فوری ’انصاف‘

طارق کھوسہtariq khosa

یوں لگتا ہے کہ نظام کی ناکامی، جس کے ذمہ داربنیادی طور پر حکمران خود ہیں، کے سبب اپنی مایوسی اور بے بسی کو کم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر پولیس کی ڈانٹ ڈپٹ ، رائے عامہ کو بھٹکانے کا ایک طریقہ بن گئی ہے۔ حال ہی میں زیادتی کے ایک کیس کو غلط ہینڈل کرنے پر پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے میڈیا کو بتایا، ’’ہمارا پولیس کا نظام درست طور پر اپنا کام نہیں کر رہا۔‘‘
تین مشکوک افراد کی گرفتاری سے غیر مطمئن، وزیر اعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اور ساہیوال کے علاقائی پولیس افسر کودھمکی دی کہ اگر چوتھا مشکوک آدمی۔۔۔۔ جو بعد میں گرفتار ہو گیا تھا۔۔۔۔ 48گھنٹوں میں گرفتار نہ ہوا توانہیں معطل کر دیا جائے گا۔میں پنجاب کے انتہائی شریف پولیس سربراہوں میں سے ایک کے ساتھ صرف ہمدردی ہی کر سکتا ہوں کہ انہیں ان کے عہدے سے معزولی کی دھمکی ملی۔۔۔
ایسے معاملات میں پولیس اپنے باس کو ملازمت سے ملازمت سے معطلی کی بے عزتی سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا ئے گی اور ایسا معاملات میں کسی مشکوک مفرورکے رشتہ داروں کو قید کرکے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مفرور ہتھیار ڈال دے۔
انسانی حقوق کی پامالی کے کچھ آزمودہ طریقے ہیں جن کو اختیار کرنے پر پولیس کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے خوب تعریف کی جاتی ہے۔ ان طریقوں کے اختیار کئے جانے کی وجہ سیاستدانوں کا غصہ ہوتا ہے جو گرفتاریوں کے روایتی انداز کو اس کی نیند سے جھنجھوڑنا چاہتے ہیں۔انسانی حقوق کی یہ پامالیاں اگرچہ غیرقانونی ہوتی ہیں مگر ہوتی چھوٹی موٹی ہیں۔ جیسے کسی مفرور کے باپ، بھائیوں یا قریبی مرد رشتہ داروں کو قید کر لینا اورجسمانی اذیت دینا۔
بعض اوقات ایسے اقدامات میں مفرور کے خاندان کی کسی خاتون کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ یوں پولیس کی جانب سے مفرور کی عزت پر ہاتھ ڈالنے جیسی حرکت کواسے خود کو حوالہ پولیس کرنے پر مجبور کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔بعض اوقات غضبناک ہوکر اذیت دینے اور گرفتار کرنے کے نئے سے نئے طریقے ایجاد کئے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہماری پولیس اخلاق باختگی کی نچلی ترین سطوح تک بھی گر سکتی ہے اور تیز رفتار ’انصاف‘کی تلاش میں ان کے وحشیانہ طریقوں کو بھی ان کا غلط تصورات کا حامل بے حس طرز فکردرست قرار دیتاہے۔
زیادتی کے واقعے پر پولیس کی جانب سے لاپرواہی اور نااہلی کے مظاہرے کے خلاف بات کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کے فوری ردعمل کا متقضی ایک اور کیس ہماری حکمرانی کی روایت کے پس منظر میں خاصا قابل غور ہے۔ایک سکول ٹیچر جس پرایک گیارہ سالہ بچی کے اغواء، اس کے ساتھ زناء اوراس کے قتل کا الزام تھا، کو حال ہی میں ضلع خانیوال کی پولیس نے مار ڈالا ہے۔اس استادنے سکول کے پرنسپل سمیت مبینہ طور پر پانچویں جماعت کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے دفنا دیا تھا۔
جب والدین نے رپورٹ درج کرائی کہ ان کی بچی لاپتہ ہے تو پولیس پرنسپل سے تفتیش کے بعد ،اس استادتک پہنچی ، جس نے ایک گزشتہ منتخب نمائندے کی کوششوں سے گرفتاری دے دی اورجرم تسلیم کر لیا۔ یہ بلاشبہ ایک بھیانک جرم تھا۔
ملزم رحم کا مستحق نہ تھالیکن اس کو یہ حق حاصل تھا کہ اس پر مقدمہ چلایا جاتا اور ایک باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق سزا دی جاتی ۔ آئینی طریقہ کار کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔البتہ، پولیس نے دعویٰ کیا کہ جب اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے لاہور لایا جا رہا تھا تو زیر حراست ملزم نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور ان کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی اور اسی لڑائی کے دوران مارا گیا۔یوں بچے کے قتل کا بدلہ وردی والوں نے لے لیا۔
قتل کے سبب اپنی بچی سے محروم ہو جانے والے خاندان کا دکھ کسی نہ کسی حد تک کم ہو گیا۔ پولیس افسران نے فوری ’انصاف‘ کے اس مقدمے سے اعلیٰ حکام کو مطلع کر دیا۔ جس پر حکام کی جانب سے ان کو شاباش دی گئی اور ان کی پیٹھ تھپتھپائی گئی اور یہ کارنامہ سر انجام دینے والے سینہ ٹھونک کر چلنے لگے۔ ایک ہتھ کڑی لگا ملزم پولیس والوں پر حملہ کرنے اور ان کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کرنے کی جرات آخر کس طرح کر سکتا ہے؟اسے عدالت کا سامنا کرنے کی بجائے، لازماً راستے ہی میں ختم کر دیا گیا تھا۔شاباش پنجاب پولیس!
کیا ہمارا پولیس کا نظام درست طور پر کام نہیں کر رہا؟ کیا یہ لاء اینڈ آرڈر کے قیام کا مثالی طریقہ ہے؟ آہ، برطانوی حکومت کے دور میں پولیس کے کام کرنے کے طریقے کی یادیں! برطانوی دور کی پنجاب پولیس تحقیر آمیز اور وحشیانہ تھی لیکن تیز رفتار اور مؤثر تھی۔ کیا یہی وہ پولیس فورس ہے جوہمیں مطلوب تھی۔ ہم مغل دور کی پولیس کو کیوں یاد نہیں کرتے؟ اس دور کا کوتوال بھی مؤثر تھا۔ کوتوال بادشاہ کے دربار کا ایک اہم رکن ہوتاتھا۔
پاکستان میں اکیسویں صدی کے پولیس اہلکاروں کو بھی درباری پولیس کی طرح کام کرنا چاہئے اور حکمران کے احکامات کی تعمیل کرنی چاہئے۔ انہیں یہ بھول جانا چاہئے کہ مقدمات کی تفتیش خواہ وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، قانون کی حکمرانی صبر، پیشہ ورانہ طرز عمل، مہارت، اہلیت، خودمختاری اور انتھک محنت کا مطالبہ کرتی ہے۔
کیا ہمیں ایک ایسی آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے کہ جو آئینی طریقہ کار اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے؟ ریاستی وکلاء اور انتظامی مجسٹریٹوں کا نظام قدرے بہتر نظام تھاجو جعلی اور خود ساختہ پولیس مقابلوں پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوتا۔ اس نظام کے ذریعے ملزمان کی بازومروڑی جاتی اورمخالفین کو خاموش کرایا جاتا۔پھر اس وقت آزاد میڈیا اور انسانی حقوق کے کمشنوں جیسی تکلیف دہ چیزیں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں۔
میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اظہار افسوس سے اتفاق کرتا ہوں کہ ’’آج کی پولیس کے پاس تمام جدید آلات اور تیزرفتار سواریاں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مجرموں کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔‘‘ وہ یہ نشاندہی کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ پولیس کو ان مقامات کا علم ہونا چاہئے جہاں جرم پرورش پاتا ہے
لیکن ایک ایس ایچ او کو معطل کرتے ہوئے، کیا انہوں نے اس سے اس کی مدت ملازمت کے متعلق کچھ پوچھا۔آخر وہ کون سا سوپر مین یا فوق البشر ہو گا کہ جو جرم کی پرورش کے علاقوں کی نشاندہی کرے گا اگر اس کی ایک تھانے میں تعیناتی کی اوسط مدت ہی تین ماہ ہو گی؟ ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کو ہوا کے جھونکے کی طرح پل بھر میں ادھر سے ادھر کر دیا جاتا ہے۔کتنے ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز سیاسی حمایت حاصل کرنے اور اعلیٰ حکام کو بائی پاس کرنے کے الزامات میں معطل کئے جا چکے ہیں؟ اگر قانون کے احترام کو غیر سوچے سمجھے انصاف پر ترجیح دینی ہے تو پھر ان سوالات کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *