آگ کے لئے پانی کا ڈر بنا رہنا چاہیے

Muhammad Umair

چند ماہ قبل ایک انڈین فلم ”مقبول “دیکھنے کا اتفاق ہوا،فلم انڈین سیاست دانوں اور پولیس کی کارستانیوں کی کہانی ہے۔فلم میں پولیس اہلکاروں کا کردار اداکرنے والے نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کی ا یکٹنگ لاجواب ہے،پاکستانی بیوروکریسی کی طرح یہ اہلکار بھی ہر سیاست دان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرلیتے ہیں۔فلم کا ایک بہترین ڈائیلاگ جو کہ اوم پوری مختلف موقعوں پر کہتے ہیں

” آگ کے لئے پانی کا ڈر بنا رہنا چاہیے “

گو کہ یا فلم چند ماہ قبل دیکھی تھی مگر گزشتہ چند روز میں ایسے واقعات رونما ہوئے کہ یہ ڈائیلاگ بہت یاد آیا۔قانون کا ڈر ہی کسی ملک کے باسیوں کو بہت سے جرائم روکے رکھتا ہے۔جب یہ ڈر ختم ہوجاتا ہے تو جرائم عام ہوجاتے ہیں،لوگوں کو اکثر کہتے سنا ہے کہ دبئی ،امریکہ ،برطانیہ اور دیگر ممالک میں قانون بہت سخت ہے لحاظ وہاں کوئی جرم نہیں کرتا،دراصل ان ممالک میں قانون سخت نہیں مگر قانون کا ڈر ہوتا ہے ملک کے سربراہ سے لیکر عام آدمی تک کو پتہ ہے اگر اس نے کچھ غلط کیا تواسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔یہی ڈر ان کو جرم سے روکے رکھتا ہے۔مگر ہمارے ملک کی بدنصیبی یہ بھی ہے کہ قانون کا ڈر ختم ہوگیا ہے،قانون طاقت ور لوگوں کے گھر کی باندھی بن گیا ہے اسی لئے جرائم عام ہیں۔

چند روز قبل ڈی پی اوبہاولنگر ایس ایس پی شارق کمال کو حکومتی پارٹی کے ایم این اے کی سفارش پر صوبہ بدر کردیاگیا۔یہ کہانی تقریبا دو ماہ قبل شروع ہوئی جب بہاولنگر کی تحصیل ہارون آبادمیں ایم این اے عالم داد لالیکا کے مزارعے عمران سندھو کا پولیس سے جھگڑا ہوا،عمران اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی پر گاوں کی طرف جارہا تھا کہ گاوں کے قریب پولیس ناکے پر گاڑی کو روک لیا گیا،عمران کو دیکھ کر ناکہ انچارج نے ان کو جانے کی اجازت دے دی،جاتے ہوئے عمران نے اہلکاروں سے کہا کہ روٹی شوٹی کھانی ہے تو ڈیرے پر آجاو،واضح رہے کہ عمران معمولی مزارعہ نہ ہے اس کی اپنی اراضی اور اس کے ساتھ اس نے ستر سے زائد ایکٹر اراضی عالم داد لالیکا سے ٹھیکے پر لے رکھی ہے،روٹی شوٹی والی بات ایک کانسٹیبل کو ناگوار گزری اور اس نے گاڑی دوبارہ روک لی،تلخ کلامی ہوئی اور اہلکاروں نے عمران کی دھلائی کردی،جس کے بعد عمران نے اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بلالیا اور پولیس اہلکار کی دھلائی کی جس سے اس کی یونیفارم بھی پھٹ گئی۔لڑائی جھگڑا ختم ہوا مگر واقعہ کا مقدم درج نہ ہوا،کانسٹیبل دلبرداشتہ ہوکر ڈی پی او صاحب کے سامنے پیش ہوگیا کہ پولیس اہلکار کو مارا گیا ہے مگر پولیس نے مقدمہ تک درج نہیں کیا،ڈی پی او نے متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کوبلا کر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔مقد مہ تو درج ہوگیا مگر عمران کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی،پولیس نے عمران سے فون پر مذاکرات کئیے کہ وہ گرفتاری دے دے اگلے روز ضمانت ہوجائے گی،ہم پر ڈی پی او کا پریشر ہے۔طے پایا کہ عمران عالم داد لالیکا کے ڈیرے پر موجود ہوگا پولیس وہاں سے اسے گرفتار کرلے۔وقت مقررہ پولیس کی بھاری نفری ڈیرے پر پہنچی تو عمران ڈیرے سے فرار ہوگیا،پولیس نے ڈیرے پر کمروں کے تالے توڑے،تلاشی لی مگر عمران کا سراغ نہ ملا،فون پر دوبارہ مذاکرات ہوئے اور عمران نے ایک پٹرول پمپ سے گرفتاری دے دی۔عالم داد الالیکا کو جب اپنے ڈیرے پر چھاپے کا پتہ چلا تو اسے نے حمزہ شہباز کو فون کرکے شکایت کی کہ میری بے عزتی کی گئی بغیر وارنٹ میرے ڈیرے پر چھاپہ مارا گیا ہے ڈی پی او کے خلاف کارروائی کی جائے۔حمزہ شہباز کے حکم پر چار رکنی ٹیم بہاولنگر پہنچی،جب واقعہ کی ایف آئی آر دیکھی گئی تو اس میں وقوعہ پر فائرنگ کی دفعات بھی لگائی گئی تھی جبکہ فائرنگ نہ ہوئی تھی،ٹیم نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او معطل کرکے ضمنی میں فائرنگ کی دفعات خارج کرنے کا حکم دیا،اگلے روز عدالت نے عمران کی ضمانت دے دی۔مگر عالم داد لالیکا کا غصہ کم نہ ہوا،عالم داد کا خیال تھا کہ جان بوجھ کر اسے کے ڈیرے پر چھاپہ مارا گیا ہے لہذا ڈی پی او اس سے معافی مانگے ،معافی سے انکار پر بات وزیراعظم تک پہنچی اور ڈی پی او کو صوبہ بدر کردیاگیا۔سیاسی پریشر پر افسران کی معطلی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔چند روز قبل ہی عدالت میں تلاشی لینے پر سابق چئیرمین سینٹ نئیر بخاری نے اہلکار کو دھکا دیا ان کے بیٹے نے اہلکار کو تھپٹر ماردیا،مقدمہ درج ہوا،باپ بیٹا ضمانت پر رہا ہوگئے۔

جب قانون نافذکرنے والے اداروں کا یہ حال ہوگا کہ کوئی بھی ان کو تھپڑ ماردے،ایم این اے ان کو صوبہ بدر کروادیے تو قانون کی رٹ کون قائم کرے گا؟یہ تھپڑ یہ صوبہ بدری محکمہ پولیس کے منہ پر طمانچہ ہے۔جب لوگوں کا پتہ ہوگا کہ ان کا مسئلہ تھانے جانے سے نہیں بلکہ ایم این اے یا ایم پی اے کے ڈیرے پر جانے سے حل ہوگا تو لوگ تھانے کیوں جائیںگے؟جب قانون توڑنے والے کوپتہ ہے کہ اس کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا تو وہ قانون کا احترام کیوں کرے گا؟اس لئے ضروری ہے کہ مجرموں اور قانون توڑنے والوں کے لئے سزاجزاءکا ڈر بنا رہے یہ ڈر ختم ہوگیا ہے اس لئے قانون کا احترام ختم ہوگیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *