شیل گیس۔۔۔ پاکستان کی شہ رگ

Kunwarکنور خلدون شاہد

پاکستان کے گیس کے مسائل کا حل اس کی اپنی حدود کے اندر موجود ہے۔
امریکہ کے ایل این جی کے ذخائر کے گیس کی خریداری کے سلسلے میں ایک سستے ذریعے (10ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ)کے طور پرمنظر عام پر آنے کے بعد، ایک پاکستانی وفدحال ہی میں واشنگٹن کی طرف دوڑا تاکہ چین، ہندوستان، جنوبی کوریا اور جاپان کی پسندیدگیوں کے بعد وہ بھی اس قطار میں اپنی جگہ بنا سکے۔اس گیس کی خریداری کے خواب سے جاگنا شاید اس وقت انہیں خاصا تلخ محسوس ہوا ہوگا جب انہیں بتایا گیا کہ اس امریکی گیس کی خریداری کے لئے پہلے ہی تقریباً 25درخواستیں زیر التوا ہیں۔ لہٰذا اسلام آباد کا واشنگٹن سے گیس کی درآمد کی طرف رجوع کرنا شاید 2030ء سے پہلے ممکن نہیں ہو سکے گا۔
اس وقت کہ جب پاکستان سیاست کی نظر ہو جانے والی گیس پائپ لائنوں اور مہنگی ایل این جی کی درآمد کے ذریعے اپنے گیس کی کمی کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔دیر پا ترقیاتی حکمت عملی کے ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کو توانائی کے مسئلہ پر غور و فکر کرنے والوں کو ، کم از کم طویل المعیاد حل کے طور پر ضرور دیکھنا چاہیے۔اس رپورٹ کا عنوان یہ ہے، ’’شیل تیل اور گیس: پاکستان کی شہ رگ۔‘‘ یہ رپورٹ تفصیل سے بتاتی ہے کہ توانائی سے متعلق پاکستان کو درپیش مشکل صورت حال کاطویل المعیاد حل کس طرح ملک کے اپنے گیس کے ذ خائر کے نیچے موجود ہے۔
رپورٹ کے مصنف، ایس ڈی پی آئی کے سینئر مشیر برائے پانی و توانائی، انجینئر ارشد ایچ عباسی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اگلی نصف صدی کی قومی ضروریات پوری کرنے کے لئے گیس کے معقول ذخائر موجود ہیں۔
ارشد عباسی کہتے ہیں، ’’پاکستان کی اگلے پچاس برس کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمارے پاس قدرتی گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ دراصل ان قومی ذرائع کی ترقی کے ذریعے خود انحصاری حاصل کرنا15بلین ڈالر کی بچت کا باعث بنے گااور ملک کو معاشی ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر دے گا۔ ان ذرائع کو استعمال میں لانا اسلام آباد کی سفارتی آزادی یا خودمختاری کا باعث بھی بنے گا۔میرا یقین ہے کہ ہمیں حکومت کو ملک میں شیل گیس کو فروغ دینے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ایس ڈی پی آئی (Sustainable Development Policy Institute) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یوکی لاگت سے اندرون ملک شیل گیس نکال سکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں18ایم ایم بی ٹی یوکی قیمت پر قطر سے ایل این جی کی خریداری اور دوہا کے ساتھ کوئی طویل مدتی معاہدہ کرنا ، معاشی خود کشی کے سوا اور کچھ نہ ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *