اپوزیشن کہاں ہے؟

مطیع اللہ جان، اللہ کا شکر ہے خیریت سے واپس آ گئے۔ ان کی آمدورفت مگر بہت سے سوالات چھوڑ گئی۔ ایسے سوالات جن کو اٹھانے کی کم ازکم مجھ میں تو ہمت نہیں۔ ایک سوال مگر میں اٹھا سکتا ہوں۔ میں کسی طاقتور کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتا، اس لیے نزلہ بر عضوِ ضعیف کے مصداق، اس واقعے میں اپوزیشن کے کردار پر سوال اٹھا سکتا ہوں۔ آپ کہیں گے، اپوزیشن کا اس اغوا سے کیا تعلق؟ اس کے جواب کے لیے، آپ کو پورا کالم پڑھنا پڑے گا۔
جیسی تیسی بھی ہے، آئینی طور پر ہماری جمہوریت پارلیمانی ہے۔ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اسے متبادل حکومت سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی نظام کی کامیابی کا انحصار اپوزیشن پربھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا حکومت پر۔ یہ اپوزیشن ہے جو حکومت کی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہے۔ حکومت اگر بیدار مغز لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کوڑھ مغز ہو تو ان پر اصرار کرتی ہے۔
پہلی صورت میں عوام کا یہ فائدہ ہے کہ انہیں بہتر گورننس ملتی ہے۔ اس طرح اپوزیشن عوام کی بھلائی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور حکومت ناجائز ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرے تو اپوزیشن کا مؤثر احتجاج اس کو روک دیتا ہے۔ دوسری صورت میں عوام حکومت سے مایوس ہو کر اپوزیشن کو متبادل قیادت سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا اعتماد اس نظام پر قائم رہتا ہے اور وہ نظام سے ماورا کسی حل کے بارے میں نہیں سوچتے۔
اس طرح اپوزیشن سیاسی استحکام میں اپنا موثر کردار ادا کرتی ہے اور ریاست انارکی کی طرف نہیں جاتی یاکسی نام نہاد انقلابی کے ہتھے نہیں چڑھتی جس کی واحد صلاحیت جذبات کو مشتعل کرنا ہوتی ہے‘ لہٰذا سیاسی نظام کو برقرار اور معاشرے کو مستحکم رکھنے کے لیے اپوزیشن حکومت سے کم اہم نہیں ہوتی۔ یہی سبب ہے کہ مہذب معاشروں میں حکومتیں بھی اپوزیشن کے اس کردار کو سراہتی ہیں اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں کرتیں۔
اس امرِ واقعہ کا اعتراف کرنا چاہیے کہ پاکستان کا سیاسی نظام، عملاً پارلیمانی نہیں رہا۔ اس کی صورت بگاڑ دی گئی ہے۔ بظاہر منتخب حکومت نے نظام کی باگ غیر منتخب لوگوں کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ یہ حکومت کی طرف سے پارلیمانی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ پھر اقتدار میں شریک دیگر گروہ بھی پارلیمان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے کہ انہیں مداخلت کے لیے اسی وقت جگہ ملتی ہے جب اس میں کوئی خلا موجود ہو۔ یہ خلا تب پیدا ہوتا ہے جب غیر منتخب افراد کیلئے نظام میں جگہ بنتی ہے۔
حکومت اور غیر سیاسی قوتوں کا یہ رویہ لازم کرتا ہے کہ اپوزیشن اپنا کردار کہیں زیادہ تندہی سے ادا کرے۔ وہ اس تاثر کو رد کرے کہ پارلیمان اہل لوگوں سے خالی ہے۔ وہ عوام کو زبانِ حال سے یہ تاثر دے کہ حکومتی جماعت کی نا اہلی کا یہ مطلب نہیں کہ پارلیمان ہی نااہل ہے۔ وہ جہاں حکومت کی پالیسی کو تنقید کا ہدف بنائے، وہاں جمہوری اقدار کی محافظ بن کر کھڑی ہو جائے۔
آزادیٔ رائے جمہوری کلچرکی پہلی اینٹ ہے۔ اس کے بغیر ایک سیاسی نظام سب کچھ ہو سکتا ہے، جمہوری نہیں۔ اس لیے ایک مہذب سیاسی نظام اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ یہ قدر مجروح نہ ہونے پائے۔ آزاد میڈیا ہی کسی نظام کے جمہوری ہونے کی توثیق کرتا ہے۔ اگر لوگوں کو اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں تواپوزیشن کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خلاف موثر آواز اٹھائے۔
میں اگر اسے اپوزیشن کی کارکردگی کے لیے ایک معیار کے طور پر دیکھوں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اپوزیشن اپنا کردار نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ صحافت مسلسل آزمائش سے دوچار ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کا وجود سکڑ رہاہے، اس کا کردار بھی سمٹ رہا ہے۔ پہلی وجہ سے بے شمار صحافی بے روزگار ہوئے ہیں۔ دوسری وجہ سے آزادیٔ رائے کی قدر مجروح ہوئی ہے۔ اس کی انتہائی صورت وطنِ عزیز کے دارالخلافہ سے دن دیہاڑے ایک صحافی کا اغوا ہو جانا ہے۔
مطیع اللہ جان کے اغواپر اپوزیشن کا ردِ عمل سامنے آیا لیکن وہ اتنا موثر نہیں تھا جو اغوا کاروں کیلئے کسی پریشانی کا باعث بنتا۔ یہ سوشل میڈیا کا دباؤ تھا جس نے مغوی کی واپسی میں بنیادی کردار اداکیا۔ سماج نے بیداری کا مظاہرہ کیا اور متحرک صحافیوں نے۔ اللہ کا شکرہے کہ جذبات پر عقل حاکم رہی اور ہم کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔ یہ واقعہ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں اپوزیشن کو اپنی شکل دیکھنی چاہیے۔
مزاحمت کا مطلب تصادم نہیں ہوتا۔ اپوزیشن سے یہ مطالبہ کوئی نہیں کرتا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے اور تھانوں پر چڑھ دوڑے۔ اپوزیشن کا تو کام یہ ہے کہ وہ ایسے وقت کوآنے سے روکے۔ اس کیلئے قانون کی عمل داری ضروری ہے۔ اپوزیشن اس کو یقینی بناتی ہے۔ وہ پُرامن احتجاج کی روایت کو مضبوط کرتی ہے تاکہ ریاست پردباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ بنے۔
میں اس بات کو دہراتا ہوں کہ اپوزیشن نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتی کہ امپائر کو انگلی اٹھانے کی ضرورت پیش آئے۔ امپائر کو غیر جمہوری لوگ آواز دیتے ہیں۔ اپوزیشن تو اس تاثر کو قائم رکھتی ہے کہ کوئی مسئلہ ایسا نہیں، نظام جسے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ وہ اپنے طرزِ عمل سے ایک غیر فعال نظام کو فعال بنا دیتی ہے۔ وہ اسے بیدار کرتی ہے تاکہ غیر سیاسی قوتوں کو مداخلت کا جواز نہ ملے۔ وہ اس خلا کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی جو ان قوتوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی علم بردار بن کر اندر داخل ہو جائیں۔
میرا خیال ہے حکومت دانستہ یہ کوشش کر رہی ہے کہ پارلیمانی نظام کو ناکام ثابت کیا جائے۔ حیلوں بہانوں سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان تو دیانت داری سے اصلاح چاہتے ہیں لیکن اس لیے ناکام ہیں کہ ملک پر مافیاز کا قبضہ ہے۔ مافیا پارلیمنٹ کے راستے نظام کا حصہ بن کر اسے یرغمال بنا لیتا ہے۔ اس لیے خان صاحب جیسے دیانت دار شخص کو اگر بروئے کار آنا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں مطلق اختیارات دے دیے جائیں اور پارلیمان کی قید سے رہا کیا جائے جس پر مافیا کے نمائندوں کا قبضہ ہے۔
اس سوچ کا رد صرف اپوزیشن ہی کر سکتی ہے۔ یہ کام زبانِ قال سے نہیں زبانِ حال سے ہو گا۔ اپوزیشن کو اپنے عمل سے پارلیمانی نظام کی افادیت کو ثابت کرنا ہو گا۔ اگر وہ موثر طور پر بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور عوام کو یہ باور کراتی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے اور اصلاحِ احوال کی صلاحیت رکھتے ہیں تو نظام میں تبدیلی لانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔
جہاں حکومت نظام کی افادیت ثابت کرنے میں ناکام ہو جائے، جیسا کہ اب ہوا ہے، وہاں اپوزیشن کو اپنا کردار زیادہ موثر بنانا پڑتا ہے۔ یہ کردار محض ایک ٹویٹ جاری کرنے سے ادا نہیں ہوتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی اغوا کاروں سے راہ و رسم رکھے اور ساتھ مغوی کے اہل خانہ کے سامنے بھی ٹسوے بہائے۔ لازم ہے کہ مغوی سے اپوزیشن کی وابستگی ہر ملاوٹ سے پاک ہو۔ یہ مغوی سے نہیں دراصل جمہوری اقدار سے وابستگی کا ثبوت ہو گا۔
کالم اپنے اختتام کو پہنچا۔ آپ کو امید ہے کہ اس سوال کا جواب مل گیا ہو گا کہ ایک صحافی کے اغوا سے اپوزیشن کا کیا تعلق ہے۔ یہ کام دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ ہمارا نظام بنیادی جمہوری اور انسانی اقدار کے دفاع میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس تاثر کو اگر کوئی ختم کر سکتا ہے تو وہ متحرک اپوزیشن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *