Site icon DUNYA PAKISTAN

محی الدین طخوت: ایک سبزی فروش کا ارب پتی بننے اور پھر جیل جانے تک کا سفر

Share

الجیریا کے ارب پتی کاروباری شخص محی الدین طخوت کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت عدالت کی جانب سے 16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اُن پر 62 ہزار امریکی ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے ان کے خاندان کے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

ان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول ایک بیٹے اور تین بھائیوں کو بھی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں گئی ہیں۔

اسی مقدمے میں الجیریا کے دو سابق وزرائے اعظم عبد الملک السلال اور احمد اويحيىٰ کو محی الدین کو ’غیرقانونی فوائد‘ دینے کے جرم میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے مگر انھیں رشوت اور جھوٹے بیانات کے مقدمات سے بری کر دیا گیا ہے۔

مگر یہ ’غیر قانونی فوائد‘ حاصل کرنے والے محی الدین کون ہیں؟ اور وہ سبزی منڈی میں کام کرنے والے ایک عام شخص سے ارب پتی کاروباری شخصیت کیسے بنے؟

سبزی فروش سے ارب پتی بننے کا سفر

اپریل 2019 میں عوامی احتجاج کے بعد صدر بوتفلیقہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے کئی کاروباری اور دولت مند شخصیات کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے اور طخوت ایسے افراد کی فہرست میں ایک حالیہ اضافہ ہیں۔

ٹرانسپورٹ، گاڑیوں کی تیاری اور دیگر تجارتی شعبوں سے وابستہ محی الدین کو جون 2019 میں کرپشن، منی لانڈرنگ، اقربا پروری اور الجیریا کے قوانین کے برخلاف تجارتی منڈیوں میں داخلے کے لیے ناجائز مراعات کے حصول کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔

محی الدین سنہ 1963 میں الجیریا میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کم سنی میں ہی ایک سبزی منڈی میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

سابق وزیر اعظم احمد اويحيىٰ کو محی الدین کو ‘غیرقانونی فوائد‘ دینے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے

کام کی وجہ سے انھیں سکول چھوڑنا پڑا اور پھر وہ مکمل طور پر منڈی میں کام کرنے لگے۔ مگر دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں وہ ایک بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک اور الجیریا کے تجارتی حلقوں میں ایک نامور شخصیت بن گئے۔

وہ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی خرید و فروخت اور پرانی گاڑیوں کی مرمت کے کام سے وابستہ رہے جس کے بعد انھوں نے 1980 کی دہائی کے آواخر میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی شروع کی جس نے ان کے قریبی لوگوں کے مطابق ’چار پرانی بسیں خرید کر انھیں مختلف شہروں کے درمیان چلانا شروع کر دیا۔‘

یہ کمپنی اب کافی وسیع ہو چکی ہے خاص طور پر 1990 کی دہائی کے دوران یونیورسٹیوں سے ٹرانسپورٹ کا معاہدہ حاصل کرنے کے بعد یہ زیادہ تر الجیریائی ریاستوں کی یونیورسٹیوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔

ہیونڈائی سے معاہدہ

سنہ 2009 انھوں نے فرانسیسی کمپنی ایئر میڈیٹیرینیئن کی الجیریا میں نمائندہ کمپنی ’سلام ٹور‘ کو مالی پیشکش کر کے فضائی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی۔

تاہم ان کا یہ کام زیادہ عرصہ نہ چلا اور جلد ہی انھوں نے اس شعبے سے دستبردار ہو کر زمینی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی تجارت پر اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کر لی۔ انھوں نے ’سیما موٹرز‘ نامی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کا کام الجیریا میں گاڑیاں تیار کرنا تھا۔

حکمرانوں کی بدعنوانی کے خلاف شہری مظاہرہ کر رہے ہیں

اس کمپنی کو دنیا کی مشہور کار ساز کمپنیوں میں سے ایک ’ہیونڈائی‘ سے الجیریا میں اپنی گاڑیاں تیار کرنے کے لیے مراعات ملیں اور انھوں نے اس کام کے لیے ایک صنعتی کمپلیکس بھی قائم کیا جس میں 350 افراد کام کرتے ہیں۔

طخوت کے خلاف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر الزام عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ انھوں نے کس طرح سابق وزیر اعظم احمد او یحییٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آمدنی اور اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔

ان کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

خاندان پر پابندیاں

ان کے بھائیوں حامد، راشد اور ناصر، اور ان کے بیٹے بلال کو بھی اُن کے ساتھ سزائیں سنائی گئی ہیں۔

حامد، راشد اور بلال کو سات، سات سال قید اور 80 لاکھ الجیریا دینار (62 ہزار امریکی ڈالر) فی شخص جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان کے تیسرے بھائی ناصر کو تین سال قید اور 80 لاکھ دینار جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے اس مقدمے میں ہر کمپنی مثلاً طخوت ٹرانسپورٹ اینڈ ایگریکلچر کو تین کروڑ 20 لاکھ دینار کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا، ان کے خاندان کی جائیدادیں ضبط ہوں گی جبکہ وہ پانچ سال کے لیے کوئی بھی بزنس ڈیل کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

Exit mobile version