کُھل کر روئیں!

بہت عرصہ پہلے امریکہ کے ایک ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر وسیم فیری نے اپنی طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ آنسوئوں کا انسان کی صحت کے ساتھ گہرا تعلق ہے، ان کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوگئی کہ جذباتی دبائو کے وقت انسانی جسم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور جسم کے اندر مختلف غدود سے مواد نکل کر خون میں شامل ہوجاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ رونے کے بعد انسان خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے ،ڈاکٹر فیری کا خیال ہے کہ جذباتی دبائو کے نتیجے میں جسم میں جو کیمیاوی عمل ہوتا ہے ،وہ آنسوئوں کے ذریعے زائل ہوجاتا ہے چنانچہ جو لوگ روتے نہیں ہیں وہ مختلف قسم کے امراض اور بالخصوص السر کا شکار ہوجاتے ہیں،ڈاکٹر فیری نے تحقیق کی ہے کہ عورتوں کی نسبت مرد زیادہ السر کے مریض ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر فیری نے سوافراد کو پیسے دے کر ان کے آنسو حاصل کئے اور ان پر مختلف تجربے کئے ہیں۔

یہ تجزیہ پڑھ کر دوسرے قارئین کا ردعمل تو خدا جانے کیا ہو گا مگرمیری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ میں بات بات پر رونے والوں کے بارے میں کچھ اچھے خیالات نہیں رکھتا تھا اور تو اور بعض مرحومین بھی میرے اس اندرونی غصے کی زد میں آجاتے تھےحتیٰ کہ اپنے محبوب شاعر میر تقی میرسے تومیں خصوصی طور پر ’’نالاں‘‘ تھا جن کی ساری عمر

جو اس شور سے میر روتا رہے گا

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

قسم کے شعر کہنے اور ہمسایوں کو ڈسٹرب کرنے میں بسر ہوگئی ،مگر یہ بھید تو اب کھلا کہ مرحوم یہ سارا گریہ دراصل جان بنانے کے لئے کرتے تھے چنانچہ اردو کے بڑے شاعروں میں میر تقی میر غالباً سب سے طویل العمر شاعر ہیں، اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ آج اہل مغرب جن سائنسی تحقیقات کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں ہمارے بزرگ بغیر کسی تحقیق کے صدیوں پہلے فطرت کے یہ بھید پاگئے تھے، فرق بس اتنا ہے کہ انہوں نے وقت پر اور کھل کر اہل دنیا کو اس سے آگاہ نہیں کیا، مثلاً یہ اہل مغرب آج جس ہوائی جہاز پر نازاں ہیں، میر حسن نے مثنوی ’’سحرالبیان‘‘ میں اڑن کھٹولے کا آئیڈیا پیش کرکے اس ایجاد کے لئے راہ ہموار کی تھی اور یہ جو ماہر نفسیات ڈاکٹر وسیم فیری نے یہ انکشاف کرکے بزعم خود بڑا تیر مارا ہے کہ رونے سے انسان کی صحت اچھی ہوتی ہے، تو میر تقی میر نے دو صدی پہلے عملی طور پر یہ نظریہ درست ثابت کردکھایا تھا۔

ڈاکٹر فیری صاحب نے ’’موازنہ خواتین و حضرات‘‘ کرکے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ عورتوں کی نسبت مرد زیادہ السر کے مریض ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ روتی ہیں حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا سادہ بنا کر اسے پیش کیا گیا ہے، دوسرے مردوں کے بارے میں تو میںزیادہ نہیں جانتا البتہ میرا اٹھنا بیٹھنا چونکہ شادی شدہ مردوں میں زیادہ ہے اسی لئے میں یہ بات’’بربنائے مشاہدہ (بربنائے تجربہ یہاںاحتیاط نہیں لکھا گیا)کہہ سکتا ہوں کہ ان بیچاروں کی عمر بھی روتے روتے گزرجاتی ہے بس فرق اتنا ہے کہ یہ بیویوں سے چھپ چھپ کر روتے ہیں کہ برملا رونے کی انہیں اجازت نہیں ہوتی،لہٰذا ڈاکٹر فیری کو چاہئے کہ وہ اپنی متذکرہ تحقیق پر نظر ثانی کریں بلکہ مساوی حقوق کی بنیاد پر عورتوں اور مردوں میں السر کی شرح برابر لانے کی کوشش بھی کریں۔

ڈاکٹر فیری سے ایک گلہ مجھے یہ بھی ہے کہ انہوں نے متذکرہ تحقیق کی آڑ میں رونے کے’’فضائل‘‘ تو کھل کر بیان کر دئیے ہیں جس سے ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو شہ ملے گی جو ایک عرصے سے اپنے آنسو روک کر بیٹھے ہیں مگر افسوس کہ ہنسی کی افادیت کو انہوں نے موضوع تحقیق نہیں بنایا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اہل مشرق ہنسی’’’افورڈ‘‘ نہیں کرسکتے کہ اس کے لئے ہمیں مطلوبہ ماحول میسر نہیں ہے جبکہ ہمارے ہاں رونے دھونے کے مواقع بکثرت پیدا ہوتے رہتے ہیں تاہم اپنی تحقیق میں اگر وہ ہنسی کے فوائد بھی بیان کردیتے اور اہل مشرق کو یہ مشورہ دیتے کہ اگر صحت مقصود ہے تو ہنستے رہنا چاہئے تو وہ بیچارے اسی بات پر ہنس پڑتے،اس میں ان کا کیا جاتا تھا ؟ ہم غریبوں کا مفت میں بھلا ہوجاتا۔

اس تحقیق میں مجھے جو بات سب سے زیادہ چونکا دینے والی لگی۔ وہ یہ تھی کہ ڈاکٹر فیری نے ایک سو ا فراد کو پیسے دے کر ان کے ا ٓنسو حاصل کئے اور ان پر مختلف تجربے کئے جن کی مدد سے وہ متذکرہ نتائج تک پہنچے ۔یہ بات حیرت انگیز لگی کہ باقاعدہ پلاننگ کرکے بھی رویا جاسکتا ہے، یعنی اگر کسی کا رونے کو نہ بھی جی چاہ رہا ہو اسے نوٹ دکھا کر رلایا جاسکتا ہے،ہم لوگ تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ دولت انسان کو ہنساتی ہے مگر اب پتہ چلا کہ دولت انسان کو رلاتی بھی بہت ہےاگرچہ ہم نے دولت مندوں کو ہمیشہ ر وتے دیکھا کہ کاروبار بہت مندا جا رہا ہے مگر یہ تو محاورے والا رونا تھا، یہ بھید تو اب کھلا کہ پیسہ انسان کو باقاعدہ آنسوئوں سے رلاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *