ڈاکٹروں کا حیرت انگیزانکشاف، دنیا کا پہلا تجربہ ہوگیا

Bharti Patient

ابوظبہی -میڈیکل کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ سامنے آگیا کہ ڈاکٹر اپنی مسیحائی کے ساتھ ساتھ مشینوں کو استعمال کرنے پر بھی چکرا کر رہ گئے۔ مریض کوسینے میں درد کی شکایت ہو تو ڈاکٹر فوری طورپر سٹیتھوسکوپ سینے کے بائیں طرف رکھ کر دل کی دھڑکن سننے کی کوشش کرتا ہے ، لیکن اگر مریض کا دل ہی اپنی جگہ سے غائب ہو تو کیا کیا جائے۔  یہ انہونی صورتحال ابوظہبی کے مصفٰی انڈسٹریل ایریا کے ایک ہسپتال میں پیش آگئی جہاں ایک بھارتی شخص کو سینے میں درد کی شکایت کے بعد لایا گیا تھا۔ لائف کیئر ہسپتال میں اس مریض کو سب سے پہلے مصری نژاد ڈاکٹر خالد جلال نے چیک کیا۔ ڈاکٹر خالد کارڈیالوجی کے شعبے میں 25 سال کا تجربہ رکھتے ہیں لیکن جب اس مریض کے سینے پر سٹیتھوسکوپ رکھا تو ایک نیا تجربہ ہو گیا۔

نیوز سائٹ ایمرٹس 247 کے مطابق ڈاکٹر خالد جلال کا کہنا تھا کہ یادیو نامی مریض کے دل کی دھڑکن بالکل سنائی نہیں دے رہی تھی۔ انہوں نے کچھ دیر کوشش کے بعد مریض کے ایکسرے کا حکم دیا۔ جب ایکسرے رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ یادیو کا دل بائیں طرف نہیں بلکہ دائیں طرف تھا، جبکہ بائیں طرف کے دیگر اہم اعضاءبھی دائیں طرف تھے۔  مریض کے دل کا سراغ تو لگا لیا گیا لیکن بعدازاں جب مختلف مشینوں کے ذریعے اس کا علاج کیا جانا تھا تو شدید مشکلات پیش آئیں۔ ڈاکٹر خالد جلال کاکہنا تھا کہ یہ مشینیں نارمل لوگوں کے تیار کی جاتی ہیں، جن کا دل بائیں طرف ہوتا ہے ، دائیں طرف دل والے شخص کیلئے ان مشینوں کااستعمال انتہائی مشکل تھا۔  یادیو کے مزید ٹیسٹ کیے گئے جن سے معلوم ہوا کہ اس کا جگر ، پِتہ اور کچھ دیگر اہم اعضاءبھی اُلٹی طرف واقع تھے۔ ڈاکٹر خالد جلال نے بتایا کہ سائنسی زبان میں اس صورتحال کو ”ڈیکسٹرو کارڈیا سیٹس انورسس“ کہا جاتا ہے اور ایسے کیس کی شرح 10ہزار میں صرف ایک ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے طبی کیریئر میں دائیں طرف دل رکھنے والے مریض کا یہ پہلا تجربہ ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *