پہنے جانے والے برقی آلات کیلئے شیشے پر بنائے گئے تھرمو الیکٹرک جنریٹرز

thermo electricسمارٹ گھڑیوں سے سمارٹ عینکوں اور سمارٹ پیس میکرز تک، پہنے جانے والے کمپیوٹرز یا کمپیوٹرائزڈآلات کا آنے والے دور کے متحرک چھوٹے برقی آلات کے طور پر استقبال کیا جارہا ہے۔صارفین کے پہننے کیلئے بنائے جانے والے برقی آلات کا ہلکا، لچکدار اور ایک برقی ذریعے سے منسلک ہونا ضروری ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس برقی ذریعے کو ایک سے دوسری جگہ لے جایا جا سکے اور اس کی بیٹری یاتو دیر پا ہواور یا پھر یہ کہ اس میں کوئی بیٹری موجود ہی نہ ہو بلکہ اس کی جگہ کوئی جنریٹر لگا ہو۔آلات کو ایک مستقل اور قابل بھروسہ انداز میں بجلی کی فراہمی، پہنے جانے والے تجارتی آلات سے متعلق انتہائی گھمبیر مسائل میں سے ایک ہے۔
الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایک پروفیسر، بینگ جِن کاؤکی سربراہی میں کے اے آئی ایس ٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے انتہائی ہلکا اور لچکدار اور انسانی جسم کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے والاایک تھرمو الیکٹر ک جنریٹر شیشے پر بناکر اس مسئلے کا حل پیش کر دیا ہے۔ یہ اتنا لچکدار ہے کہ اسے 20ملی میٹر تک خم دیا جا سکتا ہے۔120بار اوپر یا نیچے موڑے جانے کے باوجود بھی جنریٹر کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
اب تک، نامیاتی یا غیر نامیاتی مواد سے بنائے گئے دو اقسام کے تھرمو الیکٹرک جنریٹرز تیار کئے جا چکے تھے۔نامیاتی مواد سے بنائے جانے والے تھرمو الیکٹرک جنریٹر پولیمر استعمال کرتے ہیں جو بے حد لچکدار ہوتے ہیں اور انسانی جلد سے ہم آہنگ ہونے کے سبب، پہنے جانے والے برقی آلات کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ تاہم، پولیمر بجلی پیدا کرنے کی محدود یا کم تر صلاحیت رکھتی ہے۔ غیر نامیاتی مواد سے بنائے جانے والے تھرمو الیکٹرک جنریٹر زیادہ برقی توانائی پیدا کرتے ہیں لیکن وہ بھاری اور سخت ہوتے ہیں اور جگہ بھی زیادہ گھیرتے ہیں۔
حرارتی توانائی کے نقصان کو کم سے کم اور بجلی کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کر نے والا لچکدار تھرمو الیکٹرک جنریٹر بنانے کے لئے، پروفیسر کاؤ ایک نئے نظرئیے اور طرز تخلیق کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ ان کی ٹیم نے این ٹائپ اور پی ٹائپ، تھرمو الیکٹرک مادوں کو مائع جیسے مرہموں میں الگ الگ کیااور پھر سکرین پرنٹنگ کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک شیشے کے ٹکڑے پر چھاپ دیا۔ یہ مرہم شیشے کے جالی دار ٹکڑوں میں سے گزری اورپھر اس نے کئی سو مائیکرونز کی موٹائی کے ایک سلسلے میں تھرمو الیکٹرک مادوں کی فلمیں بنائیں۔ اس کے نتیجے میں، تھرمو الیکٹرک مواد کے سینکڑوں نشانات (این اور پی ٹائپس کے مجموعے کی شکل میں) چھپ گئے اور شیشے کے ٹکڑے کے ایک خاص حصے پر عمدگی سے مرتب ہو گئے۔
پروفیسر کاؤ نے اپنی اس ایجاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے کیس میں، شیشے کا ٹکڑا بذات خود، غیرنامیاتی تھرمو الیکٹرک مادوں کو درمیان میں رکھتے ہوئے، تھرمو الیکٹرک جنریٹر کے بالائی اور زیریں نیم موصل یا سیمی کنڈکٹر کرسٹل کے طور پر کام کرتا ہے۔یہ جنریٹر بنانے کا ایک قطعی انقلابی طریقہ ہے۔اس طرح کام کرکے ہم نے اپنے جنریٹر کے وزن کو واضح طور پر کم کر لیا ہے جو کہ پہنے جانے والے برقی آلات کے معاملے میں ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *