نیپال کی بہادرمسلمان خاتون وکیل موہنا انصاری

mohna

نومبر ۲۰۱۴ مین جب موہنا اپنے آفس میں بیٹھی تھیں تو انہیں نیپال کے وزیر اعظم کا فون آیا۔ وہ موہنا کو نیپال ہیومن رائٹ کمیش مین شامل کرنا چاہتے تھے۔ یہ موہنا کے  لیے زندگی کی ایک بڑک کامیابی تھی۔ کیونکہ وہ نیپال کی پہلی مسلمان خاتون تھیں جنہیں اس قدر ترقی نصیب ہوئی۔ انہوں نے اسے اپنی سخت محنت کا پھل قرار دیا۔ ان کا اس لیول پر پہنچنا  ملوکیت کے خاتمے سے آنے والی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے ہیومن رائٹ کمیشن میں شامل ہو کر بہت سے مسائل حل کرنے میں مدد دی ہے۔ وہ ایک نڈر خاتون ہیں اور تنقید کرنے اور سہنے کا ان کے اندر بہت جذبہ موجود ہے ۔ ان کو کبھی کبھار سخت تنقید کا سامنا بھی  کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے ہفتے ایک ھیومن رائٹس میں انہوں نے نئے آئین کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کا سختی سے نوٹس لیا ان کا ایک اہم مقصد عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر وہ ہمیشہ عورتوں کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہیں۔ اس بات پر دوسری خواتین رہنما ان کی تعریف کرتی ہیں ۔ وہ نیپال کی پہلی مسلمان  لا گریجویٹ ہونے کا بھی اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ان کے اعلی کارناموں کی وجہ سے انہیں بہت سے نیشنل ایوارڈ دیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے کبھی بھی حالات کے سامنے جھکنا پسند نہیں رہا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں صرف انصاف پر یقین رکھتی ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *