فیچرزہفتہ بھر کی مقبول ترین

’جب خواتین ایک دوسرے کی حمایت کرتی ہیں تو معجزات ہوتے ہیں’

Share

اگر آپ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں تو شاید پچھلے کچھ دن سے آپ کی انسٹاگرام فیڈ میں بھی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کی بھرمار ہو۔ اس کی وجہ #ChallengeAccepted ہے جو بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اس ٹرینڈ میں خواتین ایک دوسرے کو ٹیگ کرتی ہیں اور اُن سے دوسری خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنی بلیک اینڈ وائٹ تصویر پوسٹ کرنے کی دعوت دیتی ہیں اور یوں اس ٹرینڈ میں نہ صرف خواتین اپنی تصاویر پوسٹ کر رہی ہیں بلکہ دوسری خواتین کی توجہ بھی اس ٹرینڈ کی جانب توجہ دلا رہی ہیں اور اس وجہ سے یہ ٹرینڈ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یہ ٹرینڈ کہاں سے شروع ہوا اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ترکی میں خواتین کے ساتھ استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد شروع کیا جانے والا ٹرینڈ تھا جس میں خواتین ایک دوسرے کو ٹیگ کرتیں اور اس بارے میں آگہی پھیلانے کے لیے اپنی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر پوسٹ کرتیں۔ کہیں یہ ذکر ہے کہ اس کا سب سے پہلے استعمال برازیل سے شروع ہوا اور وہیں سے یہ امریکہ پہنچا۔

ایک متحرک ترک انسٹاگرام صارف نے اپنی تصویر پوسٹ کی اور ساتھ لکھا کہ ’بلیک اینڈ وائٹ چیلنج ترکی میں عورتوں کے قتل اور ترکی کی حکومت کی طرف سے کارروائی کے فقدان کے رد عمل کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔’

انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں مزید یہ بھی لکھا کہ ’بااختیار بنانا ایک چیلنج سے بھی زیادہ ہے جیسا ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یقین ہے۔ ترک عوام میڈیا میں قتل ہونے والی خواتین کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دیکھ کر جاگ رہے ہیں کیونکہ انہیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔’

اس پیش ٹیگ کی شروعات کے بارے میں مختلف آراء ضرور ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ٹرینڈ میں عام و خاص سب شامل ہو رہے ہیں۔

ChallengeAccepted#

امریکہ میں سلیبریٹیز نے بھی اپنی تصاویر اس ٹرینڈ میں پوسٹ کیں۔

معروف ماڈل، اداکارہ اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی جمیلہ جمیل نے بھی اس ٹرینڈ میں اپنی تصویر پوسٹ کی۔ جمیلہ جمیل برطانیہ میں پلی بڑھیں لیکن آج کل امریکہ میں مقیم ہیں اور اُن کے والدین کا تعلق انڈیا اور پاکستان سے ہے۔

اداکارہ زوئی سلڈانا نے اپنی بلیک اینڈ وائٹ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ چیلنج قبول کرتی ہوں اور مجھے بہنوں کی اخوت پسند آئی۔’

ایوا لونگوریا نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چیلنج قبول ہے۔ خواتین دوسری خواتین کی حمایت کر رہی ہیں۔ اتنی ساری خواتین کو ٹیگ کرنا ہے اور بہت سوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔’

امریکہ کی طرح بالی ووڈ کی سلیبریٹیز بھی اس ٹرینڈ میں متحرک نظر آئیں۔

انوشکا شرما نے ’چیلنج ایکسیپٹڈ‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی اور پیغام میں لکھا کہ ’زندگی میں اپنے لیے راستہ بنانے کے لیے ہمیں بہت زیادہ کوشش، طاقت، استقامت، دانشمندی، علم، صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا ہمیشہ ہمارے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ اس کو ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ یکجہتی کے ساتھ اکٹھے کھڑے ہونا اور اس جال میں نہ پھنسنا جو ہمارے لیے مستقل طور پر بچھائے جاتے ہیں ہماری فتح ہے’۔

اپنے پیغام کے ساتھ انہوں نے دوسری سٹارز اور معروف خواتین کو اس ٹرینڈ میں شامل ہونے کے لیے ٹیگ کیا۔

کترینہ کیف نے بھی بالی وڈ کی دوسری سٹارز کو ٹیگ کیا اور اپنی تصویر اس ٹرینڈ میں پوسٹ کی۔

بالی ووڈ کی اداکارہ کالکی کیکلا نے بھی انسٹاگرام پر اپنی بلیک اینڈ وائٹ تصویر پوسٹ کی۔

یہ ٹرینڈ انسٹاگرام سے ٹوئٹر پر بھی آیا اور بہت سے لوگوں نے اس ٹرینڈ میں اپنے خیالات اور کچھ نے تصاویر پوسٹ کیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’جب ہم خواتین ایک دوسرے کی حمایت کرتی ہیں تو معجزات ہوتے ہیں۔’

ٹوئٹر صارف

ایک اور صارف نے ٹویٹ کی کہ ’خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ کریں۔’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے بھی اس ٹرینڈ میں اپنی تصویر پوسٹ کی۔ انہیں اس پوسٹ پر تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا اور کچھ نے اُن کی پوسٹ کا مذاق اُڑایا۔

علی سیگل

مگر ہر کوئی اس ٹرینڈ سے متفق نہیں۔

علی سیگل لکھتی ہیں کہ ’میں بس یہ کہہ رہی ہوں کہ ایک عورت ہوتے ہوئے کیا ہم خواتین کے بااختیار بننے اور اُن کے ساتھ یکجہتی کو ایک سیلفی کے مترادف سمجھتے ہیں، بس اتنا ہی۔’

ٹیلر لورینز

صحافی ٹیلر لورینز لکھتی ہیں کہ ’لوگوں کو اس طرح کے چیلنج پسند آتے ہیں کیونکہ اس میں حقیقی طور پر کسی کی جا کر وکالت یا تائید نہیں کرنی پڑتی۔ آپ مقصد کے نام پر اپنی تشہیر کر سکتے ہیں مگر چیلنج ایکسیپٹڈ کا جو مقصد ہے وہ اتنا مبہم ہے کہ بنیادی طور پر آپ کسی چیز کی بھی حمایت نہیں کر رہے۔‘