پہچان کی جانب سفر

faisal rasheed

کسی چیز کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے اُسے پہچان کا لباس پہنانا پڑتا ہے۔مصور اپنی تخلیق پر دادوصولی کے لئے پہچان میں رنگ بھرتا چلا جاتا ہے۔ایک لمحے کے لئے یہ بات ماننے لائق ہے کہ پہچان خوبصورت اور ہر کسی کی آنکھوں کو بھانے والی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیران کن بات ہے کرہ ارض کا انسان اشرف المخلوقات کے لقب اورپہچان کا حامل ہونے کے باوجود نت نئی پہچان بنانے میں محو ہے۔ یہ انا کے بیج پر پہچان کے تنے کو مضبوط بنانے کے لئے گھر کی چاردیواری کے باہر ذات پات کی تختی سے پانی دیتا ہے،روح کے سکون کی خاطر جسد خاکی پر مذہب کی شمع روشن کرتا ہے،ریاستی حدوں کے اندر قومیت کے نام پر مذہبی وابستگی کی ہوادیتا ہے۔ذات پرستی پر مبنی دیکھ بھال کے نتیجے میں نشونما پانے والے درخت سے حسد،لالچ،عدم رواداری جیسے پھلوں سے نفرت،افراتفری،تنازعات اور ناانصافی کے ذائقے فراہم ہوتے ہیں۔
ذاتی بڑھوتری اور سچائی کی جنگ جیتنے کے لئے انسان تخلیق کار کے فارمولا ’’ لَقدخَلَقَنا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَانِ تَقْوِیْم o ترجمہ: بیشک ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت میں پیدا فرمایا ہے ‘‘۔ (سورۃ التین آیت نمبر 4 ) کو جٹلاتے ہوئے گورے کالے رنگ،بڑی چھوٹی ذات پات،عربی عجمی زبان کی تقسیم کر کے ، اعلیٰ ادنیٰ مرتبے بانٹ کر قدرت کی خوب حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اس جنگ کو نام اور پھر نام کے پیچھے پہچان بانٹنے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ مومن کوکافر،عابدکومشرک،مخلص کومنافق اور عاشق کو گستاخ جیسے القابات کے میڈل پہنا دیتا ہے۔روحانی سکون کے حصول کی خاطر حقوقِ خداوند کی ادائیگی میں اس قدر مگن ہوتا ہے کہ حقوق العباد کو پیروں تلے روندنے کے نئے ریکارڈ قائم کر دیتا ہے۔پیاسے کو پانی پلانے کی غرض سے ’’سبیل ‘‘ کے نام پر واٹر کولر رکھ دیا مگر پیاس کی آگ بجانے آنے والے نے گلاس غائب کر کے حیرت طاری کر دی اور گلاس کو زنجیر سے باندھنے کی رسم ڈال دی۔دوسری طرف فرض رکن کی ادائیگی کی غرض سے آنے والے کی توجہ قیام،رکوع اور سجود میں ننگے پاؤں گھر واپس لوٹنے کے ڈر کی طرف راغب کرکے معراج کے درجے تک پہنچنے سے روک دیا اور جوتی بند کر کے جائے نماز کے سراہنے رکھنے پر مجبور کر دیا۔نقل و حمل کے دوران سرخ بتی پر رُکے تو حیثیت آڑے آگی اور بڑے چھوٹے کا احساس زندہ کر دیا۔
ان چند ایک محرکات کے قیام کے پیچھے تعلیم وتربیت اور وسائل کی یکساں تقسیم نہ ہونے کا کردار ایک خاص حد تک کار فرما ہے۔کیونکہ وسائل کی تقسیم کرتے وقت جب رنگ،نسل،زبان،مذہب،فرقہ اور علاقہ کو مدِنظر رکھا جاتا ہو تو ناانصافی کا احساس سوچوں میں انگڑائی لیتا ہے اور ’’ناانصافی کی کوکھ سے ہمیشہ دہشت گردی ہی جنم لیتی ہے ۔‘‘دوسری طرف تربیت کرتے وقت جب ’’انسانوں کے درمیان تمیز کی جگہ تقسیم لے لے تو ادب کی جگہ حیثیت آ جاتی ہے۔حیثیت کی کوکھ سے حقارت جنم لیتی ہے جبکہ ادب کا دامن پیار،محبت اور شفقت سے بھرا ہوتا ہے۔‘‘
یہاں پر حیرت اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسان نے اپنی تقسیم کو قبولیت کا درجہ اتنی فراخ دلی سے دیا کہ حیثیت کی منزل پرپہنچنے کے لئے خونی رشتوں کے خون کو پانی کی طرح بہا دیا۔ حیثیت کی منزل کے حصول کے لئے حقارت کی سیڑھی کو راہ بنایا اور ہر قدم پر اپنے ہی پیروں تلے انسانوں کو ’’اقلیت،کافر،مشرک،منافق جیسے بدترین نام دے کر ننھے بے بس حشرات کی مانند روند دیا۔‘‘حیرت یہ سوچنے میں ہوتی ہے کہ جس انسان کے متعلق اشرف المخلوقات کا لقب مختص کیا گیا ہو وہ انسان آج اس قدر ظالم ،خود غرض اور اناپرست جیسے القابات قبول کیسے کر سکتا ہے ؟ ؟کیا یہ لقب صرف کتابی ہے یا حقیقت میں عطائی ہے؟
ان تمام سوالوں کے جوابات اور انسان کی حیثیت کی ترقی پانے کی لگن کو دیکھ کر قلم الفاظ اور الفاظ کے تال میل سے جملے بنانے سے قاصر ہے۔متذکرہ بالا حالات کے پیش نظر ہمیشہ ایک بات میری سوچوں کی بند کھڑکی سے باہر آنے کے لئے دستک دیتی رہتی ہے۔۔۔
اپنی اپنی جنت کے کچھ خواب لیئے
اپنی اپنی دوزخ میں سب جیتے ہیں

پہچان کی جانب سفر” پر ایک تبصرہ

  • مئی 16, 2016 at 5:43 PM
    Permalink

    بہترین تحریر جناب.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *