتی ہے آپ نے کینیڈا یا یورپ جانا کیوں پسند نہ کیا۔کچھ پیشمان سے ہوئے اور پھر کہنے لگے۔کئی بار دوستوں نے مشورہ دیا کہ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہوجاؤ کہ وہاں اپنی سکھ برداری بھی بہت ہے لیکن دل نہیں مانتا۔اس دھرتی کو ہمارے پرکھوں نے اپناخون پیسنہ دے کرسینچا ہے۔اس مٹی سے ہماری اب نعش ہی اٹھے گی۔سیانے کہتے ہیں کہ بعض اوقات اچانک زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ہوجاتے ہیں۔واقعی سردار جی کی ارتھی اس ملک سے اٹھی۔
آج سردار سورن سنگھ کو خون میں نہلا دیا گیا۔ان کے قاتلوں کے چہروں پرکالے نقاب ضرورپڑے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور ان کی ڈور کہاں سے ہلتی ہے۔روپیہ کہاں سے آتاہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ دن دور نہیں جب ان کے چہرے بے نقاب ہوں گے۔
سورن سنگھ کا قتل محض ایک سکھ سیاستدان کا قتل نہیں بلکہ ایک ایسی آواز کو خاموش کردیاگیا جو پاکستان کا نام روشن کررہی تھی۔جو دنیا میں پاکستان کا ایک متبادل چہرہ پیش کررہی تھی لیکن بدقسمتی سے کچھ قوتوں کو یہ پسند نہیں کہ پاکستان ایک اعتدال پسند ملک کے طور پر نظر آئے۔اس لیے وہ اقلیتوں کو اس ملک سے نکالنا چاہیتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ قائد اعظم محمد علی جناح قیام پاکستان کے بعد جب کراچی تشریف لائے تو انہوں نے پارسیوں، ہندووں اور سکھ تاجروں اور سرکردہ لوگ سے انفرادی طور پر ترک وطن نہ کرنے کی درخواست کی۔
افسوس کے سورن سنگھ کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔وہ نہتے نہ ہوتے تو شاید یہ حادثہ رونما نہ ہوتا۔تحریک انصاف کی حکومت کو یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آخر انہیں سیکورٹی کیوں دستیاب نہ تھی۔علاوہ ازیں سورن سنگھ کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز عطا کیاجائے اور ان کے خاندان کے تحفظ کا بندوبست بھی کیاجائے۔ایسےایثارکیش لوگ ملک اور قوم کا سرمایا افتٍخار ہوتے ہیں۔ان کی قدر کی جانی چاہیے۔آج سردار سورن سنگھ ہم درمیان موجود نہیں لیکن ان کا مشن زندہ ہے۔ایک روشن اور خوشحال پاکستان کا مشن جہاں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے پیروکاروں کو مکمل آزادی حاصل ہوگی کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی جی سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *