قانون سے بالا تر ’’قانون‘‘

Ayesha Siddiqa

ایم کیو ایم کے ایک ورکر کی رینجرز کی تحویل میں ہلاکت سے ایک پرانی روایت کی یاد تازہ ہوگئی کہ اس ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاست کے مجموعی طور پر سکیورٹی آپریٹس کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ ملکی سکیورٹی کے نام پر تشدد اور اس کی بدترین شکل، ماورائے عدالت قتل کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کہ ایسے واقعات ملک میں امن و استحکام قائم کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مجھے یاد ہے ایک مرتبہ ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ مسئلہ قانون سے بالاتر نظام کا ہے۔ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے یا قانونی راستہ اختیار کیے بغیر اُنہیں ہلاک کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ ان افراد کے بھی کوئی چاہنے والے ہوں گے۔ وہ آپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے اور چونکہ آپ اُن سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں؛ چنانچہ وہ ان کو نشانہ بناکر اپنے انتقامی جذبات کی پیاس بجھائیں گے جو کمزور ہیں۔ میراخیال ہے کہ یہ موضوع ان افراد کے لیے مطلق کشش نہیں رکھتا جوقانون کے نفاذ اور عدالتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے تکلیف اٹھاتے ہیں، لیکن معاشرہ قائم رہنے کے لیے شارٹ کٹ نہیں لگایا جا سکتا۔ فوجی عدالتیں حقیقی عدالتوں کی جگہ نہیں لے سکتیں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل حقیقی انصاف کا نعم البدل نہیںہوسکتا۔ اس وقت جب زیادہ تر افراد غیر آئینی طاقت کے استعمال کے ذریعے امن کی بحالی پر خوش ہیں، یقیناً یہی وقت ہے جب قانون نافذکرنے والے اداروں کا بھی احتساب کیا جائے۔ ضروری ہے کہ محافظوں سے پوچھ گچھ کی جائے۔
کچھ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے دواہم واقعات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پہلا واقعہ لشکر ِجھنگوی کے لیڈر ملک اسحاق کی ہلاکت ہے۔ بہت سے افراد نے اتنے خطرناک انتہا پسند کو جس کے دامن پر سینکڑوں افراد کا خون تھا، انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی اداروں کو شاباش دی۔ عجیب بات یہ ہے کہ ریاست اسے جوڈیشل طریق ِکار سے اُس کے جرائم پر سزا دینے میں ناکام رہی۔ مجھے پنجاب پولیس کے سینئر پولیس افسران کے ساتھ ہونے والی گفتگو یاد ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک اسحاق (جو اس وقت تک زندہ تھا) سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں، وہ پاکستان کا دوست ہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ اُن افسران کو اس بات کی ذرہ برابر پروا نہیں تھی کہ اُس پر ایک ایرانی سفارت کا ر اور بے شمار دیگر افراد کا قتل ثابت ہوچکا ہے۔ اسے اس عدالتی نظام نے مجرم ثابت کیا جس کی ہم دن رات مذمت کرتے رہتے ہیں۔ اس کے خلاف بہت سے شہادتیں تھیں، لیکن کسی کو درخور اعتنا نہ گردانا گیا۔ مزید یہ کہ اُسے سپریم کورٹ نے رہا کیا، جو اپیل کی سماعت کی آخری عدالت تھی۔ اس کی وجہ کسی نئی گواہی کی غیر موجودگی تھی، جس کی وجہ سے جج حضرات کو ایسا کرنا پڑا۔ تاہم پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ جسٹس چوہدری افتخار اور جسٹس ڈوگر نے ایسا کیوں کیا؟ اسی طرح یہ سوال بھی پوچھا جاسکتاہے کہ جب وہ بلوچستان میں ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کا خون بہا رہا تھا تو اس کا ہاتھ کسی نے کیوں نہ روکا؟ اور آخر کار اُسے ماورائے عدالت ہلاک کرنے کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟
یہاں یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ماورائے عدالت قتل قانون کو تباہ اور اُن افراد کو تقویت دینے کا باعث بنتے ہیں جنہیں ریاست اپنے تئیں سزا دے چکی ہوتی ہے۔ اگر ملک اسحاق کو قانونی طریق کارکے تحت سزا ملتی اور قانون کسی کو اس کے خلاف پیش ہونے والے گواہوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی اجازت نہ دیتا، اس کا جرم ثابت ہوتا اور لوگوں پر یہ واضح کیا جاتا کہ وہ کس طرح ایک دہشت گرد ا ور معاشرے پر ایک بوجھ ہے۔ تاہم اس کی مشکوک طریقے سے ہلاکت نے اُسے ایک ہیرو بنا دیا اور اب وہ دیگر افراد کو اس راہ پر چلنے کی تحریک دیتا رہے گا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی جوڈیشل سسٹم نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جب ممتاز قادری کو عدالت کی طرف سے سزا ملی تو بھی لوگوں کا شک دور نہ ہوا کہ اس مرتبہ قانون کیوں حرکت میں آیا ہے جب کہ اس سے پہلے تو کبھی فعال ہوتا دکھائی نہیں دیا؟ اگر قانون ملک اسحاق کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرسکتا تو قادری کو کیوں؟ بہت سے افراد کے ذہنوں میں کلبلانے والے ان سوالات کو نظر اندازکرنا مشکل ہے۔
دوسرا واقعہ چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن ہے۔ لاہور میں بم دھماکے میں72 معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بعد اچانک اعلان کیا گیا کہ پنجاب میں آپریشن کلین اپ ہوگا۔ اس کے بعد سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو اچانک پنجاب کے قبائلی علاقے میں عرصہ ٔ دراز سے مقیم چھوٹو گینگ کے بارے میں پتا چلا کہ اس نے رحیم یار خان سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک دہشت پھیلا رکھی ہے۔ راتوں رات ایک مجرم کوایک ایسا دہشت گرد بنا دیا گیا جو ریاست کے وجود کو چیلنج کر رہا تھا اور اسے توڑنے کے درپے تھا۔ اس کے خلاف بھرپور ریاستی قوت استعمال کی گئی۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی ایسی برائی پر قابو پانے کے لیے عجیب و غریب تجزیے لکھے اور اپنی حاضری لگوائی۔ بے شک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ سوال پوچھنے کی اجازت نہیں دی کہ کیا چھوٹوکے قد کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا؟ کسی نے سوال پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ کیا وہ اتنی بڑی عسکری قوت رکھتا تھا کہ اس کے خلاف آرمی کور کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کارروائی کرنا پڑی؟ کسی کو یہ سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی کہ کیا اس آپریشن کا مقصد صرف تیرہ افرا دکو گرفتار کرنا تھا؟ اور اس پر کتنی لاگت آئی؟یقیناً سکیورٹی اہل کار یہ بات ہرگز نہ بتاتے کہ وہ بھی کچے کے علاقے میں ان مجرموں کے درمیان ''گندم پر ہونے والی لڑائی‘‘ میں حصے دار تھے۔ چونکہ اس گینگ کی دیگر علاقوں تک رسائی نہ تھی، اس لئے اُسے لاکھوں روپے مالیت کی گندم ٖفروخت کرنے کے لیے پولیس والوں کو بھتہ دینا پڑتا تھا۔ اسی حصہ دار ی پر ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں گزشتہ سال اور اس سال بھی، کچھ پولیس والوں کو قتل اور اغواکیا گیا تھا۔ کسی نے بھی یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ گزشتہ سال اور اس سال آپریشن کے بعد لاکھوں روپے مالیت کی گندم کہاں گئی؟
حتمی بات یہ ہے کہ چھوٹو ایک مجرم ضرورتھا، لیکن دہشت گرد نہیں۔ مجرموں کا وجود ناقص گورننس کو ظاہر کرتا ہے لیکن دہشت گردوں کا وجود ریاست کی مجرمانہ چشم پوشی پر سوال اٹھاتا ہے۔ جب مجموعی طور پر ریاست اور اس کے اداروں کا احتساب نہ ہو تو دونوں طرح کے گروہ طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام کو چھوٹو گینگ کے خلاف ہونے والے آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنہیں لاہور میں 72 اور پشاور میں 140 معصوم شہریوں کی ہلاکت کے اصل ذمہ داروں کا چہرہ بھی دکھایا جائے۔ بے سروپا دیومالائی کہانیوں، نیم پختہ سچائیوں اور غیر آئینی طریقوں سے امن قائم کرنا مہلک ترین غلطی ہے۔ اس سے کبھی امن قائم نہیں ہوگا۔ آپ قانون کے اوپر ایک اور قانون کو مسلط نہیں کرسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *