قومی کتاب میلہ اور کمرہ نمبر 214

khawaja mazhar nawaz

پاک چائنہ سنٹر میں علم و ادب کا شہر سجا ہے. کون کہتا ہے کہ کتاب پڑھنے اور کتاب خریدنے والے نہیں رہے. ہم ابھی اتنے گئے گزرے بھی نہیں ہوئے. ہمارے ملک میں کتاب لکھی، چھاپی، خریدی اور پڑھی جا رہی ہے. جسے یقین نہ آئے وہ اپنی آنکھوں سے آکر خود دیکھ لے. بقول شاعر، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی.
آج جب میں اسلام آباد میں منعقدہ قومی کتاب میلے میں پہنچا تو سچ جانئے کہ پاک چائنہ سنٹر میں واقعی میلے کا سماں تھا. کتاب دوستوں اور ادیبوں کا حقیقی اجتماع دیکھنے کو ملا. جہاں شرکت سے فقط میرا دل ہی نہیں روح بھی سرشار ہوئی ہے. نیشنل بک فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس میلے میں سب سے متحرک شخص نظر آئے. ہم چونکہ کتاب دوستی کے سفیر ہیں. اور قلم و کتاب سے ہمارا قلبی تعلق ہے. اس لیے جیسے ہی چند روز پہلے ہمیں آفاق لیڈرز کلب اور کاروان ادب اطفال کی طرف سے بچے اور بچوں کا ادب کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی.تو ہم اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر حکمرانوں کے شہر پہنچ گئے. جہاں پانامہ لیکس اور قوم سے خطاب کے تذکرے اور چرچے زباں زد عام ہیں. بچوں کا ادب سے متعلق سیمینار پاک چائنہ فرینڈ شپ سنٹر کے کمرہ نمبر 214 میں منعقد ہوا. جس میں ہمیں بھی اظہار خیال کا موقع ملا. ہم نے کہا کہ بچوں کا ادب کی تحریک کو متحرک،مستعد اور فعال کیا جائے. اس کی نئے سرے سے، ٹھوس بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے کہ کیسے نئی نسل کو کتاب سے جوڑنا ہے؟ اور بچوں کا ادب کو نئے لہجوں اور نئے رویوں سے کیسے ہم آہنگ کرنا ہے؟. سر جوڑ کر یہ بھی سوچنا ہے کہ بچوں کا ادب اور ادیبوں کی تحریک کو کس طرح پختگی دینی ہے. کیونکہ اگر غور کریں تو ہی پتہ چلتا ہے کہ وقت اور سوچ کے ساتھ سب کچھ تو بدل گیا ہے. ملک بھر سے تشریف لائے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے ادیبوں ڈاکٹر افتخار کھوکھر،احمد حاطب صدیقی، اسلم کمال، اصغر ندیم سید، سعداللہ شاہ، نذیر تبسم، اسلام نشتر، اشفاق احمد خان، ندیم اختر، اظہر عباس، پروفیسر اسحاق وردگ، روبنسن سیموئیل گل، کاشف بشیر کاشف، جاوید نور، اعجاز احمد اعجاز، اویس یوسف زئی، عبدالصمد مظفر، طارق حسین، سدرہ افضل، عامر حسن، لطیف کھوکھر، سحر مجید، ثناء مجید، احسن حامد، فرخ شہباز وڑائچ، ریاض عادل اور دیگر احباب نے اظہار خیال کیا. سعداللہ شاہ اور احمد حاطب صدیقی نے اپنی شاعری سنا کر داد حاصل کی. ڈاکٹر افتخار کھوکھر صاحب کے خیالات کو سب نے سراہا. محمد علی بیک وقت کئی امور سر انجام دیتے رہے. تین گھنٹے جاری رہنے والی اس تقریب کے تین عدد سٹیج سیکرٹری تھے. جو بار بار بدلتے رہے. صدر تقریب احمد حاطب صدیقی اپنے صدر مملکت ممنون حسین جیسا کردار نبھایا. خاموشی اور سنجیدگی سے تقاریر سنتے رہے. کمرہ نمبر 214 میں کتاب میلے میں آئے افراد کی تانکا جھانکی جاری رہی. لوگ ثواب سمجھ کر دروازہ کھولتے،حاضرین کی زیارت کرتے اور پھر واپس لوٹ جاتے. آفاق ٹیم کی کارکردگی مہمانوں کو عزت دینے کے حوالے سے عمدہ رہی. جوس، تحائف، ایوارڈز اور بریانی سے مہمانوں کی تواضع کی گئی . اسلام آباد کے میزبانوں کا خلوص بہت اچھا لگا. بہت سے پرانے دوستوں سے ملاقات کر کے انمول خوشی ملی. زیادہ تر دوست بچوں کا ادب کے سفیر بنے ہوئے ہیں. محبوب الہی مخمور، احمد عدنان طارق، علی اکمل تصور، طاہر عمیر، اور نذیر انبالوی کی میلہ میں کمی محسوس کی گئی. مرحوم اشتیاق احمد بھی خوب ذہن پر چھائے رہے. عبدالرشید فاروقی، عبدالجبار صبا، ضیاء اللہ محسن اور فہیم عالم کو بھی اس قومی کتاب میلے کی رونق بننا چاہئے تھا. جناب اختر عباس کا بھی کئی دوستوں نے ذکر خیر کیا. بچوں کا گلستان کے ملتان کے اکٹھ کے فورا بعد یہ بچوں کا ادب کا ایک یادگار اجتماع تھا. خاکسار نے اس سیمینار میں ڈاکٹر افتخار کھوکھر کو پاکستان میں بابائے بچوں کا ادب کا خطاب دیا. تقریب تو ساڑھے گیارہ بجے شروع ہو کر تقریبا ڈھائی بجے ختم ہو گئی تھی. مگر مجھے لگتا ہے کہ میں ابھی بھی پاک چائنہ فرینڈ شپ سنٹر کے کمرہ نمبر 214 میں بیٹھا بچوں کا ادب کے فروغ کے سیمینار میں نامور ادیبوں کے نادر خیالات اور تجاویز سے مستفید ہو رہا ہوں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *