ایک سیکولر مسلمان حکمران

naeem-baloch1حکمرانوں کی تاریخ نے شاید ہی کسی فرمانروا کو معاف کیا ہو لیکن شیر شاہ کے رول پر بڑے سے بڑا نقاد حرف نہ لا سکا۔ یہی نہیں بلکہ صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی ھندستان کی تاریخ کا ہر مورخ یہ مانتا ہے کہ اس نے ہندوستان کو وہ کامیاب ایڈمنسٹریشن یا نظام حکومت دیا جس کی مثال آج تک نہیں مل سکی۔ سیکولرازم کا تصورشیرشاہ کے یہاں اتنانکھرا ہوا ہے کہ آج بھی اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بابری مسجد کی تاریخ رکھنے والا جدید دور بھی یہ سن کر شرما جائے کہ ایک مندر کی زمین کسی قاضی نے دبا لی تھی ،شیر شاہ نے اسے برطرف ہی نہیں کیا بلکہ اس کی جائیداد ضبط کر لی اور اسے قید بامشقت کی سزا دی۔
شیر شاہ سوری نے سماجی فلاح کے لیے جوبڑی یادگار چھوڑی وہ ہے انسداد جرائم۔ جرائم کشی کے معاملہ میں شیر شاہ تیغ برہنہ سمجھے جاتے ہیں۔ مجرموں کو قانون کے عین مطابق کوئی رعایت دیے بغیرسزائیں دینا ان کا کام تھا۔ مشہور ہے کہ کسی سرکاری افسر نے کھیت سے طاقت کے نشے میں غلہ کاٹ لیا۔ شیر شاہ کو خبر ہوئی ، افسر بلوایا گیا ۔اس کی ناک چھیدی گئی اور اس میں غلہ لٹکایا گیا اور تمام لشکر میں گشت کرایا گیا۔ شیر شاہ نے افسر اور رعایا کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے پر زور دیا۔ افسروں کو با اختیار رکھا لیکن ان پر خود اتنا کنٹرول رکھا کہ وہ رعایا پرظلم نہ کریں۔عام شہروں میں سادہ لیکن دو ٹوک قانون تھا ۔کوتوال کی ذمہ داری تھی کہ وہ مجرم کو قاضی کے سامنے پیش کرے ۔ ناکامی کی صورت میں تعین ہوتا کہ یہ نالائقی ہے یا مجرم کی طرف داری ۔ پہلی صورت میں اسے معطل کیا جا تاا ور دوسری صورت میں سزا بھی دی جاتی۔آپ ذرا غور کریں اگر یہی قانون آج نافذ ہو جائے تو امن وامان کی کیا وہی صورت پیدا نہ ہو جائے جو سوری کے دور میں تھی یعنی جرائم کی ہندستان میں سب سے کم شرح!یہی نگرانی اور کنٹرول تھا کہ شیر شاہ کے عہد کا ہندوستان امن و خوشحالی کا ہندوستان کہاجاتا ہے اور عوام حکومت سے مطمئن نظر آتے ہیں۔شیر شاہ سوری کو ہر عہد میں اہمیت دی گئی ۔ آج کے آزاد ہندوستان میں بھی وہ اپنا مقام رکھتے ہیں۔ حکومت اور عوام میں رابطہ کس ڈھنگ کا ہونا چائیے، افسروں کی طاقت کتنی ہونی چائیے ۔ خوش حالی اور آسودہ حالی کس طرح لائی جاسکتی ہے، عدل و انصاف کے ترازو میں توازن کس طرح قائم کیا جاتا ہے ، کوئی شیر شاہ سے اس دور میں بھی سیکھے جو ترقی کا دور کہلاتا ہے۔شیر شاہ نے ہندوستان کے لیے جہاں دو ہزار لمبی قومی شاہراہ چھوڑی وہاں اس کی بنائی ہوئی عمارتوں کی باقیات تمام مغل دور سے زیادہ ہیں ۔ہاں تاج محل اور شالامار باغ جیسے عیاشی اور شان و شوکت کے نشان البتہ شاید ہی کسی عمارت میں ملیں۔
اس عوامی فرمانروا نے تاریخ ہند میں پہلی بار جمہور کی اصطلاحوں میں سوچا، ہندوستان کو ایسا نظام حکومت دیا جو پندرہویں اور سولہویں صدی تک بے مثال تھا، اور آج بیسویں صدی میں بھی بعض پہلووں سے قابل تقلید ہے، اس نے ہندو مسلم کی تمیز مٹائی (عقیدے کے لحاظ سے نہیں حقوق کے لحاظ سے)، ایک سیکولراسٹیٹ قائم کیا، اور ایک طرف اگر اپنی اولاد اور خاندان والوں کو عبرت ناک سزائیں دے کر عدل و انصاف کا حق ادا کیا، تو دوسری طرف باغیوں اور شرپسندوں کا بھی بلا امتیاز مذہب و ملت احتساب کیا ۔یہ بات البتہ ضرور سوچنے کی ہے اس طرح کی بصیرت کا مظاہرہ سب سے بڑے عالم دین بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے کیوں نہ کیا ، جس نے سب سے طویل عہد اقتدار پایا اور’’ شریعت ‘‘ کا بھی بھر پور نفاذ کیا۔ حتیٰ کہ ’’ مخلص‘‘ مسلمانوں کی روح میں اترنے کا سامان یعنی غیر مسلموں ذلیل کرنے اور اسلام کا ’’ بول بالا ‘‘ کرنے کے لیے اکبر کے دور سے رکا ہواجذیہ ٹیکس کا بھی نفاذ کیا ۔لیکن کیا ہم اورنگ زیب کو شیر شاہ کے مقابلے میں عوامی حکمران کہہ سکتے ہیں ؟ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ نہیں ، تب غور کرنا چاہیے کی کیوں نہیں ؟ (ختم شد )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *