اپوزیشن نے تحریک مسترد کر دی

Px15-051
ISLAMABAD: May15 – National flag is seen hoisted at half mast on the building of Parliament House during mourning on the deaths of more than 230 persons in a coalmine incident in Turkey.
ONLINE PHOTO by Muhammad Asim

اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے پارلیمانی کمیٹی کی قومی اسمبلی کی منظور کردہ تحریک مسترد کر دی ہے ۔ اپوزیشن رہنماءشاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کس سے پوچھ کر کیا گیا؟ تحریک کو ریکارڈ کا حصہ نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ متفقہ نہیں ہے اور پہلے 8,8 ممبران کی تحریک واپس لی جائے اور پھر معاملہ آگے بڑھایا جائے ۔سپیکر سردار ایاز صادق کے زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایم کیو ایم اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیئے میں شامل تھی اور جوائنٹ اپوزیشن کے ٹی او آرز میں بھی شامل تھی اور اس پر ایم کیو ایم کے اراکین کے دستخط بھی موجود ہیں۔ لیکن خورشید شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا اس میں شریک نہیں ہوئی اور پھر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اگر تحفظات تھے تو اپوزیشن سے رابطہ کرتی، اسحاق ڈار سے کیوں رابطہ کیا جبکہ حکومت نے بھی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کس سے پوچھ کر کیا؟ شاہ محمود قریشی نے اراکین کی تعداد سے متعلق قرارداد کو ریکارڈ سے ہٹانے اور تمام فریقین کے دستخط کے ساتھ نئی تحریک لانے کا مطالبہ کیا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *