مختصر کہانیاں

qasim yaqoob

قاسم یعقوب صاحب نہایت منجھے ہوئے لکھاری ہیں، آپ کالم نگاری، تجزی نگاری کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری میں بھی اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، زیر نظر مختصر کہانیاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک اور رخ متعین کرتی ہیں، اپنی ان مختصر کہانیوں کے بارے میں قاسم یعقوب صاحب کا کہنا ہے کہ " ان کہانیوں میں معاشرے کے مجموعی بے حس روایت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میرے بچے کسی نہ کسی طرح ان کہانیوں کی تحریرکا موجب بنتے رہے "ہیں۔یہ تقریباً تمام کہانیاں میری آب بیتی بھی ہیں۔ میں نے ان کو کہانیوں کا روپ دے دیا ہے۔


ایک جان کا زیاں

dog

میرا بیٹا فائق تین سال کا ہو گیا ہے۔ جانوروں کو بہت شوق سے دیکھتا ہے۔ میں اکثر گاڑی روک کے اسے گھوڑا، کتا ، گائے وغیرہ دکھاتا ہوں۔
ایک دن ایک کتیا اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی تھی۔ پانچ پِلّے ماں پر جھپٹے پڑے تھے۔ فائق نے پوچھا:
’’بابا! یہ کیا کر رہے ہیں‘‘
میں نے کہا:
’’بیٹا؛ ان کی ماں انھیں دودھ پلا رہی ہے‘‘
اگلے دن اسی جگہ وہ کتیا ایک کار حادثے میں ماری گئی۔ میں نے قریب سے گزرتے ہوئے کار آہستہ کر دی۔فائق اس کی مسخ شدہ لاش کو کئی دیر تک دیکھتا رہا۔
رات کو سونے سے پہلے اپنی ماں سے کہنے لگا:
’’ ماما! میں اپنا فیڈر کتیا کے بچوں کو دے آؤں؟ ان کی ماما کے پیٹ میں جو دودھ تھا۔ وہ آج سڑک پر بہہ گیا‘‘
______________________

لڑکی کا جنازہ

janaza

آج اُس کا جنازہ تھا۔بلاخروہ مر گیا۔
سنا ہے کہ اُس نے طیش میں آ کے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا تھا۔ بہت بے دردی سے وار گئے بہت دیر بعد اُس کی جان نکلی تھی۔ بیٹا پندرہ سال کا تھا۔ ابھی انڈر ایج تھا ۔قتل اُس کے ہاتھ پہ ڈال دیا اور اپنی معافی پہ بیٹے کوچھڑوا لیا تھا۔ تھانے دار نے اُسے بتایا تھا کہ تم نے ایک بے گناہ کو قتل کر دیا۔مگر وہ ہیلوں بہانوں سے اپنے جرم پہ فخر کرتا رہا۔
بیٹی کی ماں نیم پاگل سی رہنے لگی تھی۔ رفتہ رفتہ اُسے احساس ہونے لگا۔ وہ مسجد کا رُخ کرنے لگا۔ نمازوں کے ساتھ اب مسجد میں ہر جمعہ کو جھاڑو دیتا اور ساتھ روتا رہتا۔پھر اُس نے مسجد میں ہی رہنا شروع کر دیا۔ رات امام مسجد اُسے بہت مشکل سے گھر بھیجتے۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ’’ اُسے کوئی مار دے۔ میں خود اپنے آپ کو نہیں مار سکتا کیوں کہ میں نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہے، اب دوسرا قتل نہیں کر سکتا۔‘‘
ایک دن وہ گلاب کی پتیوں کو پانی کے ٹب میں کھول کے مسجد میں لے آیا اور جماعت سے کچھ ہی وقت پہلے فرش کو دھونے لگا۔ نمازیوں کو شدید مشکلات ہونے لگیں۔ ایک شخص نے اُسے دھکا دے کے کہا کہ اس طرح وہ خون کے دَھبے نہیں دُھلنے جو تیرے گھر میں گڑھوں کی صورت پڑے ہوئے ہیں۔
آج وہ مر گیا۔ اُس کے جنازے میں اُس کے چند رشتے دار، اُس کا بیٹا اور محلے سے صرف میں گیا تھا۔ کیوں میں اُس لڑکی کا جنازہ پڑھنے سے رہ گیا تھا۔

______________________

خود کش حملہ

qabristan

کاشی کچی آبادی میں رہنے والا دس سالہ بچہ تھا۔
اس کے محلے میں کوئی گراؤنڈ نہیں تھا۔ وہ ساتھ قبرستان کے جنازہ گاہ میں قبروں میں چھپن چھپائی کھیلتے۔قبریں کم ہونے کی وجہ سے کاشی اکثر پکڑا جاتا۔
کاشی کا باپ مونگ پھلی کی ریڑھی لگاتا تھا۔ ایک دن بازار میں خود کش بم پھٹا اور کاشی کا باپ مارا گیا۔
جب اسے قبرستان میں دفنایا جا رہا تھا تو کاشی روتے ہوئے اپنے دوست سے کہنے لگا:
’’اب میں تم سے جیت جاؤں گا، کیوں کہ یہی ایک قبر نہ ہونے کی وجہ سے میں کل یہاں پکڑا گیا تھا۔‘‘
______________________

دہشت گردی

shia

میں امام باڑے میں داخل ہوا تو ذاکر صاحب پُرجوش خطبہ دے رہے تھے:
’’امام حسین کے قاتلوں کا کسے نہیں معلوم،
یزید کون تھا، زیدیت کسے کہتے ہیں___کیا سب جانتے نہیں؟‘‘
مجمع مشتعل ہو رہا تھا:
’’کیا وقت کے یزید ختم ہو گئے؟ نہیں وہ آج بھی زندہ ہیں۔
تمھارے آس پاس، تمھارے اردگرد اور تمھارے محلے میں بھی موجود ہیں‘‘
لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے اور ایک دوسرے سے کچھ پوچھنے لگے۔
ذاکر نے جب مجلس ختم کر دی تو میں سیدھا ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا:
’’یہ آپ یزیدیت محلے تک کیوں لے آئے۔ آپ کہنا کیا چاہ رہے تھے‘‘
ذاکر صاحب نے مجھے سر سے پیر تک دیکھا اور بولے:
’’کل ایک شیعہ عالم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی حفاظت کے لیے انھیں تیار کر رہا تھا‘‘

______________________

بچوں کا قتل

student

نعمان کا والد میرا گہرا دوست تھا۔ آج بہت جذباتی گفتگو کئے جا رہا تھا۔ میں نے اس کی ساری گفتگو سنی اور کہا:
دیکھو ’’ڈمہ ڈولا‘‘ پہ حملہ واقعی افسوس ناک ہے وہاں بچے تھے اور یہ بڑی سفاکی ہے ۔ بچوں کا قتل کسی طرح بھی جائز نہیں‘‘
وہ میری مذمت سے مطمئن نہ ہُوا۔ کہنے لگا:
’’ دیکھو مذمت سے کام نہیں چلے گا۔ ان پر بھی ایسا ہی حملہ ہونا چاہیے بلکہ ان کے بچوں کو مارنا چاہیے تا کہ کسی قتل کا دکھ کیا ہوتا ہے انھیں پتا چلے۔‘‘
میں نے کہا:
’’نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ڈمہ ڈولہ پر حملہ بچوں پر نہیں، امریکیوں نے اپنے دشمن کے تعاقب میں غلط نشان دہی پہ کیا۔ جیسے کسی بازار میں کوئی گولیاں چلائے اور کوئی راہگیر بوڑھی ماری جائے مگر اُس کے لواحقین فائرنگ کرنے والے کی ماں کو گھر میں گھس کے قتل کر دیں۔‘‘
وہ میری وضاحت سے بھی مطمئن نہیں ہُوا اور مجھے بھی ہدفِ تنقید بناتا رہا۔ بلاخر ڈمہ ڈولا کا دکھ لیے رخصت ہو گیا۔
ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ مجھے میرے بیٹے نے فون پہ بتایا
’’ ابو جلدی مجھے لینے کے لیے سکول آئیں۔ ہمارے سکول میں گولیاں چل گئیں ہیں۔‘‘
میں نہایت خوف اور دہشت کے عالم میں دوڑتا ہُوا سکول پہنچا اور بیٹے کو پکڑا۔
وہ بالکل ٹھیک تھا۔ میں نے پوچھا :’’بیٹا خیریت تو ہے یہ کیا ہوا‘‘
بیٹا کہنے لگا:
’’ ہاں ابو میں تو خیریت سے ہوں۔ کوئی داڑھیوں والے لوگ آئے اور گولیاں چلانے لگے۔میں نے ڈیسک کے نیچے چھپ کے جان بچائی۔مگر نعمان دشمن کی گولیوں کی زد میں آگیا۔اس کی گردن پر بہت خون بہہ رہا تھا۔‘‘
میں نے دل میں روتے ہوئے کہا:
’’بیٹا نعمان! تمھارا کیا قصور تھا۔ قصور تو اس سوچ کا ہے جس کی گولی پہ آنکھیں نہیں ہیں اور جس کی خود کش جیکٹ کو کلمہ پڑھنا نہیں آتا۔‘‘
______________________

ایک خبر جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں

honour

میں دفتر سے گھر آیا تو بیوی سے کہنے لگا کہ’’چلو آج کہیں باہر گھومنے چلتے ہیں۔ ساتھ بیٹی کا نیا سکول بیگ بھی لے لیں گے۔‘‘
بیوی نے کہا کہ’’ ٹھیک ہے، میں تیار ہو آتی ہوں، فارعہ کو بھی نئے کپڑے پہنا دوں ذرا‘‘
میں اتنی دیر میں ،میں ٹی وی لگا کے بیٹھ گیا
ایک عجیب خبر چل رہی تھی ۔ ایک نو عمرلڑکاپولیس کی ہتھکڑیوں میں عدالت لایا جا رہا ہے۔پھر دوسری تصویر میں اُس کا والد، دوسرا بھائی، والدہ اور ماموں آنے لگے۔ تیسری تصویر اُبھری تو ایک مسخ شدہ لاش نظر آئی جس کے خوبصورت سنہری بال سفید رنگ کی چادر سے باہر نظر آرہے تھے۔
میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا، آواز بھی بہت آہستہ تھی۔ فوراً ریموٹ سے آواز اونچی کی۔رپورٹر بتا رہا تھا کہ اس نوجوان نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے اور ذرا پشیمان نہیں۔کہتا ہے میں نے بالکل ٹھیک مارا۔ باپ بھی یہی کہہ رہا تھا کہ اس خبیث روح کو مر جانا چاہیے ۔ باپ کی آنکھوں میں ایک طرح کی فتح نظر آ رہی تھی۔ ماں کے چہرے پہ مسکراہٹ عیاں ہوئی اور وہ بیٹی کو کوسنے لگی۔ ماموں اور دوسرا بھانجا ساتھ کھڑے تھے ،مسکرا کے کہنے لگے:شکر ہے اس سے جان چھوٹ گئی ورنہ پتا نہیں کتنا ذلیل کرواتی‘‘
اس کے بعد لاش۔۔۔۔ مسخ شدہ لاش دکھائی جانے لگی
رپورٹر کہ رہا تھا کہ لڑکی گلی میں جاتے ہوئے کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی اور بتایا جا رہا ہے کہ وہ لڑکا کسی اور محلے کا رہائشی تھا۔
خبر ختم ہوئی تو ساتھ ہی ایک اشتہار چلنا شروع ہو گیا جس میں ایک عورت کسی ٹاؤن میں نئے گھر کی آرائشوں کو دکھا رہی تھی۔
میں نے سر کو جھٹک کے سب کچھ بھلانے کی کوشش کی۔
اتنی دیر میں بیٹی اور بیوی تیار ہو کے آگئی۔
میں نے فارعہ کو پاس بلایا اور اُسے غور سے دیکھنے لگا۔
میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اورایسے کھلی ہوئی ہوئیں جیسے یہ کبھی بند نہیں ہوں گی
یکایک میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اونچی آواز میں رونے لگا۔
فارعہ کہنے لگی: بابا آپ کیوں رو رہے ہیں؟
میں نے فارعہ کو بے اختیار چومنا شروع کر دیا اور اُسے بتانے لگا۔
’’بیٹا: ایک روح ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی ، کہہ رہی تھی کہ اُس کے رونے والوں میں کوئی نہیں، ماں، ماموں ،باپ اور بھائی بھی نہیں۔ کیا تم میرے لیے رو سکتے ہو؟‘‘
______________________

سیاست

politics

میرے سارے طالب علم ہی بہت اچھے نمبرز لینے والے تھے جب بھی امتحان ہُوا میری کلاس ہمیشہ ٹاپ رہی۔مگر یاسر ان میں سب سے کمزور طالب علم تھا۔میں جب بھی اسے پڑھائی میں دل لگانے کو کہتا ،وہ ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیتا۔ اس بار پھر امتحان میں اس کے نمبرز سب سے کم تھے۔
ایک دن میں نے دیکھا وہ ایک فلاحی ادارے کے نمائندوں کو پرنسپل سے ملوانے لایا ہے۔ میں نے پوچھا: تم کہاں___!
کہنے لگا:
’’سر__ابو سے کہہ کے ان لوگوں کو کالج میں لایا ہوں۔ یہ ایک فارسٹ ادارے سے منسلک ہیں۔ ہمارے کالج کو مفت میں پودوں سے بھر دیں گے۔‘‘
میں نے اس کی باتیں سنی اَن سنی کر دیں اور اس کی کم نمبروں پر سرزنش کی اور کہا بڑے ہو کے دھکے کھاتے پھرو گے۔
وہ نہایت اعتماد کے ساتھ کہنے لگا:
’’سر___میں بڑے ہو کے اچھا سیاست دان بننا چاہتا ہوں۔جس کے لیے بہت زیادہ نمبروں کی نہیں صرف نیک نیتی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

______________________

جھنڈا ہوٹل

tea

جھنڈا ہوٹل شہر کا معروف ٹی ہاؤس تھا جہاں دانش ور اکٹھے ہوتے۔ ہر موضوع پر گفتگو رہتی۔ میاں طاہر، پروفسیر ایوب، پرویز انجم، تنویر عالم، افتخار احمد اور بابا فرید ان محفلوں میں سرگرم رہتے۔ چائے کی پیالیوں پرجہان بھرکے ہر موضوع پر تعصب اور نفاق کی آلودگی سے پاک مباحثے جاری رہتے۔
ایک دن شہر میں اقلیتوں نے جلوس نکالا تو ان کی مخالفت میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ پولیس آ گئی مگر شہر میں نفرت کی آگ کم نہ ہوئی۔ جھنڈا ہوٹل ایک بار پھر گفتگوؤں کا مرکز بن گیا۔ تھکے ہارے پولیس والے بھی چائے کے لئے اس ٹی سٹال کا رُخ کرنے لگے۔وہ بڑی توجہ سے میاں طاہر اور بابا فرید کی باتیں سنتے۔
تین چار روز گزر گئے مگر حالات قابو میں نہ آئے تو حکومت نے تمام مرکزی شہر میں کرفیو لگانے کا حکم دے دیا۔
اسی دوران سب دکانیں بند ہو گئیں۔ جھنڈا ٹی سٹال جو ابھی تک کھلا تھا مگر پولیس کے آپریشن کے ڈر سے وہ بھی بند ہونے لگا۔پولیس والے جو سب دکانیں بند کروا رہے تھے بھاگے بھاگے جھنڈا ہوٹل میں بھی داخل ہوئے اور کہنے لگے:
’’ہم حکومتی احکامات کے باوجود اس ٹی سٹال کو بند نہیں کریں گے۔
ان فسادات میں شہر کی صرف یہی ایک جگہ تھی جہاں ہم نے پیار ، امن اور باہمی محبت کی باتیں سنیں۔
یہ چائے خانہ نہیں معاشرے کی تیسری آنکھ ہے۔‘‘

______________________

صحافی

journalist

کچھ دوست اکٹھے بیٹھے قلم ، کاغذ اور کتاب کی طاقت پر باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا:
’’سچ لکھنے اور کہنے والا طالب علم بڑا آدمی بنتا ہے، معاشرے اُس کی طاقت کے آگے جھک جاتا ہے۔‘‘
دوسرے نے کہا:
’’سچ لکھنے اور کہنے والا ادیب دانش سے بھری اور تادیر زندہ رہنے والی کہانیاں لکھتا ہے اورَ امر ہو جاتا ہے۔‘‘
تیسرے نے کہا:
’’سچ لکھنے اور کہنے والا آفیسر ایمان دار شہرت رکھتا ہے اور ادارے کے لیے نیک نامی کا باعث بنتا ہے۔‘‘
چوتھے دوست نے سرد آہ بھری اور بولا:
’’مگر سچ لکھنے اور کہنے والا صحافی ملک بدر کر دیا جاتا ہے یا سرِ راہ نامعلوم افراد کی گولیاں کا نشانہ بن جاتا ہے۔‘‘

______________________

صحافت اور رپورٹنگ

reporter

تعلیمی اداروں سے ملک گیر شہرت اور دولت کمانے کے بعد اس گروپ نے میڈیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور ایک اخبار اور ٹی وی چینل کا آغاز کر دیا۔
میں کافی عرصے سے بے روزگار تھا۔میں نے بھی ان کے اخبار کے لیے انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا۔میری کوئی سفارش نہیں تھی اور نہ وہ کسی سفارش کو مان رہے تھے۔انھیں نہایت پروفیشنل آدمی درکار تھے جس کی وجہ سے مجھے ایک امید بھی تھی۔
ایک ایک کر کے سب انٹرویو دیتے آ رہے تھے۔مجھے بھی اندر بلا لیا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی پینل نے میرا تعارف پوچھنے کی بجائے مجھ پر سوال سے حملہ کیا:
’’آپ یہ بتائیں کہ اگر آپ کو اچھی رپورٹنگ کرنی ہو تو آپ کی کیا ترجیح ہو گی‘‘
میں نے کہا:
’’جی میں کوشش کروں گا کہ درست حقائق عوام تک پہنچاؤں اور سنسنی خیزی سے پرہیز کروں۔پھر میں نے انھیں اپنی کامیاب رپورٹنگ کے واقعات سنائے۔‘‘
میں انٹرویو دے آیا کچھ دنوں بعد میری بجائے میرے ایک دوست کو منتخب کر لیا گیا۔
میں نے اُس سے پوچھا کہ تمھارا انٹرویو کیسا رہا۔ کیا پوچھا تھا۔؟
اس نے کہا :
’’میں نے انھیں بتایا کہ رپورٹنگ چیز ہی ایک حقیر چیز کو بڑھا چڑھا کے پیش کرنے کا نام ہے۔ان کے استفسار پراپنی کچھ اہم رپورٹنگز سنائیں۔
پھر میں نے ایک بچی کے ساتھ زیادتی کی اُس رپورٹنگ کا بھی بتایا جس کے چھپنے کے بعد اُس بچی کی ماں نے بچی سمیت خودکشی کر لی تھی اور اخبار کو بے حد شہرت بھی ملی تھی۔ بعد میں مالک اخبار نے میری تنخواہ بھی بڑھا دی تھی۔‘‘
______________________

میلاد اور کرسمس

sweepers

کنڈر گارٹن سکول کی عمارت میں جشن کا سماں تھا۔
عید میلاد النبی کی تیاریاں عروج پہ تھیں۔ خاکروب جو عیسائی تھے بڑھ چڑھ کے انتظامات میں شامل تھے۔ صفائی اور سٹیج کے تیاری کے علاوہ دئیوں کی قطاروں کا خاص خیال رکھ رہے تھے اور بھجنے والے دئیوں کو بار بار جلا رہے تھے کہ محفل میں روشنی رہے۔
محفل ختم ہوتے ہی سب عورتوں میں لنگر تقسیم کر دیا گیا۔ خاکروبوں نے بھی خوب مزے لے کے نبی پاکﷺ کے جشنِ ولادت کی شیرینی سے لطف اٹھایا۔
کچھ ہی دنوں کے بعد حضرتِ عیسیٰ کا جنم دن آ گیا۔ تمام خاکروبوں نے سکول کی معلمات کو اپنی کرسمس تقریب میں آنے کی دعوت دی ، مگرکسی ٹیچر نے شرکت نہیں کی اور نہ ہی اُن کا بھیجا کھانا کھایا بلکہ پرنسپل نے انھیں سکول میں تقریب کرنے پر نوٹس بھجوا دیا
سکول کے بچے بتاتے ہیں کہ اگلے دن ٹیچروں کے چہروں پر درودِ پاک کی وجہ سے نور تھا جب کہ خاکروبوں کے چہروں پر کفر کے بھجے دئیوں نے تاریکی کر رکھی تھی۔
______________________
آئس کریم اور بچے

ice cream

نجانے بچوں کو آئس کریم کیوں اتنی پسند ہوتی ہے!
بس کسی جگہ انھیں خبر ہو جائے کہ یہاں آئس کریم ملتی ہے وہیں شور مچا دیں گے۔ ابھی کل ہی بات سن لیں۔ میرے بچے گلی میں کھیل رہے تھے ۔آئس کریم والا اپنی ریڑھی لیے اُن کے پاس آ دھمکا۔ بس پھر کیا تھا۔ ایک ہنگامہ مچ گیا۔
نجانے بچوں کو آئس کریم کیوں اتنی پسند ہوتی ہے!
میں نے اپنے تینوں بچوں کو آئس کریم لے دی۔ ابھی میں اُن کے چہروں کی خوشیاں سمیٹ ہی رہا تھا کہ قریب کھڑے دو اور بچے مجھے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے نظر آئے۔مجھے ___یا شاید میرے بچوں کی پوری ہو جانے والی خواہش کو حسرت سے دیکھتے ہوئے۔
وہ کاغذ اٹھانے والے تھے کوئی بھکاری بھی نہیں ۔ میں نے فوراً انھیں بھی دو آئس کریم کپ پکڑا دئیے۔ اُن کے چہروں پر بھی میرے بچوں والی خوشی دوڑ گئی۔
نجانے بچوں کو آئس کریم کیوں اتنی پسند ہوتی ہے!
بچوں کی خواہشات بھی ایک سی ہوتی ہیں اور تکمیل پاتے ہی اُن کی خوشی کا اظہار بھی ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا:
ایک ساتھ بھاگتے یہ بچے ایک جیسے ہو گئے ۔مجھے لگا آج میرے پانچ بچے ہیں ۔
میں نے سوچا: اگر ساری دنیا کے بچوں کو میں یونہی خوشیاں دے سکوں تو سارے دنیا کے بچے میرے اپنے بچوں جیسے ہو جائیں گے۔
______________________

تعلیمی ادارہ اور گیٹ گارڈ

guard

دوور سے ایک فائر کی آواز آئی۔
سکول کا پرنسپل اپنے گیٹ گارڈ سے بولا:
’’تم گارڈ ہو تم ایسے ڈرے کہ دیوار کے پیچھے چھپ گئے اور بلاوجہ پوزیشن سنبھال لی، ہمیں دیکھو ، ہم تو نہیں ڈرے، یہیں کھڑے رہے‘‘
’’جی صاب۔۔۔ میں بہت ڈر جاتا ہوں‘‘
’’بزدل ہو‘‘
’’نہیں صاب‘‘
’’ پھر کام میں دل نہیں لگتا یا بوڑھے ہو گئے ہو؟‘‘
’’نہیں صاب_____اصل میں ،میں نے گولی کھائی ہے ٹانگوں پہ _____ اور جن معصوم اور نہتے بچوں کے سینے پہ گولیاں لگی تھیں، ان کے خون آلود لاشے بھی ہاتھوں سے اٹھائے ہیں۔ صاب جی_____گولی لگے تو بہت درد ہوتا ہے جی____ اور جب جوان جسم سے جان نکلے تو اسے دیکھا نہیں جاتا۔
بس اسی لیے اب کچھ ڈر سا جاتا ہوں‘‘
______________________

قتال اوردہشت گردی

gg

سکول کے پرنسل نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی۔سارا سٹاف اکٹھا ہو گیا۔
پرنسپل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
’’دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ سکول کے بچوں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہمیں حکم آیا ہے کہ آپ اپنے حفاظتی اقدامات مکمل کریں۔ اس سلسلے میں آپ تجاویز دیں، ہم ان بچوں کی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیا کیا کر سکتے ہیں۔‘‘
ایک سینئر استاد فوراً بول اٹھے:
’’ ہمیں خاردار تاریں لگوا دینی چاہیے اور گیٹ کو سکول ٹائم پر بند رکھیں۔ایمرجنسی نمبرز نمایاں جگہ پر آویزاں ہوں‘‘
ایک اور استاد جوسب سے پہلے بولنے کی کوشش میں ناکام ہو گئے تھے بول اٹھے:
’’دائیں سمت جو پرائمری سکول کی بلڈنگ ہے اُس کے سامنے والے گیٹ کو ایمرجنسی ڈکلےئر کر دینا چاہیے تا کہ حملے کی صورت میں بچے فوراً بھاگ سکیں‘‘
پرنسپل نے اساتذہ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سکول انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر کئے جانے والے اقدامات کو بتانا شروع کر دیا۔
’’اگر حملہ آور گیٹ ون سے آتے ہیں تو وہ چھوٹے بچوں کی طرف جائیں گے اور وہاں پہنچ کے فائرنگ کریں گے لہٰذا اساتذہ سب سے پہلے اپنے کلاس رومز دروازوں کو بند کر دیں گے۔ ہم دروازوں کے اندرونی اطراف میں لوہے کے بڑے بڑے کنڈے لگوا رہے ہیں جو کل تک مکمل لگ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایک’ بزر‘ کا اہتمام بھی کر دیا گیا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں بجا دی جائے گی۔
جب سکول احاطے میں دہشت گرد پہنچ جائیں گے تو اُن کا پیچھا کرتے ہوئے ہمارا سیکیورٹی گارڈ پہنچ جائے گا۔ لہٰذا دروازے بند رکھنا تمام اساتذہ کے لیے لازمی ہو گا‘‘
کچھ اساتذہ نے تذبذب میں سوال کر ڈالا۔
سر، اگر وہ گیٹ گارڈ کا کام تمام کر کے اندر آئے تو پھر اُن کو کون روکے گا‘‘
پرنسپل کوئی جواب نہ دے سکے، بلکہ اُنھوں نے اپنی خفگی سے اُن کے سوال سے نا پسند یدگی کا اظہار کیا۔
سکول میں بریک ہو چکی تھی۔ بچوں کے کھیلنے کا شور میٹنگ روم میں بھی سنائی دے رہا تھا۔ جو اپنے اساتذہ کا امتحان بھی لے رہا تھا کہ ہمیں ان دہشت گردوں سے بچانے کے لیے وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘‘
سکول کے وائس پرنسپل نے کہا
’’ سر، سامنے مین روڈ ہے اور پچھلی سمت مارکیٹ، میرے خیال میں وہ دیوار کود کے آنے کی بجائے گیٹ پر ہی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ پہلو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے‘‘
میٹنگ روم میں کونے میں آتش دان کے قریب بیٹھے ایک استاد خاموشی سے یہ سب باتیں سن رہے تھے ،بلاخر گویا ہوئے:
’’سر، ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دہشت گرد چھوٹے بچوں کو نہیں بلکہ ان بچوں کو نشانہ بنائیں گے جو بالغ ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں۔ وہ قتال میں اس روایت کے قائل ہیں کہ حضور نے جنگ کے دوارن اُن نوجوانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جن کے زیرِ ناف بال آ چکے ہوں، لہٰذا اُن کا ٹارگٹ نویں اور دسویں کے بچے ہو سکتے ہیں، جونےئر کلاسسز نہیں۔‘‘
ان صاحب کے بولتے ہی بحث کا رخ کسی اور سمت مڑ گیا۔
کوئی کہتا کہ قتال تو فرض ہے مگر آپ اس کو ان دہشت گردوں کے ساتھ نہ جوڑیں۔ دوسری سمت سے آواز آئی۔ قتال کرنے والے اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔قتال کی نوعیت میں فرق ہے۔ روایات کو یوں بدنام نہ کیا جائے۔
پرنسپل اور تمام اساتذہ دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں پر کئے جانے والے اقدامات پر بات کرنے کی بجائے قتال کی حمایت اور مخالفت میں الجھ گئے۔
میٹنگ کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ ایک ملازم چائے رکھنے لگا۔ چائے رکھتے رکھتے ایک دم اُس نے ہاتھ کھڑا کیا اور پرنسپل سے کہنے لگا:
’’سر، مجھے اجازت ہے میں بھی ایک تجویز دینا چاہتا ہوں‘‘
کچھ اساتذہ نے برا منایا مگر پرنسپل کے ہاں کرتے ہی سب خاموش ہو گئے اور وہ ملازم چائے کا آخری کپ رکھتے ہی بولنے لگا۔
’’سر میں گذشتہ پندرہ سال سے اس ادارہ میں پےئن ہوں۔ مجھے بھی بچوں سے محبت ہے۔ مجھے خود ان کی جان کی فکر لاحق رہتی ہے۔
سر،میرے خیال میں کل بچوں کی اسمبلی میں اجتماعی دعا کروانی جائے کہ یااللہ تو ہی ہماری مدد فرما اور جو قتال کو جائز قرار دے رہے ہیں، اور دہشت گردوں کی خاموش حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں ،انھیں ہدایت فرما۔
سر،آپ سب پڑھے لکھے ہیں، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ دہشت گرد اور بچے تو ایک حملے میں مر جاتے ہیں مگر منفی سوچ کے ساتھ بچوں کو پڑھانے والے استاد کا خسارہ نسل در نسل نہیں مرتا۔ہمیں اس نظریے کو ختم کرنے کا اقدام کرنا چاہیے ورنہ خاردار دیواریں تو کوئی بھی پھلانگ سکتا ہے۔‘‘
پےئن کی بات سنتے ہی سب خاموشی سے چائے پینے لگے۔ پرنسپل نے بغیر کسی نتیجے کے میٹنگ ختم کر دی۔
______________________

انسان کا قتل

waiter

میرا ایک پروفیسر دوست مجھے بتا رہا تھا کہ جو کوئی کسی مصلح اور نیک آدمی کی توہین کرے اُسے فوراً قتل کر دینا چاہیے تا کہ امن، آشتی اور محبت کا پیغام دینے والوں کی عزت بحال رکھی جائے۔
میں اس کی باتوں کو چاہتے ہوئے بھی رد نہیں کر پا رہا تھا۔
اِسی دوران ویٹر جو بظاہر اَن پڑھ لگ رہا تھا ،چائے لے کے ہمارے ٹیبل کی طرف بڑھا۔ اچانک اُس کے ہاتھ سے چائے والا ٹرے گر گیا اور وہ بوکھلا کے پیچھے ہٹا۔
میں نے اُسے جھاڑ پلاتے ہوئے سختی سے کہا:
’’اندھے ہو، دیکھتے نہیں‘‘
وہ بولا:
’’صاب جی، جی ۔۔۔ میں اندھا نہیں، اور دیکھ بھی رہا تھا۔ اصل میں چیونٹیوں کی ایک قطار عین پاؤں کے نیچے آ گئی تھی اُسے بچاتے ہوئے چائے گِر گئی‘‘
میں نے اُسے نظر انداز کرتے ہوئے سامنے بیٹھے دوست سے کہا:
’’ ہاں تو آپ کیا بتا رہے تھے کہ انسان کو فوراً قتل کر دینا چاہیے، پلیز آپ بات جاری رکھیے‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *