زیک گولڈ سمتھ کی شدت پسند مہم ، عوام نے بھی صحیح مزہ چکھا دیا

news

زیک گولڈ سمتھ الیکشن میں شکست خوردہ ہیں اور ان کی شہرت کو بھی بہت بڑا دھچکالگا ہے۔ ان کے پاس اختیار تھا کہ وہ اپنی شہرت کو دھبہ لگنے سے بچا سکیں اورایک لبرل طرح کے انسان بنتے اور  ایک بڑی تعداد میں لوگوں کی سپورٹ حاصل کرتے۔الیکشن کے شروع میں لگتا تھا کہ وہ جیت سکتے ہیں ۔ بلکہ کچھ علاقوں میں انہوں نے برتری بھی حاصل کر رکھی تھی۔ کچھ لوگ صادق خان کی جیت محال قرار دے رہےتھے۔اس کے باوجود انہوں نے نسلی تعصب کا سہارا لیا  انہوں نے اپنی مہم کومسلمانوں سے نفرت اور تعصب کے رنگ میں رنگ دیا اور اس نسلی اور مذہبی تصعب کےذریعے الیکشن جیتنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ صادق خان ان لوگوں میں سے ہیں جو شدت پسندی کے خیالات کو قانونی رنگ دینا چاہتے ہیں۔صادق خان ایک کھلے ذہن کے مالک مسلمان ہیں جنہوں نے برابری کی شادی کے حق میں ووٹ دیا اور اس پر انہیں جان کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بر عکس گولڈ
سمتھ کے حامیوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ گولڈ سمتھ کی مہم میں ان کا ساتھ دینے والے زیادہ تر ہم جنس پرست مرد اور یہودی عورتیں تھیں۔ صادق خان کو شدت پسند،تنگ ذہن اور دہشت گردوں کے ساتھ جوڑ کر انہوں نے ۱۹۶۴ میں ٹوری اور سمیتھ وک کی اور ۱۹۸۳ کی برمونڈسے کی جنس پرستی کی مہم کی یاد تازہ کر دی ہے۔ لندن دنیا کا بہت اہم شہر ہے۔ اس شہر میں اسلام مخالف مہم کا اثر مغربی دنیا پر براہ راست ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں لند ن کے شہری کیا اپنے ساتھی شہریوں سے نظریں ملا سکتے ہیں؟عام طور پر الیکشن جیتنے کے بعد جیتنے والے کو مبارک باد دی جاتی ہے مقابلہ میں آنے والے سیاستدان ہاتھ ملا کر اپنی کہی سنی باتوں کو بھول کر ملک کر کام کرنے کا عہد کرتے ہیں ۔ ہارنے والے کی ہمت بندھائی جاتی ہے ۔ لیکن حالیہ الیکشن میں ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ایک سیاستدان نے نفرت اور تعصب کوبڑھکایا۔ انہوں نے جوان مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ انہیں جمہوریت میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیوں کہ ایک دن انہیں بھی شدت پسند اور دہشت گردوں کا حمایتی قرار دیا جائے گا۔ ایسا کہہ کر زیک سمتھ نے خود اپنے آپ کوایک شدت پسند ثابت کیا ہے۔ اب بھولنے اور معاف کر دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب گولڈ سمتھ جہاں بھی جائیں ان کا استقبال احتجاج اور مظاھروں سے کیاجانا چاہیے۔یہ سیڈ ازم نہیں کہلایا جائے گا۔ اگر گولڈ سمتھ کو ایسا سخت جواب نہیں ملتا تومستقبل میں دوسرے سیاستدان بھی یہی ہتھکنڈے استعمال کر سکتے ہیں۔ سیاستدانوں نے پہلے ہی سکاٹ لینڈ کی آزادی کے خلاف خوف اور دہشت کی مہم چلانے کا گر سیکھ لیا ہے ۔ اور یہ حربہ کامیاب بھی رہا ہے۔ جنرل الیکشن میں کنزرویٹو پارٹی نےلیبر پارٹی کو ہرایا ۔ انہوں نے الیکشن جیتنے کے لیے ایڈ ملی بینڈ کو ایک دہشتناک شخصیت کے روپ میں پیش کیا۔ برمونڈسے اور سمیتھ وک کی مہم اگرچہ اب زیادہمشہور نہیں رہی لیکن اس دور میں ایک کامیاب حربہ قرار پائی۔ موجودہ دور میں ایسی خوف اور دہشت کی مہم چلانے والے سیاستدان کو عوام نے صحیح مزا چکھا دیاہے۔ ایک ایسا سبق دیا گیا ہے کہ ہارنے والا سیاستدان اسے کبھی نہیں بھول پائےگا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *