خیالی رسّیاں!

mushtaq ahmedکہتے ہیں کہ کسی صحرا میں ایک قافلہ چلا جا رہا تھا کہ شام ہو گئی ۔ رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ تلاش کر رہے تھے کہ ایک سرائے خانہ دکھائی دیا ۔ وہاں جا کر قافلے نے ڈیرے ڈال لیے ۔ قافلے کے اونٹوں کو کھونٹوں سے باندھ رہے تھے کہ پتہ چلا کہ ایک ریسی کم ہے اور ایک اونٹ کھلا رہ جائے گا ۔ اونٹ کے بھاگ جانے کے ڈر سے قافلے کے سردار نے سرائے والے سے پوچھا کوئی رسی ہو گی تمہارے پاس؟ سرائے والا کہنے لگا رسی تو نہیں لیکن تمہیں اونٹ کو قابو میں رکھنے کا ایک طریقہ بتاتا ہوں ۔ پوچھنے پر سرائے والا اونٹ کے قریب گیا اور اس سے چند قدم دور زمین پر بیٹھ کر ہتھوڑے سے کھونٹا گاڑنے کی اداکاری کرنے لگا پھر اس خیالی کھونٹے کے گرد اپنا ہاتھ یوں گھمایا جیسے رسی لپیٹ رہا ہو اور پھر وہ خیالی رسی اسی طرح اداکاری کرتے ہوئے اونٹ کی گردن کے گرد لپیٹ دی۔اب وہ قافلے سردار سے بولا:اب بے فکر ہو کر سوجاو تمہارا اونٹ کہیں نہیں جائے گا۔
قافلے کا سردار سرائے والے کی اداکاری دیکھ کر زیادہ متاثر نہ ہوا لیکن اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہ تھا جا کر سو گیا۔ رات بے چینی سے کاٹی اور سویر ہوتے ہی باہر نکل گیا ۔دیکھتا کیا ہے کہ اونٹ عین اسی جگہ بیٹھا ہے جہاں اسے پچھلی رات چھوڑا گیا تھا۔
قافلے والوں نے ایک ایک کر کے سب اونٹو ں کو کھول لیکن جس اونٹ کو سرائے والے نے خیالی رسی سے باندھا تھا اس نے اٹھنے سے انکار کر دیا ۔ سرائے والا بولا :یہ اس طرح نہیں اٹھے گا ۔ اس نے رات کی طرح اونٹ کے گلے میں بندھی خیالی رسی کھولی، کھونٹا زمین سے اکھاڑا اور اسے لپیٹنے کی اداکاری کرتے ہوئے خیالی رسی اور کھونٹا قافلے والوں کے تھیلے میں ڈال دئیے۔
’’بھائی صاحب آپ تو بڑے باکمال آدمی ہیں یہ ترکیب آپ کو کیسے سوجھی؟‘‘
یہ ترکیب نہیں،محض مشاہدہ ہے ۔سرائے والے نے کہا۔
مشاہدہ؟ وہ کیسے؟ قافلہ سالار نے متجسس ہو کر پوچھا۔
میں نے زندگی بھر انسانوں کا مشاہدہ کیا ہے اور اس سے مجھے یہی سبق ملا ہے۔یہ بھی رسموں رواجوں کی رسیوں سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔انہیں بھی ان کے بڑے اسی طرح خیالی رسیوں سے باندھ دیتے ہیں اور یہ کبھی ان رسیوں کو ٹٹول کر بھی نہیں دیکھتے۔یہ یہی سوچ کر ساری زندگی قیدی بنے رہتے ہیں کہ ان کے گلے میں کوئی رسی پڑی ہوئی ۔لیکن ایسی رسی جو موجود ہی نہیں ہوتی!
یہ کہانی کسی بزرگ کی حکایات میں سے لی گئی ہے جس کا نام یاد نہیں اردو میں اسے ایک بار شاہد محمود ندیم صاحب نے ترجمہ کیا تھا۔
بشکریہ: مشتاق احمد

خیالی رسّیاں!” پر ایک تبصرہ

  • مئی 5, 2016 at 4:18 PM
    Permalink

    یہ کہانی میں نے آج سے کم و بیش دو سال پہلے فیس بک پر پوسٹ کی تھی ۔۔آپ نے اسے مذید بہتر انداز میں تحریر کیا ہے ۔۔۔سلامت رہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *