ہم کب سیکھیں گے ؟

Irfan Hussainعرفان حسین

چند دن پہلے میں ’’ایکسپریس ٹربیون‘‘ کے پہلے صفحے پر ایک کہانی ،جس میں تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل مولانا یوسف شاہ کا ایک حوالہ درج تھا، پڑھ کر حیران رہ گیا ۔ مولانا کا کہنا تھا طالبان دھشت گرد نہیں بلکہ ’’ریاست سے ناراض بھائی ہیں‘‘۔
بہت اچھے، اگر صرف ہلکا پھلکا ناراض ہونے سے ہی کوئی پچاس ہزار سے زائد بے گناہ آدمی ، عورتیں اور بچے ہلاک کردیے تو پھر یہ سوچ کر بدن میں لرزہ طاری ہوجاتا ہے کہ اگر یہ لوگ واقعی غصے میں آگئے تو کیا ہوگا۔ مولانا یوسف شاہ صاحب کو ملنے والی پذیرائی اس بات کااظہار ہے کہ آج کل طالبان کے بہت سے ترجمانوں کو ریاست نے اپنے مساوی اسٹیک ہولڈرز کے درجے سے نواز دیا ہے اور میڈیا بھی اس ’’مینڈیٹ ‘‘ کا احترام کرتا ہے۔ طالبان کے درجنوں قیدیوں کی غیر مشروط رہائی سے بھی یہ تاثرگہرا ہوتا ہے کہ طالبان کو ہونے والے خفیہ مذاکراتی عمل میں بالا دستی حاصل ہے اور وہ اپنی شرائط منوارہے ہیں۔ درحقیقت شہباز تاثیر ، علی حیدر گیلانی اور پروفیسر اجمل، جنہیں طالبان نے تاوان کی خاطر اغواکررکھا ہے، کی رہائی کی کوئی یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکامی حکومت کی کمزوری کا مظہر ہے۔
اس ضمن میں اپوزیشن کا طرزِ عمل بھی مایوس کن ہے کیونکہ وہ پی پی او(پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس ) کی حمایت کرنے میں ناکام رہی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس آرڈیننس کی بہت سی شقیں کسی بھی جمہوری نظام کے لیے ناقابلِ قبول ہیں لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ہم کوئی عام جنگ نہیں لڑرہے ہیں اور نہ ہی ہمارا واسطہ ایسے دشمن سے ہے جو آئینی تقاضوں کا لحاظ رکھتا ہو۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ 9/11 کے بعد دھشت گردی کے سدِ باب کے لیے امریکی اور دیگر جمہوری ریاستوں میں بہت سے جابرانہ قوانین بنائے گئے۔ بہرحال ، یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک میں دھشت گردوں سے نمٹنے میں ناکامی کی وجہ سیکورٹی فورسز کے پاس آئینی اختیارات کی کمی نہیں ، بلکہ ہم اس عزم سے تہی داماں ہیں جو دھشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے درکار تھا۔ دراصل سیکورٹی فورسز موجودہ قوانین پر بھی عمل کرکے دھشت گردی پر قابوپاسکتی تھیں لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا۔
کراچی سے کوہاٹ تک ، ہماری سیکورٹی فورسز پر دھشت گردوں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں سے ایک بات کا خدشہ درست محسوس ہوتا ہے کہ ہماری فورسز کی ٹریننگ، انٹیلی جنس حاصل کرنے کی صلاحیت، قیادت اور ھارڈ وئیر میں کچھ کمی ضرور ہے جوانتہا پسند انہیں اتنی آسانی سے نشانہ بنالیتے ہیں۔ گزشتہ سال بنوں جیل پر حملے، جس میں طالبان نے اپنے دو سو اڑتالیس قیدی چھڑا لیے، سے بہت پہلے پشاور کے حکام کو اس متوقع حملے سے خبردارکردیا گیا تھا لیکن جب طالبان نے حملہ کیا تو تیاری کے باوجود ایلیٹ فورس کے جوان اور جیل کے گارڈز دھشت زدہ ہو کر بھاگ گئے۔ 2009 میں طالبان نے جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملہ کیا۔ سیکورٹی اہل کاروں کی وردیاں پہن کر دھشت گرد تھوڑی سی گن فائٹ کے بعد بھاری بھرکم سیکورٹی کا حصا ر توڑ نے میں کامیاب ہوگئے۔ اس میں ہونے والے جانی نقصان کو جانے دیں، اٹھائی جانے والی ہزیمت کا کیا کیا جائے کہ ایک ریاست کی اتنی بھاری بھرکم فوج اپنے ہیڈکوارٹرز کو بھی محفوظ نہیں بنا سکتی۔
میں نے صرف چند ایک واقعات بیان کیے ہیں، ایسے بہت سے واقعات ہیں جب دھشت گردوں نے بلاخوف کاروائی کی اور شہریوں اور سیکورٹی اہل کاروں کا خون بہایا۔ ان مثالوں سے ایک حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ان حملوں کے مقابلے میں ہماری تیاری کا معیار درست نہیں۔ اس میں آئینی کمزوری کا کوئی ایشو نہیں ۔ عوام یہ تکلیف دہ سوال اٹھانے پر مجبورہیں کہ جب ہمارے عسکری ادارے اپنے دفاتر کو بھی محفوظ نہیں بنا سکتے تو وہ عوام کو کیسے تحفظ فراہم کریں گے۔ 2012 میں کامرہ کے منہاس آئیربیس پر حملے کے بعد ہونے والی کورٹ مارشل کی کاروائی کے دوران ایک گارڈ نے کہا کہ اس کے پاس رات کو دیکھنے والے آلات نہیں تھے اور اُسے رات کے وقت ہونے والی فائرنگ سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ گزشتہ سال ایف سی کے ایک اعلیٰ افسر کا بیان سامنے آیا تھا کہ اس کے جوانوں کو مطلوبہ تعداد میں ہتھیار اور بلٹ پروف جیکٹس فراہم نہیں کی گئیں۔ اس وقت بھی پولیس کے لیے غیر معیاری ہتھیار خریدنے کا مقدمہ خیبر پختونخواہ میں چل رہا ہے۔
درحقیقت سخت سے سخت قوانین بھی اچھی سیکورٹی کویقینی نہیں بنا سکتے ۔ ہم اس معاملے کو اتنے غیر سنجیدہ انداز میں لے رہے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے پاکستان ، اس کے شہری اور اس کے سیکورٹی ادارے بدترین دھشت گردی کا شکار ہیں لیکن ابھی تک نہ تو سیکورٹی اہل کاروں کو مطلوبہ ہتھیار فراہم کرپائے ہیں اور نہ ہی اُنہیں دھشت گردی سے نمٹنے کی تربیت دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اپنی بقا کے اس انتہائی سنجیدہ مسلے سے نمٹنے کے لیے تمام تروسائل کو بروئے کار لانے کی بجائے سیاسی جماعتیں بے کار اور لاحاصل معاملات پر بحث مباحثے میں وقت ضائع کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا کمزور قانونی نظام بھی دھشت گردی جیسے عفریت کا سر قلم سے قاصر ہے۔ ہماری عدالتوں سے قاتلوں اور دھشت گردوں کو آسانی سے ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے یا ’’ناکافی ثبوت ‘‘ کی بنا پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنا پرمیں کہہ سکتا ہوں کہ صرف گیارہ فیصد قتل کی وارداتوں کے مجرموں کو سزا ملتی ہے۔
جس دوران ہمیں ریاستی نظام کی تباہی پر تلے ہوئے انتہائی سفاک اور بے رحم دشمن کا سامنا ہے، ریاست کاردِ عمل انتہائی کمزور ہے۔ طالبان اپنے مقصد میں تیر کی سیدھے اور فولاد کی طرح بے لچک ہیں جبکہ ریاست ان کے ہاتھ موم کی ناک بنی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اجتماعی خودکشی پر تلے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ جنگ ، جس میں ہم بتدریج شکست کھارہے ہیں، میدان کے علاوہ ہمارے کلاس رومز اور ٹی وی اسٹوڈیوز میں بھی لڑی جارہی ہے۔ ہم اپنے بچوں کے ذہن میں نفرت کا زہر بھر رہے ہیں جبکہ ہمارے نامی گرامی ٹی وی اینکرز عدم برداشت اور انتہائی نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ وہ اکثر نیم خواندہ (جو ناخواندہ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں) مولویوں کو اپنے پروگراموں میں بلا کر معاشرے میں تعصبات پھیلاتے ہیں۔ جب یہ تمام عوامل جاری ہیں توپی پی او قانون بنانے سے کیا تبدیل ممکن ہے؟قانون ہمت اور ارادے کا متبادل نہیں ہوتا۔ لڑنا تو دورکی بات، ابھی تو ہم اپنے دشمن کی شناخت بھی نہیں کرپائے ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *