وزیراعظم کو سلیوٹ ، وزیردفاع سے مصافحہ

Rauf tahirرؤف طاہر

بہت سی چیزیں جو مہذب دُنیا میں معمول کی حیثیت رکھتی ہیں، اپنے ہاں ’’خبر‘‘بن جاتی ہیں۔ جمعرات کو قومی سلامتی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے حوالے سے یہ خبر بھی آئی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو سلیوٹ کیا۔ اسی طرح وزیر دفاع اور آرمی چیف کا مصافحہ بھی خبر بن گیا۔ مسلح افواج کے سربراہوں کا وزیراعظم کو سلیوٹ پروٹوکول کا حصہ ہے لیکن اپنے ہاں ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا کہ فوجی سربراہ وزیراعظم کو سلیوٹ کرنے سے گریزاں تھے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں ملک میں ایک بار پھر جمہوری عمل کا آغاز ہوا اور جناب جونیجو وزیراعظم بنے تو آرمی چیف جنرل ضیاء الحق صدر مملکت بھی تھے (اور صدر بھی فضل الٰہی چوہدری جیسے نہیں، بلکہ آٹھویں ترمیم والے آل پاور فل صدر)۔ ضیاء الحق کی مارشل لا حکومت میں،میر احمد علی تالپور(مرحوم) وزیر دفاع تھے۔ اپنے بھائی رسول بخش تالپور کی طرح احمد علی بھی صاحبِ مطالعہ تھے اور بڑے بزلہ سنج بھی، وہ مختلف تقریبات میں دیگر پھلجھڑیوں کے ساتھ یہ پھلجھڑی بھی چھوڑتے رہتے کہ آرمی چیف کی حیثیت سے جنرل ضیاء الحق میرے ماتحت ہیں، اور میں اُن کا باس لیکن وہ صدر مملکت ہیں، اس طور وہ میرے باس ہیں اور میں اُن کا ماتحت۔محترمہ بے نظیر بھٹو (پہلی بار) وزیراعظم بنیں تو جنرل اسلم بیگ آرمی چیف تھے۔ محترمہ کی 20ماہ کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ایک بھی تصویر نہیں جس میںجنرل صاحب پوری وردی میں ، وزیراعظم کو فوجی سلیوٹ مارتے نظر آتے ہوں۔ بعد کے ادوار میں البتہ صورتِ حال مختلف ہوگئی۔12اکتوبر 1999ء کے بعد معاملہ پھر ریورس ہوگیا تھا۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد وزیراعظم جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعظم شوکت عزیز، آرمی چیف (اور صدر) جنرل پرویز مشرف کے مرغ دست آموز تھے۔
گزشتہ روز کی میٹنگ میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے مصافحہ میں اس لحاظ سے ’’خبریت‘‘ تلاش کی جاسکتی ہے کہ اپنے ادارے کے وقار کے تحفظ کے حوالے سے جنرل صاحب کے 7اپریل کے بیان کا سبب خواجہ صاحب کے بیانات کو قرار دیا جارہا تھا۔
قومی سلامتی کی اس میٹنگ میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر نظر آئے۔ اس ہنگامی میٹنگ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمے (لیکن مذاکرات کو جاری رکھنے ) کا اعلان تھا جس کے جواب میں حکومت (اور عسکری قیادت) کی جانب سے بھی مذاکرات کو جاری رکھنے لیکن طالبان کی کاروائیوں کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا گیا۔ گویا صورتِ حال وہیں چلی گئی جہاں فروری میں مذاکرات کے آغاز سے قبل تھی، (دہشت گردی کی کارروائیوں کے جواب میں شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر سرجیکل ایئر سٹرائکس) اس دوران دو تین واقعات کے سوا ملک دہشت گردی سے محفوظ رہا۔ طالبان نے ان دوتین کارروائیوں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ بے گناہوں کے قتل کو حرام بھی قرار دیا۔ سبی اسٹیشن کے سانحے کی ذمہ داری ایک بلوچ تنظیم نے قبول کی تھی۔اس دوران طالبان کے دوبڑے گروہوں میں ’’خانہ جنگی‘‘ کی خبریں بھی آئیں۔ مولانا سمیع الحق کی زیرقیادت طالبان کمیٹی اب بھی پُرامید ہے کہ مولانا ’’اپنے بچوں‘‘ کو جنگ بندی کی راہ پر دوبارہ لے آئیں گے۔
اسی دوران وزیراعظم نواز شریف سے جناب زرداری کی ملاقات بھی تبصروں اور تجزیوں کا اہم موضوع بنی۔ ’’سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی‘‘ کی فضاء نارمل ہورہی تھی۔ گرد بیٹھ رہ تھی، آرمی چیف نے 19اپریل کو کاکول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں وزیراعظم کو مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی دعوت دی تھی۔ 2006ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ وزیراعظم مہمانِ خصوصی کے طور پر اس تقریب میں شریک ہونے جا رہے تھے۔ ایسے میں نواز، زرداری ملاقات کوبعض تجزیہ نگاروں نے ممکنہ طالع آزمائی کے خلاف اہل سیاست کی ’’جتھہ بندی ‘‘ کا نام دے دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے لئے خود زرداری صاحب نے آٹھ ، دس ہفتے پہلے خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جناب رضاء ربانی کے بقول، ملاقات میں سول ملٹری تعلقات کی بات ہوئی تو وزیراعظم کا جواب تھا کہ یہ کوئی ایک سیریس ایشو نہیں (جس پر مزید بات چیت ہو) ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تحفظ ِ پاکستان بل پر اپوزیشن سے مشاورت کے ساتھ قومی اتفاق ِ رائے پیداکرنے پر اتفاق ہوا۔ جنرل مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں بھی زرداری صاحب نے حکومت کی حمایت کا یقین دلایا۔ وہ 27دسمبر کی تقریر میں ’’بلّاقابو آگیا ہے، اب یہ نکلنے نہ پائے‘‘ کا مشورہ دے چکے تھے ۔ شامی صاحب کو یاد ہے کہ ’’بلّا‘‘ کی بات سب سے پہلے میاں محمد شریف (مرحوم) نے کی تھی۔ 12اکتوبر کی کارروائی کے بعد بڑے میاں صاحب کی نظر بندی ختم ہوئی تو اُنہوں نے شامی صاحب کو ناشتہ پر بلایا۔ اس موقع اُن کا کہنا تھا ، ایک بلّا ہر رات ہماری مرغی کھا جاتاتھا۔ بالآخر ہم نے اسے پکڑ لیا۔
گزشتہ پانچ سال پاکستان میں زرداری صاحب کی حکومت رہی اس دوران’’ بلاّ‘‘ مکمل پروٹوکول کے ساتھ ایوانِ اقتدار سے رخصتی کے بعد بیرونِ ملک چلا گیا۔ میاں صاحب نے جب بھی اس کے خلاف قانونی کارروائی کی بات کی، زرداری صاحب نے اسٹیک ہولڈرز سے کئے گئے وعدوں کا عذر پیش کر دیا۔
اب وہ ’’بلّے‘‘ کو کیفر ِ کردار تک پہنچانے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرا رہے ہیں لیکن تیز حافظہ رکھنے والے ہمارے دوست، معاہدہ ٔ بھوربن سے انحراف کے حوالے سے زرداری صاحب کی اس بات کو نہیں بھولے کہ سیاسی وعدے اور معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *