دبئی سے ملائشیا تک، تصور تبدیلی پر راغب کرتا ہے

اعجاز ذکاء سیدijaz zaka

وہ کیا چیز ہے جو عظیم قائدین پیدا کرتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو عظیم قیادت پیدا کرتی ہے؟کیا کوئی شخص پیدائشی قائد ہوتا ہے یا قیادت کوئی ایسی شے ہے کہ جو مخصوص حالات اور شرائط کے تحت پیدا ہوتی ہے؟یہ کوئی تعلیمی سوال نہیں ہے۔ یہ سوال ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ایک دلچسپ گفتگو کے دوران میرے ذہن میں ابھراجو حال ہی میں مجھے دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک لے کر گیا تھا۔
اس کی خاموشی کا سبب اس کا شدید غصہ معلوم ہوتا تھا۔گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے ایک نہایت کثرت سے کیا جانے والا سوال داغ دیا؛ ’’خان صاحب آپ کتنے عرصے سے دبئی میں ہیں؟‘‘
’’اپنی یادداشت سے بھی زیادہ عرصے سے۔ میرا خیال ہے کہ 25برس سے بھی زائد عرصے سے،‘‘ اس نے اپنے ٹھیٹھ خیبر پختونخواہ والے لہجے میں جواب دیا۔
’’آپ کب تک گھر لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘‘
’’میں نہیں جانتا۔ بہرحال، اب دبئی ہی میرا گھر ہے،‘‘ اس نے اپنی آواز میں موجود شکست کے ایک تاثر کے ساتھ کہا۔ ’’میں ہر دو برس کے بعد پشاور جاتا ہوں۔لیکن جب سے میں نے پاکستان میں موجود اپنے خاندان کی کفالت کرنی شروع کی ہے اس وقت سے میں ان کے ساتھ زیادہ عرصہ گزار نہیں سکا۔‘‘
المکطوم پل سے اگلے چمکتے دمکتے انڈر پاس کہ جس نے دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب سفر کا وقت بہت کم کردیا ہے، میں سے گزرتے ہوئے ، وہ دل ہی دل میں مسکرایا اور اپنے جسم کو جنبش دی۔
’’اسی کو دیکھیں۔ ایک اور سرنگ، ایک اور بڑا منصوبہ اور نئی ملازمتیں! میں گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران دبئی اور متحدہ عرب امارات کو خوب پھلتے پھولتے دیکھ چکا ہوں۔یہ جگہ کبھی بھی میری حیرت کو مرنے نہیں دیتی۔ہمیشہ ترقی پذیر رہتی ہے۔ یہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ بنتا رہتا ہے۔ اور حالیہ مالی بحران کے باوجود یہ ترقی رکی نہیں۔‘‘
مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک سے نمٹنے کے لئے دبئی اپنے پہلے ہی کشادہ اور تیزرفتار سڑکوں کے جال کی مزید تعمیر اور وسعت جاری رکھتا ہے۔
’’اور یہ سب کچھ قیادت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر ہمارا ملک صرف اس قصبے کے شیخ محمد جیسا ہی کوئی حکمران حاصل کرلے توہم ہمیشہ کے لئے اپنے گھروں سے ہزاروں میل دورواقع مقامات پر نہ رکے رہیں۔۔۔ میری طرف دیکھیں۔ میں اپنی نصف سے زائد عمر اپنے پیاروں سے دور گزار چکا ہوں۔‘‘ ٹیکسی ڈرائیور نے ناراضگی سے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔
زبان خلق نقارہِ خدا ہوتی ہے۔بلا شبہ وہ درست تھا۔ ویژن رکھنے والے رہنما ہی اقوام اور ممالک کی تعمیر کیا کرتے ہیں۔ کچھ ہی دیر قبل ملائشیا میں سفر کے دوران، مجھے پٹھان ٹیکسی ڈرائیور کی باتیں مسلسل یاد آتی رہیں۔ملائشیا ایک اور شاندار مثال ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ افراد کس طرح اقوام کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
صرف وہی رہنما کسی قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے کہ جوخواب دیکھنے اور اس کو تعبیر دینے کی ہمت رکھتا ہو۔اور جیسا کہ فرینک لوئڈ رائٹ نے کہا تھا کہ ایک خیال ہی دراصل تحفظ کا تصور دیتا ہے۔
اگر آج ملائشیا کو اس خطے کی تیزترین معیشتوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کی اس ترقی کو سراہا جا رہا ہے تو اس کا کریڈٹ مہاتیر کو دیا جانا چاہئے۔ یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ ملائشیا کے لوگ ابھی تک ان سے کیوں پیار کرتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے ناقدین میں سے بہت سے ان کو آمر قرار دیتے ہیں۔
اس ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے جو ملائشیا کو جنوب میں سنگا پور سے اور شمال میں تھائی لینڈ سے ملاتی ہے ، آپ اس وسیع اور بل کھاتی ہوئی چھ رویہ سڑک کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ اس سڑک کو دونوں اطراف سے پام کے گھنے درخت گھیرے ہوئے ہیں۔ایسی نہایت نفیس شاہراہیں تیسری دنیا اور ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں نایاب ہیں۔
اور یہ شاہراہیں محض اس لئے نہیں بنائی گئیں کہ ملک میں نئے آنے والوں کو مرعوب کیا جا سکے۔آپ جہاں بھی جائیں گے، ملائشیا میں آپ کو ایسی ہی شاندار شاہراہیں دکھائی دیں گی۔ملائشیا کے ادارے اور انفراسٹرکچر نہایت آسانی سے ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ترقی پذیر دنیا کے لئے ایک ذریعہ ترغیب بھی ہو سکتے ہیں۔ایشیا میں ہونے کے باوجود دنیاکا پسندیدہ ترین سیاحتی مقام بن کر ملائشیا نے اپنے ہمسائیوں سنگاپور اور تھائی لینڈ کو تو پہلے ہی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ملائشیا نے دیگر ایشیائی ملکوں جیسے پاکستان اور ہندوستان کے بہت بعد، 1957ء میں آزادی حاصل کی۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ موجودہ ملائشیا تو دراصل1969ء میں ملایا، سباہ اور سراوک جیسی بڑی ریاستوں کے اتحاد سے وجود میں آیا۔ملائشیا کے تجربے میں سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ اپنی شاندار معاشی ترقی و خوشحالی کے باوجود، وسیع پیمانے پر چینی اور ہندوستانی کمیونٹیز کا حامل یہ مسلم اکثریتی ملک، اپنے عظیم مذہبی، ثقافتی اور تاریخی ورثے سے کٹا نہیں ہے۔یہ حقیقتاً ایک کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی معاشرہ ہے۔
ملائشیا کی اقلیتیں قومی دھارے میں بھرپور حصہ ملاتی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ملائشیا، اسلامی اقدار پر نہایت ایمانداری سے گامزن رہتا ہے۔ملائشیا نے اسلام اور جمہوریت یا اسلام اور جدیدیت کے مل کر نہ چل سکنے کے مفروضے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
دبئی اور ملائشیا کی کامیابی کی کہانیوں میں باقی ماندہ مسلم دنیا کے لئے نہایت گرانقدر اسباق ہیں۔یہ دونوں ممالک مظاہرہ کر چکے ہیں کہ آپ کس طرح اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دے سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ خود آپ ان پر حقیقتاً یقین رکھتے ہوں۔یہ محض ان کے رہنماؤں کے کردار کی مضبوطی اور ان کی خواب دیکھنے کی صلاحیت کے سبب ممکن ہوا کہ انہوں نے اس قدر کم وقت میں ایسی عظیم کامیابیاں حاصل کر لیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ عرب اور مسلمان دنیا میں بلند خیالات، اچھی سوچ، صلاحیت اور جذبے کی کمی نہیں ہے۔صرف آپ کو خواب دیکھنے کی صلاحیت اور ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے کہ جو ان کو تعبیر دے سکیں۔اپنے خوابوں کی طاقت کو کبھی کم تر نہ جانیں۔ وہ شاید ابھی سچ ہو جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *