پی پی پی … نئی بوتل ، پرانا مشروب

Ayesha Siddiqa

پاکستان پیپلز پارٹی ملک بھر میں، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں لگتا تھا کہ اُس کی دکان بند ہوگئی ہے ، متحرک ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ پنجاب اور کشمیر میں عوامی جلسوںسے ایسالگتا ہے جیسے پارٹی قیادت پائوں رکھنے کی جگہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہو، خاص طور پر اگر انتخابات قبل ازوقت ہوتے دکھائی دیں۔ یہ تاثر جلسوں میں شرکا کی تعداد کو دیکھ کر قائم نہیں کیا گیا (آج کل جے یو آئی (ف)سے لے کر پی ٹی آئی ، پی پی پی ، پی ایم ایل (ن) اور جماعت ِاسلامی تک بہت سی جماعتیں بڑے بڑے جلسے کرنے کے فن میں طاق ہوچکی ہیں)، بلکہ اس حقیقت کو دیکھ کر کہ اب پی پی پی نے ملک کی مستقل مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ہنر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس طرح گدھ مردہ جانوروں کی بو سونگھنے پر آسمان پر منڈلانا شروع ہوجاتے ہیں، اسی طرح پی پی پی سمیت زیادہ تر سیاسی جماعتیں حکومت کو گرتے دیکھ کر آخری دھکا دینے اور اقتدار کے دسترخوان سے اپنا اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے کمر باندھ چکی ہیں۔
لبرل اشرافیہ کے زیادہ تر دھڑوں کے تن بدن میں پی پی پی کی بحالی کی توقعات جوش اور ولولے کی بجلیاں بھردیتی ہیں کیونکہ یہ جماعت لبرل اور ترقی پسند طبقوں کی آخری جائے پناہ سمجھی جاتی ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پی پی پی عملیت پسندی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ بائیں بازوکی جماعت نہیں ہے بلکہ اس کی نئی سیاسی زندگی میںنظریے سے زیادہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا اہمیت رکھتا ہے ۔اس وقت عملی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند ایک اچھے افراد کو بھی سامنے لایا گیاہے اوراس کے نئے لیڈر، بلاول بھٹو زرداری نے رائے سازوں اور پارٹی کے جیالوں سے رائے طلب کی ہے کہ پی پی پی کا مسئلہ کیا ہے اور اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پی پی پی کو درست راہ پر گامزن کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں لیکن اپنے حالیہ کھیل میں اُنھوں نے جو راستہ چنا ہے ، اُس سے اس کا اشارہ نہیں ملتا ۔
بلاول کی سیاست کو دیکھتے ہوئے ایسا لگا کہ جیسے وہ اپنی والدہ کی نسبت، خاص طور پر جب وہ پہلی مرتبہ اقتدار میں آئیں، کم مثالیت پسند اور اپنے والد، آصف زرداری ، کی طرح زیادہ عملیت پسند ہیں۔ باوجود اس حقیقت کے کہ زیادہ تر لوگ اُن کا اس لیے استقبال کرتے ہیں اور ان کے لیے جذباتی نعرے لگاتے ہیں کہ وہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں، لیکن وہ خود کو بتدریج اپنے والدکا بیٹا(یا ایسی والدہ کا جس نے این آر او پر دستخط کیے)ثابت کررہے ہیں۔ اُن کی اور ان کی جماعت کی کشمیر میں حالیہ کارکردگی کو ایک نظر دیکھیں۔ دو بنیادی ایشو، جن پر نوجوان زرداری نے کوٹلی ، آزاد کشمیر میں بات کی، اُن کا تعلق خارجہ پالیسی کی جہت اور بدعنوانی سے تھا۔ چاروںطر ف فضا میں مکے لہراتے ہوئے اُنھوں نے روایتی خارجہ پالیسی کو بحال کرانے کا عہدکیا۔ اس طرح بالواسطہ طور پر اُنھوں نے بھٹو کی ''انڈیا کے ساتھ ہزار سال تک جنگ کرنے ‘‘ کی فلاسفی کا اعادہ کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری کے کشمیریوں سے اس وعدے کا،کہ وہ اُن کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اُن کی حالت اور معیار زندگی بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اُنہیں دو ہمسایوں کے درمیان ریاستی انا کی تسکین کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں استعمال کرنا ہے ۔
بلاول بھٹو کو تقریر کرتے دیکھ کر ایسا لگا جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کو جنم دیا لیکن بے نظیر بھٹونے پھر ذولفقار علی بھٹو پیدا کیا ، فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں آصف زرداری کا رنگ زیادہ گہرا ہے۔اقتدار کے لیے کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار۔ 1988ء میں اقتدار پر فائز ہونے والی بے نظیر بھٹو نے بے مثال جرأت اور دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مقتدرہ کو چیلنج کیا بلکہ اُس خارجہ پالیسی کو بھی ترک کردیا جس کی وجہ سے پاکستان مستقل طور پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت اور کنٹرول میں تھا۔ یہ محترمہ تھیں جنھوں نے خطے کے استحکام کے لیے راجیو گاندھی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ دفاعی اداروں کو ایک طرف کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ ڈیل کا آپشن اختیار کرنا کشمیریوں کے حقوق کا سودا کرنے کے مترادف نہیں تھا، بلکہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ہوتا اور سرحد پر دوطرفہ آمدورفت شروع ہوجاتی تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیریوں کو ہی ہوتا۔ پاکستان کے دیگر نوجوانوں کی طرح کشمیری نوجوان بھی بہترمعاشی ترقی اور مواقع چاہتے ہیں، جو اُنہیں اس وقت میسر نہیں ہیں۔ اس وقت ان نوجوان افراد کو یہ بتانا کہ اُن کا اور باقی ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ انڈیا کے ساتھ پرانے روایتی فارمولے کے ساتھ ہی ڈیل کیا جائے ، ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
اس وقت بلاول کسی یقینی مقصد کے تحت اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو اکٹھا کررہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، لیکن اُنہیں بتانے والا کوئی نہیں کہ لوگوں کو ایک ایسی حکومت کے خلاف، جو انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے ،اشتعال دلانے کی کوشش اُن کی والدہ محترمہ کو ہرگز پسند نہ آتی۔ شایدیہ پی پی پی کا یہ نیا چہرہ بے نظیربھٹو کے سیاسی افکار کی نمائندگی نہیں کرتا، اس کا مقصد محض پی پی پی کی قیادت کے ذاتی مفاد اورسندھ میں سیاسی جاگیر کا تحفظ ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میںبھٹو اور اب زرداری کی جماعت طاقت کے مرکز کی گرفت میں ہے۔ چنانچہ یہ اُن ایشوز پر بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہے جنہیں تبدیل کرنا اس جماعت کی پالیسی رہی ہے ۔ کیا یہ پی پی پی نہیں تھی جو 2011ء میں انڈیا کو ایم ایف این (تجارت کے لیے انتہاپسندیدہ ملک ) کا درجہ دینے کے قریب تھی؟یا پھر ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے چند ماہ کے اندر ہی اسے اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے کافی سبق سکھا دیا ہے؟
جہاں تک بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے وعدے کا تعلق ہے ، کیا بلاول سوچتے ہیں کہ ان کے منہ سے ایسے نعرے کی کیا اہمیت ہے کہ جب اُن کے ارد گرد پارٹی کی موجودہ قیادت کھڑی ہو؟اُنہیں دیکھنا چاہیے کہ اُن کی جماعت نے کشمیر کونسل کے لیے کس قسم کے افراد کا چنائو کیا اور کیا اب اُنہیں بدعنوانی کے خلاف نعرہ زیب دیتا ہے ؟کیا بلاول ، اُ ن کے والد یا پھوپھو جان پارٹی کے عہدیداروں کا انتخاب کرتے وقت اُن کی پارٹی کے ساتھ وابستگی کو دیکھتی ہیں یا اُن کی جیب کو؟ایک نوجوان کو، جو پی پی پی کو دوبارہ اس کے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے لوگوں کی رائے لے رہا ہو، کیا کسی نے بتایا ہے کہ پارٹی کے جیالے کشمیر کونسل کے لیے فریال تالپور کے نامزدکردہ افراد کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان افراد کا چنائو پارٹی کی ترقی پسندانہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے ؟کیا بلاول کو کبھی پتہ چلے گا کہ کشمیر میں ٹکٹ دینے کے لیے اصولوں کی بجائے بھاری جیب اور طاقت کے مستقل مراکز سے قربت کا خیال رکھا گیا ہے ؟
اگر بلاول واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اوروہ اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تویہ مالی، سیاسی اور فکری بدعنوانی ہے جسے پی پی پی کی اصل شکل بحال کرنے کے لیے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا، تاہم کارکن سوچتے ہیں کہ کیا قیادت پارٹی کو اصل حالت میں بحال کرنے میں دلچسپی رکھتی بھی ہے یا نہیں؟اس کی صرف اعلیٰ قیادت ہی بدعنوان نہیں بلکہ موقع پرستی کی سیاست کے زمانے میں اس کے کچھ کارکن بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے پائے گئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پی پی پی کے حوالے سے کچھ بھی نیا سامنے نہیں آیا ، سوائے اس کے کہ پرانی شراب نئی بوتل میں ڈال دی گئی ہے ۔ یہ تمام کوشش اقتدار اور ذاتی مفاد کے لیے ہے ، عوام کی بہتری اور نظریات کی آبیاری کے لیے نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *