اسلامی معاشرہ کا قیام

محی الدین عباسی 

Mohiuldin Abbasi.

اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے سب سے بنیادی اور مرکزی نقطہ یہ ہے جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے جو چودہ سو سال قبل عمل میں آیا تھا ۔ اس معاہدے سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکومت کی قانون سازی نہیں بلکہ اس میں معاہدے کی شقیں ایسی ہیں جو معاشرت کے اصولوں کے مطابق ہیں چنانچہ اس کا مرکزی نقطہ اس بات میں ہے کہ اگر یہود اس معاہدہ میں شامل ہوں تو ان کو بھی مومنوں جیسے حقوق حاصل ہونگے اس معاہدے کی رو سے ہر شریک معاہدہ خواہ وہ مدینہ میں رہے یا مدینہ کو چھوڑ کر باہر کہیں بسنے کے لئے چلا جائے وہ برابر امن کا حقدار ہو گا۔ معاہدہ کے شرکاء کا کوئی حق نہیں ہو گا کہ ان کے معاملے میں دخل دیں یہ میثاق مدینہ ایسا دنیا کا چارٹر ہے جو آئندہ زمانے میں بھی تمام جھگڑے والی قوموں کے لئے ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسلام کی لا زوال و بے مثال تعلیم پر عمل پیرا ہونے سے ایک ایسا حسین معاشرہ معرض وجود میں آتا ہے جس میں امیر و غریب باہم شیرو شکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور انہیں یکساں عزت و احترام کا مستحق گردانہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عزت کا معیار دولت اور امارت کو نہیں بلکہ تقویٰ کو قرار دیا ہے جو بھی متقی ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب تکریم کے لائق ہے۔ اگر ایک شخص بظاہر غریب ہے لیکن متقی ہے وہ یقیناََ اس امیر سے زیادہ لائق تکریم ہے۔جو متقی نہیں یا جسکا تقویٰ ابھی خام ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو یہ امر بطور خاص ذہن نشین کرایا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تم اللہ کی نگاہ میں معزز قرار پاؤ تو تقویٰ اختیار کرو۔ چنانچہ فرمایا:۔ سورۃ الحجرات آیت نمبر ۱۴ ! ترجمہ! اے لوگو! ہم نے تجھ کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کر سکو۔ اللہ یقیناََ بہت علم رکھنے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے۔ یہ ایسی انقلاب انگیز تعلیم ہے جس سے معاشرہ میں اونچ نیچ اور ہر قسم کی نا ہمواری کی جڑ کٹ جاتی ہے اور سب ایک ہی سطح کے انسان شمار ہو کر اور باہم شیر و شکر ہو کر زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ جب عزت کا معیار تقویٰ قرار پا گیا تو پھر ضروری ہؤا کہ سوسائٹی کا کوئی طبقہ اپنی دولت اور قومیت کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھے اور دوسروں کی تحقیر کا مرتکب نہ ہو اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا سورۃ الحجرات آیت نمبر ۱۲:۔ ترجمہ! اے مومنو! کوئی قوم دوسری قوم کو حقیر سمجھ کر اس سے ہنسی مذاق نہ کیا کرے۔ ممکن ہے کہ وہ ( دوسری قوم ) خود ان سے اچھی ہو ( یعنی اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ متقی) اورر نہ کسی قوم کی عورتیں دوسری قوم کی عورتوں کو حقیر سمجھ کر ان سے ہنسی ٹھٹھا کیا کریں۔ ممکن ہے کہ اس دوسری قوم کی عورتیں ان سے بہتر ہوں۔ ( یعنی عنداللہ زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوں) نہ ہی تم ایک دوسرے پر طعن کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے یاد کیا کرو کیونکہ ایمان کے بعد اطاعت سے نکل جانا ایک بہت ہی برے نام کا مستحق بنا دیتا ہے اور توبہ نہ کر کے وہ ظالم ہو گا۔ یہ ایسے پیارے اور دل موہ لینے والے معاشرتی احکام ہیں جو ان پر عمل پیرا ہونے سے باہمی ہمدردی و مؤاخات ایک دوسرے کہ احترم اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ اس لئے ان کے نہایت حسین نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرمایا، سورۃ الحجرات آیت نمبر ۱۱ ترجمہ! مومنوں کا آپس میں بھائی بھائی کا رشتہ ہے۔پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان جو باہم لڑتے ہوں صلح کرا دیا کرو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ ان معاشرتی احکام پر عمل پیرا ہونے کا ہی نتیجہ تھا کہ خود آنحضرتﷺ کے زمانہ ء مبارک میں ایسا حسین معاشرہ وجود میں آیا کہ فی الحقیقت مومن آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور خدا تعالیٰ نے اس حسین معاشرے کے قیام کا قرآن کریم میں ذکر کرتے ہوئے فرما یا : سورۃ آ ل عمران آیت ۱۰۴۔ ترجمہ! یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے۔
اسلام کے قائم کردہ اس حسین معاشرہ میں عدل و انصاف ضروری امر ہے۔اور عدل و انصاف قائم کئے بغیر دنیا امن وآشتی کا گہوارہ بن نہیں سکتی۔کیونکہ جب نا انصافی اور جبرو استبداد کا دور دور ہ ہو جائے تو بدی جنم لیا کرتی ہے اور تباہی کے رستہ پر چل نکلتی ہے۔ اگر انسان حقوق اللہ کی ادا ئیگی میں عدل سے کا م نہیں لیتا تو یہ امر بعید از امکان ہے کہ وہ بنی نوع انسان کیساتھ عدل کر سکے۔یاد رکھنا چاہئے کہ عدل کے تقاضوں کو صحیح معنوں میں پورا نہ کرنے کے بد نتائج ضرور بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس قسم کی سزا کا تعلق خدا تعالیٰ کے غضب سے نہیں جو گویا آسمان سے اترتا ہے۔بلکہ یہ تو قوانین قدرت کی خلاف ورزی کا فطری نتیجہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی قوانین قدرت سے بالا تر نہیں۔چنانچہ دنیا میں جنگوں کی تاریخ پر غور کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نقص امن کی بنیادی وجہ ہمیشہ قوانین عدل کی خلاف ورزی ہؤا کرتی ہے۔ اس ضمن میں ہر فرد واحد کا فرض ہے کہ وہ ان قوانین قدرت پر خلوص نیت کے ساتھ عمل پیرا ہوں تاکہ دنیا میں جلد امن قائم ہو۔ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *