چالباز پیر فقیر

Prof.Abdullah Bhatti

فلمی اداکار نما سجادہ نشین کے چہرے پر پریشانی اور خجا لت کے تا ثرات ابھرنے شروع ہو گئے تھے وہ صبح سے اب تک اپنی ترکش کے تمام تیر چلا چکا تھا لیکن ابھی تک اُس کا ایک بھی تیر نشانے پر نہیں لگا تھا صبح سے ابتک اُس نے مجھے زیر کر نے مجھے پھانسنے یا متاثر کر نے کے لیے بہت سارے جا ل میرے اوپر پھینکے تھے لیکن اُس کی تما م کو ششیں دم توڑ چکی تھیں اب وہ بے بسی اور شرمندگی کا مجسمہ بنا پریشان نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا اُس کے چہرے کے تا ثرات رنگوں اور جسمانی حرکا ت سے واضح طور پر اُس کی پریشانی ، شرمندگی اور بے بسی نظر آرہی تھی وہ روزانہ سینکڑوں انسانوں کو آسانی سے ذبح کر تا تھا لیکن آج میرے سامنے وہ نا کا می سے دو چار نہیں ہو نا چاہتا تھا میرے سامنے وہ شرمندہ ہو رہا تھا اُس کو اصل شرمندگی اور غصہ یہ تھا کہ وہ اپنے مریدوں خادموں کے سامنے دنیاوی خدا بنا بیٹھا تھا جس کو کبھی بھی ہا ر کا سامنا نہیں ہو ا تھا ۔ اب اُس کویہ پریشانی اور شرمندگی بھی تھی کہ اُس کے مرید اور خادم کیا کہیں گے اُس نے بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ اب وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا تھا وہ ظاہر یہ کر رہا تھا کہ وہ عالم استغراق یا مرا قبہ کی گہرائی یا بلندی پر پرواز کر رہا ہے اصل میں مرا قبہ یا استغراق کا تو اُسے بلکل بھی پتہ نہ تھا وہ تو گہری سوچ میں غرق سوچ رہا تھا کہ کو نسا طریقہ کر تب یا چال چلوں کہ میں اُس کی روحانیت کا قائل ہو جا ؤں غلطی وہ یہ کر رہا تھا کہ صبح سے اب تک دنیا داری دنیا وی ڈرامے با زیاں اور ما دیت پر ستی کا ہی مظاہرہ کئے جا رہا تھا ۔ تصوف ، روحانیت مرشد مرید روحانیت کے پراسرار رازوں کے متعلق نہ تو وہ جانتا تھا اور نہ ہی وہ تصوف پر بات کر رہا تھا یہی اُس کی غلطی تھی کیونکہ دنیا داری اور مادیت پر ستی ہی اگر کسی کی بزرگی اور ولایت کا پیمانہ ہوتی تو یہ کسی بھی امیر کا رخانے دار یا دولت مند کے در پر جا کر دیکھی جا سکتی تھی ہم تو یہاں روحانیت اور تصوف کے مو تی چننے آئے تھے جبکہ وہ ہمیں دولت کے سکوں سے متا ثر کر نے کی نا کا م کو شش کر رہا تھا ۔ اپنی اِس کو شش میں وہ حما قتوں پر حما قتیں کئے جا رہا تھا ۔ اپنی ہر نئی حرکت کے ساتھ اُس کا قد ہما ری نظروں میں چھوٹا ہو تا جا رہا تھا ۔ اب وہ ہما رے سامنے بیٹھا غور و فکر اور مرا قبے کا ڈرامہ ر چارہا تھا اور پھر اچانک اُسے کو ئی خیا ل یا ترکیب آئی اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور جھٹکے سے سیدھا ہو کر پہلے بیٹھا اور پھر کھڑا ہو کر تیزی سے چلتا ہوا زنا ن خا نے میں گھُس گیا ۔ پیر صاحب شاید زنان خا نے میں کسی سے مشور ہ کر نے گئے تھے ہم حیران پریشان پیر صاحب کی اِس نئی حرکت پر سوچ رہے تھے کہ اب پیر صاحب کو نسی نئی چال چلتے ہیں میں پیر صاحب کی اداکاری اور قلا بازیوں سے بہت زچ ہو چکا تھا کہ پتہ نہیں کب ہما ری جا ن اِس مضحکہ خیز گدی نشین سے چھوٹے گی ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ پیر صاحب تیزی سے واپس آتے نظر آئے اب پیر صاحب کے چہرے پر خو شی اور جو ش کا رنگ نظر آرہا تھا پیر صاحب کو کسی نے اچھا مشورہ دیا تھا اُس مشورے کے بعد پیر صاحب بہت پر جوش اور خو شی سے دیوانے ہو ئے واپس آئے اُن کے چہرے کے رنگ اور جسمانی حرکت سے لگ رہا تھا ۔ جیسے پیر صاحب کے ہا تھ قارون کا خزانہ لگ گیا ہو ۔ پیر صاحب کی چال جسمانی حرکا ت اور چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ وہ بہت ہی پر یقین تھا کہ اِس چال سے وہ کا میاب ہو گا اپنی اِس چال کے کامیاب ہو نے کا اُنہیں بہت زیا دہ یقین تھا کہ اب یہ تیر یقیناًنشانے پر لگے گا اور وہ اپنے مقصد میں کا میاب ہو گا ۔ اب ہم بھی متجسس نظروں سے پیر صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے کہ پتہ نہیں اب یہ کو نسا کر تب یا چال چلتے ہیں اپنی حما قتوں کی لسٹ میں ایک اور حما قت کا اضا فہ کر تے ہیں ہم اشتیاق بھر ی نظروں سے پیر صاحب کی اگلی حر کت کا انتظا ر کر رہے تھے ۔ پیر صاحب آکر ایک بار پھر اپنی شاہی مسند پر جلوہ افروز ہو گئے اب اُن کے چہرے اور سمانی حر کا ت سے اعتماد چھلک رہا تھا وہ بہت پر اعتماد تھا کہ کا میا بی ہر صورت میں اب اُس کا مقدر ہے ۔ وہ پہلے تو مغرور فا تحانہ نظروں سے ہما ری طرف دیکھتا رہا پھر اُس نے خا دموں کو اشارہ کیا کہ اُس خا ص کمرے کو کھولا جا ئے جس میں اُ نکے خاندانی نوادرات اور بزرگوں کے استعمال کی ذاتی اشیا ء رکھی گئی ہیں ۔ پیر صاحب ہما ری طرف دیکھتے ہو ئے بآواز بلند بولے یہ ہما رے خا ندان کے بزرگوں کا خاص کمرہ ہے اِس کمرے کو بہت خا ص مو قعوں پر کھولا جا تا ہے آپ خو ش قسمت ترین لو گ ہیں جن کو اِس خا ص کمر ے میں جا نے کی اعلی سعادت نصیب ہو گی یہ خا ص بزرگوں اور لو گوں کے لیے ہی کھولا جا تا ہے آج ہم آپ کو اِس کمرے اور اشیا کی زیا رت کرا ئیں گے اِس کمرے کی زیارت کے بعد آپ بھی اُن خوش قسمت ترین لو گوں میں شامل ہو جا ئیں گے جنہوں نے اپنی آنکھوں اور روحوں کو اِن نا یا ب اشیا کی زیا رت سے روشن کیا ہے اور پھر پیر صاحب با وقار اور مغرور انداز سے کھڑے ہو گئے اب ہم اُس نا یا ب کمرے کی زیا رت کے لیے جا رہے تھے اور پھر ہم ایک بہت پرا نے لکڑی کے دروازے پر جا کھڑے ہو ئے پرانی لکڑی کے دروازے کی شکستگی بتا رہی تھی کہ یہ دروازہ صدیوں پرا نا ہے بہت بڑے پرانے تا لے کو خادم نے کھولا اور پھر ہم عطر اور خو شبوؤں سے مہکتے کمرے میں داخل ہو گئے پھر فوری طور پر خادم نے لا ئٹ جلا ئی تو کمرہ روشن ہو گیا کمرے میں واقعی بہت پرا نے ملبوسات ٹو پیاں اور ما لائیں تسبیحات مٹی کے برتن چارپائیاں کچی مٹی کے گھڑے پیتل کے برتن پرانی کتابیں اسلامی کتا بیں سروں پر پہننے والی بڑی بڑی پگیں پرا نے حُقے پرانی لکڑی کے عصاء پھولوں اور ریشمی تا روں کے پرانے بہت سارے ہا ر ریشمی ہا روں کی ریشمی سنہری تا روں کا رنگ سیا ہی ما ئل ہو چکا تھا ۔ اب پیر صاحب نے فاتحانہ نظروں سے ہما ری طرف دیکھا اور کمر ے میں مو جود چیزوں اور نوادرات کے با رے میں liveکمنڑی شروع کر دی کہ یہ چیز یا لباس فلاں بزرگ کا ہے یہ فلا ں دور کا ہے اِس کی کرامت یہ ہے اِس کی کرامت وہ ہے یہ اتنے سال پرا نا ہے یہ اتنی صدیا ں پرانا ہے میں ہمیشہ سے تاریخ کا طالب علم رہا تھا میں تجسس اور غور سے تما م اشیا ء کو دیکھ رہا تھا ۔ محترم قارئین آپ پاکستان یا بھارت کی کسی بھی بڑی گدی پر چلے جا ئیں اکثر جگہوں پر آپ کو ایسی نا یا ب اور پرانی چیزیں دکھائی جا ئیں گی پا کستان میں روحانی گدیوں کے علا وہ بھی بہت سارے گھر وں میں کو ئی نہ کو ئی متبرک چیز آپ کو ملے گی اب وہ چیز اصل ہے یا نقل یہ تو خدا ہی جا نے لیکن عقیدت مندوں کے مذہبی اور روحانی ذوق کو کیش کرا یا جا تا ہے اور جن کے گھروں میں ایسی اشیا ہیں وہ بھی سجا دہ نشینوں کی طرح فخریہ طور پر اپنی اِن اشیا کی نمائش کر تے ہیں اور پھر پیر صاحب ہمیں ایک پرا نے صندوق کے پا س لے آئے اور ہما ری طرف اِسطرح دیکھا جیسے مداری سانپ نکالتا ہے اب انہوں نے صندوق کھولا تو اُس میں پرانے قیمتی پتھرکی انگوٹھیاں اور سکے موجود تھے اب اُنہوں نے اِن اشیا کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے پیر صاحب کے پرانے سکے دیکھ کر مجھے وہ غریب دیہا تی یا د آگیا جو ایک دن میرے پاس آیا اور مجھے کہنے لگا کہ پرو فیسر صاحب حساب لگا ئیں کہ میرے مقدر میں جنت لکھی جا چکی ہے تو میں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم نے ایسا کو ن سا عمل کیا ہے کہ جنت تم پر واجب ہو چکی ہے تو اُس نے کہا کہ میرے پیر صاحب نے مجھے کہا کہ تم پر جنت واجب ہو چکی ہے ہم نے تم کو جنت کی ضما نت دی اب تم کو ئی نیکی یا اچھا عمل کرو نہ کرو اب تم جنتی ہو چکے ہو میں نے حیرت سے اُس دیہا تی کو دیکھا اور اشتیاق بھر ے لہجے میں اُسے کہا کہ تم بتا ؤ تم نے کیا نیکی کی ہے اور تمہا را پیر کیا مقام رکھتا ہے اُس کو کس نے یہ پا ور یا مقام دیا ہے کہ وہ دنیا میں بیٹھ کر لو گو ں میں جنت تقسیم کر رہا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *