کون ستارہ آمین کومل(افسانہ)

محمد مزمل صدیقی

muzamil siddiqui

فروری کی ایک نامعلوم رات ......سانس لینا دشوار......اتنا کہ اپنے روم میٹ کو لئے نصف شب میں الائیڈ ہسپٹل پہنچا......یہ حکومت کی مدد گار گاڑی تھی جو مجھے ہسپٹل چھوڑ کر گئی تھی......یہ عثمان تھا میرا روم میٹ ......صحت اتنی دشوار کہ خاتون ڈاکٹر کو میں اپنا نام تک نہ بتا سکا تھا......یہ بھلا ہو عثمان کا ..... اپنے زعم میں بچپن کا یار......یہاں ہاسٹل آکر ہی وہ میری رفاقت میں قید ہوا۔......لیکن ہر کام میں جی حضوری ایسا کرتا کہ معلوم پڑتا ......اُسے میں نے نہیں ......میری محبت نے اُسے قید کر رکھا ہے ......حالات یہ ہیں ......جنم سے دوستی کے پنجارے پہ سوار ہے......وہ میرا مرض ڈاکٹر کو بتاتا رہا......ادھر ایک نرس نے میرے ہاتھ کو دبوچ لیا...... انجکشن میرے ہاتھ کی رگ میں اتاردیا......
دھندلی چیزیں......روشن ہونے لگی......میں نے دیکھا عثمان میرے پاس کھڑا......تنفس میں سانس کی بحالی کا نبولئزر میرے منہ پر چڑھا۔
عثمان ا نجکشن اس کے بنے میں پھینکے جا رہا ہے۔
مسکرا کر میں نے کہا :۔
’’بھئی میرا عثمان توابھی سے ڈاکٹر بن گیا ہے......واہ ‘‘
مجھے ہوش میں دیکھ کر وہ مسکرایا......بولا :۔
’’ شکر ہے یارا تمہیں ہوش تو آیا ......ڈاکٹر کہاں......یہ تو تم نے بنا دیا ہے.....‘‘
الغرض وہ مجھے حسرت کا ایک ایسا مجسمہ معلوم ہوا جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا......مگر ایف ایس سی کے فرسٹ پارٹ میں اس کے نمبر کم پڑے تو وہ کسی سبجیکٹ سپیشلسٹ کی راہ سوچنے لگا۔
مجھے ڈرپ لگی اور میں بیمار پڑا کھانس رہا تھا......ڈاکٹر نے عثمان کو بتایا:۔
’’ یہ معمولی سی کھانسی ہے......آپ اپنے گھر جا سکتے ہیں......‘‘
مجھے یاد آیا......پہلے بھی رات کے اس پہر مجھے الائیڈ سے یونی ورسٹی کے ہاسٹل تک کا سفر بہت دشوار کر تا رہا تھا......اس سمے کونسی گاڑی یونی ورسٹی کے ہاسٹل جائے گی......جائے گی بھی تو سپیشل سے کم پر مال نہیں اٹھائے گی۔
مجھے کوئی یاد آیا......کون تھا وہ......میں ہسپٹل کے وارڈ میں تیز تیز چلنے لگا......عثمان صبح کالج پہنچنا چاہتا تھا اور سستانا چاہتا تھا......حال یہ تھا.....
’’مددگار گاڑی لے کر آتی ہے چھوڑ کر نہیں......‘‘
مجھے ستارہ یاد آگئی......میری بہن ستارہ......قلم قبیلے کی باہمت ساتھی ......منجھی ہوئی کالم نگار ......وہ فیصل آبادمیں ہی کسی ہسپٹل میں ایڈمٹ تھی......اس نے مجھے نام بھی بتایا تھا......کون سا ہسپٹل تھا بھلا وہ......میں نے یادداشت پر زور دیا...... عثمان چیں بول گیا۔
’’یار چار بجنے میں کچھ وقت باقی ہے......کالج بھی جانا ہے میں نے صبح......‘‘
میں نے ڈاکٹر سے پوچھا:۔
......کالج بھی جانا ہے میں نے صبح......‘‘
میں نے ڈاکٹر سے پوچھا:۔
’’ ایک مریض کے ناک کا مسلہ ہے......ہمارے ایک مصنف دوست کے بقول وہ ناک کا عالمی مسئلہ ہے......براہِ کرم یہ کہاں سے معلوم ہوگا......کہ ناک کے مریض کون سے وارڈ میں پائے جاتے ہیں.....‘‘.
انہوں نے اشارہ کیا......غالباََ دوسری منزل تھی......ہم نے چلتے دوڑتے وہ وارڈ تلاش کر لیا......مصیبت یہ تھی کہ مریضہ کی شناخت کیسے ہوگی......رابطہ نمبر تو تھا پھر اپنا نیا کیو موبائل کسی حادثے میں گنوا چکا تھا ......سر کے بال پریشان یہ انتہائی دشوار مرحلہ تھا......ناک کے مرض میں لپٹے بہت سے مریض میرے سامنے تھے......صبح کے چار بجنے کا وقت اور وارڈ میں قبرستان کی سی خاموشی......سوائے اس نگران کے جو مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا اور .......سگریٹ پھونک پھونک کر ناک سے دھواں چھوڑ رہا تھا۔
’’کس سے ملنا ہے ؟‘‘
ہمیں دیکھتے ہی اس نے پوچھا۔
’’ایک مریضہ......ہفتہ بھر سے ایڈمٹ......ناک کا مسلہ......صبح آپریشن ......‘‘
’’پِہن اِتھے سارے ناک دے مریض نیں ....تہاڈا کہیڑا اے .....پچھان لیں گا؟‘‘
میں نے ایک نظر مریضوں پر ڈالی......جو سکڑے سمٹائے پڑے تھے ...ایسے میں شناخت بڑی مشکل تھی ...میں نے آنکھ دبا کر کہا :۔
’’سچی بات یہ ہے......میرے پاس نشانیاں ہیں......ایک تو یہ کہ وہ ہفتہ بھر سے ایڈمٹ......دوسرا یہ کہ ان کا تعلق پیر محل سے ......تیسرا یہ کہ ان کے ابو محکمہ پولیس میں ملازم......‘‘
’’اوہ ...اچھا ...اچھا ...او ....آ ...نیں .........‘‘
تین قدم چل کر اس نے ایک خاتون کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ستارہ تھی......قلم قبیلے کی حوصلہ افزا ساتھی ......کئی ہفتوں سے ناک کی عارضے میں مبتلا......چہرہ میں نا دیکھ پایا کہ......نگران نے دوسرے کمرے میں سوتے ان کے ابو کی طرف اشارہ کیا۔
’’اے اُنہاں دے ابو نیں ...‘‘
میں نے جگایا۔
’’۔بزرگو !!‘‘
جانے بیٹی کو خواب میں صحت یاب ہوتا یکھ رہے تھے ......یا خدائے لم یزل سے صحت یابی کی دعا کر رہے تھے ......وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے......مجھے انہیں اٹھانا کچھ مناسب نہ لگا۔
’’مزمل ہوں......ستارہ باجی نے بتایا ہوگا کبھی ؟‘‘
’’جی ہاں اکثر بتاتی رہتی ہیں.....‘‘
ڈھلتی جوانی ......بوڑھی آنکھیں ......جوان خواب ......سفید بال ......کمزور ہونٹ ......محبت و شفقت کا مجسمہ ......غرض کہ وہ بزرگ مجھ سے ایسے ملے کہ میں پہلے ہی ہلے میں ان کی عقیدت کا قائل ہوگیا......اس فرطِ طرب سے گلے ملے......جی نہ چاہتا تھا کہ انہیں معانقے میں چھوڑوں۔
’’کیسے ڈھونڈ لیا ......ارے آنے سے پہلے رابطہ تو کرلیا ہوتا کوئی چائے پانی کا انتجام کرلیتے ......‘‘
میں نے ماجرا سنایا ...ہنسے :۔
’’ یار مزمل میں تیری ذہانت دی داد دیندا......یار......نہ تیرے کول موبائل......نہ میرا لمبر......تسی سانوں کسراں لبھ لیا اے......نا پہلے کدی ویکھیا....نہ ستارہ نو نا مینوں ....یار تو وڈا ذہین......‘‘
صبح چار بجے سے لیکر 6 بجے تک وہ باتیں ہوئیں کہ معلوم ہواکہ میں اسی خاندان کا کوئی فرد ہوں......جو کسی سانحے میں بچھڑ گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ:۔
’’ ستارہ کو ڈاکٹر زنے آرام کا مشورہ دیا ہے......وہ سو رہی ہے ......ابھی سوتے میں جگانا مناسب نہیں......آج ہی اُن کا آپریشن ہے.....‘‘
ستارہ باجی محوِ آرام تھی ...وقت بیت رہا تھا ....رات ڈھل رہی تھی .....چائے کے دور چل رہے تھے ........ہائے اُن کی چائے میں ملی محبت ......شفقت ......اپنائیت اور انسانیت ۔
کتنے ہی درس تھے جو میں نے اُن چار پیالوں سے سیکھے ..... سویرے سات بجے میں ستارہ سے ملا......وہ سٹریچر پر بیٹھی......مجھے دیکھتے ہی فرحت اُس کے وجود میں دوڑ گئی ...اُس نے سٹریچر سے چھلانگ لگائی......میرے سر پر ہاتھ رکھا..... نرم لفظوں میں اپنے ابو اور چھوٹی سسٹر کو بتایا :۔
’’ میرا ویر آگیااے...... میرا ادا......مینوں وی مجاخ نال ادا بولدا......میں سو ہیپی......‘‘

اس کی عجیب شفقت تھی..... ہنسی تھی ...... پل بھر میں.... مَیں روہنسا ہوجاتا ......کبھی اس کی ہاں میں ہاں ملا کر بیمار سر ہلاتا رہتا ......وہ کبھی انگریزی بول رہی تھی ......کبھی اردو......میری طرف دیکھ کر وہ پھر مسکرائی :۔
’’ہور... یو آر فائن؟......ہاہا......میرا آج آپریشن......تے میں ڈاکٹرز سے سخت اینگری......تمہارے پیپرز کیسے ہو رہے......اجے تو نی پڑھ رہیا تے ...تینوں کُٹ پونی میرے کول ......‘‘
اور بھی کیا الفاظ تھے......باتیں تھیں ......بہت سی تھیں ......میں خود پر قابو نہ پاسکا تھا......جانے ایسا کیا تھا کہ مجھ میں کرنٹ دوڑنے لگا ....میری روح اُس کی گھلتی صحت دیکھ کر سوہان ہوگئی تھی ....بہ مشکل میں نے چہرہ پلٹ کر کہا :۔
’’آپریشن کب ہے......‘‘
اب کی بار بابا جی نے بتایا کہ :۔
’’ آج ہے 9 بجے یعنی دو گھنٹے بعد ۔‘‘
میں نے عثمان کو روانہ کردیا۔
’’رات ڈھل چکی ہے......تم جاؤ......اکیلے بزرگ... بیٹی کی دوادارو کے لئے کہاں بھاگتے پھریں گے......میں یہاں موجود رہوں گا ...تم کالج جاؤ...... اچھا!!!‘‘
وہ چلا گیا......میں تمام وقت ستارہ فیملی کے ساتھ رہا......دو ہی دنوں میں کیا مزاج مل گئے ......کیا باتیں مل گئیں ......کیا پرانے قصے مل گئے ...... جن میں ہم آہنگی تھی ......اپنایت تھی ......پیار تھا ......محبت تھی ......خلوص تھا ............فرق صرف خون کا تھا...... احساس بدستور زندہ تھا......میں بیماری سے صحت یابی تک ستارہ فیملی کے ساتھ رہا......ان کے بابا میرے ایسے گرویدہ ہوئے کہ ہر دوسرے دن ان کی محبت بھری کال آ رہی ہے......کالیں بہت سی آتی ہیں .....زندہ نہیں کر پاتا .......مصروفیت نے ایسا اُلجھا رکھا ہے کہ ہر بار نئے بندے کی ناراضی نے سر درد کر رکھا ہے :۔
’’مزمل بیٹا کیسے ہو۔......خیریت سے ہو نا......یار مینوں تیری وڈی فکر رہندی آے......‘‘
اس آواز کو کون کم بخت کاٹ سکتا ہے ......جس میں باپ کی شفقت ......اخلاص ......اور اپنائیت ہو ......ایک ماہ سے زائد بیت گیا...... ستارہ اینڈ فیملی کا احساس آج بھی مجھ میں زندہ ہے......مجھے آج بھی اُس کا ......مجھے خوشی سے دیکھ کر بستر سے اچھل کر ملنا......سر پر دستِ شفقت رکھنا یاد ہے۔
’’میرا ویر آگیا اے......میرا...ادا......ہاہاہا...... میں فائن.... نائی......سخت سخت اینگری......اَج میرا آپریشن اے......‘‘
گزرتے لمحے ....اپریل کی سرد گرم اندھیری میں لپٹی ہوا .....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *