رضا رومی اور حامدمیر کی کہانی

zakariaرفیعہ زکریا

پہلا حملہ 28اپریل کو لاہور میں ہوا۔ یہ جمعہ کی شام تھی۔ جب رضا رومی، ایک معروف صحافی اور عوامی شخصیت، کی گاڑی گولیوں کی بوچھاڑ کا نشانہ بنی۔ حملے میں معمول کے اجزاء حیرانی، مسلح حملہ آور، گولیاں اور موت بھی شامل تھے۔
رومی خوش قسمت تھے کہ وہ زخمی ہوئے بغیر بچ گئے۔ ان کا ڈرائیورپہلے زخمی ہوا اوربلآخر مر گیا۔ آج کے پاکستان میں ڈرائیونگ بھی ایک جان لیوا پیشہ بن گیا ہے۔حملے کے بعد کے لمحات تکلیف دہ تھے جیسا کہ ششدر رضارومی نے اجنبیوں سے مدد مانگی۔ بلاشبہ، حملہ آور لاہور کی غیر یقینی سے بھرپور فضاء میں غائب ہو چکے تھے، جیسا کہ انگنت حملہ آور پہلے بھی غائب ہوتے رہتے ہیں۔ رضا رومی نے ٹویٹر پر کہا: ’’مجھے راجہ مارکیٹ کے قریب نشانہ بنایا گیاہے۔ میرا ڈرائیور زخمی ہے۔ مجھے آج بہت زیادہ خوف محسوس ہو رہا تھا۔‘‘
دوسرا حملہ 19اپریل کو کراچی میں ہوا۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں دن ہو یا رات ، موت کے کاروبار کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ سہ پہر کا وقت تھا اور جیو ٹی وی کے پروگرام، کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر، ابھی شہر میں پہنچے ہی تھے اور ٹی وی سٹوڈیوجا رہے تھے۔ سعودی بادشاہ، جنہوں نے غریب مسلمانوں کی اس قوم کو بہت کچھ دیا ہے، کے نام سے موسوم، شاہراہ فیصل کو اس وقت پر ہجوم ہی ہونا چاہئے تھا۔
ایک بار پھرایک خفیہ گھیرا تھااور فائرنگ کی بوچھاڑ تھی۔ رضا رومی کے برعکس، حامد میر خوش قسمت نہ تھے۔ حملے نے ان کے جسم کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ ان کی زندگی ایک کچے دھاگے سے بندھی تھی۔ وہ آغا خان ہسپتال کی طرف دوڑے۔ جہاں ان کی قسمت نے بہت ساتھ دیا۔ ہنگامی جراہی نے کچھ گولیاں نکال دیں اور آج حامد میر زندہ ہیں۔
اس طرح دو صحافی،جن میں سے ایک پاکستان کے ننھے اور ناراض بائیں بازو سے متعلق ہے اور دوسرا پاکستان کے مقبول عام دائیں بازو سے متعلق ہے، دونوں کوعوام کے لئے مثالیں بنا دیا گیا ہے۔ انہیں دیکھ کر لوگوں کے لئے یہ سمجھنا آسان ہو گیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کے انگنت دشمن ہیں اور وہ اس ملک کی عوامی شخصیات کو جب چاہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان دونوں حملوں کے بعد کے ادوار سے بھی ہم اسی طرح واقف ہیں جس طرح خود ان حملوں کی تفصیلات سے واقف ہیں۔
رومی پر حملے کے بعد کے دنوں میں، غصے کے کئی کلمات بجا طور پر بار بار دہرائے گئے، الزامات لگائے گئے اور انتہا پسندی کے گہرے سائے جنہوں نے ملک کو گھیر رکھا ہے، کی خوب مذمت بھی کی گئی۔حامد میر جن کی مخصوص سیاسی حیثیت ہے اورجو جیو ٹیلی ویژن پراہم مقام رکھتے ہیں، ان پر حملے کے بعد کا دور مختلف ہے۔
اچانک اور معمول کے حملے کے بعد پسپائی کے عمومی طریقے اختیار کرنے کی بجائے پہلے حامد میر کے خاندان نے اور پھر انہوں نے خود ، آئی ایس آئی پر الزام لگایا یا اگر انہی کے الفاظ میں کہا جائے تو، ’’آئی ایس آئی کے اندر آئی ایس آئی‘‘ کے متعلق کہا گیا کہ وہ حملے میں ملوث تھی۔
چند ہی دنوں میں پیمرا کے پاس ٹیلی ویژن کے خلاف شکایت درج کرا دی گئی۔جیوٹی وی مخصوص علاقوں میں ہوا کے دوش سے غائب بھی ہو گیا۔ یوں بحث صحافیوں پر حملوں سے ہٹ کر ملک میں ہمیشہ سے تناؤ کا شکار چلے آرہے، سول ملٹری تعلقات کی طرف مڑ گئی۔
یہ آخری حقیقت ان دونوں حملوں سے وابستہ ایک اور سانحہ ہے۔ اب عالمی میڈیا میں ، دو افراد۔۔۔ جن پر حملے ہوئے اور جو اپنے اپنے تحفظات رکھتے ہیں۔۔۔ غیر واضح عوام کی ہمدردی اور بڑے پیمانے پر جانثارانہ حمایت کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی اختلاف جو عوام کو جدا کر دیتا ہے ، کبھی بھی کوئی بہت زیادہ بھیانک معاملہ نہیں رہا ہے۔ اس معاملے میں تقسیم شدہ سیاسی گفتگو کا گند بھی موجود ہے جہاں تمام الزامات مشکوک ہیں اورجہاں قوم پرستی اور حب الوطنی کے نظریات ذاتی خواہشات اور خود ساختہ نظریات کی مدد سے تشکیل دئیے جاتے ہیں۔
دو بالکل مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے آدمیوں پر کئے جانے والے حملے، دونوں سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد اور دفاع کے لئے آگے بڑھتے اور صحافت کی بقاء کے لئے آزادی کی چھتری تلے جمع ہوتے۔ جب کہ لوگوں کو چاہئے تھا کہ وہ اصولوں کے اس ٹوٹے پھوٹے پلیٹ فارم پر جمع ہو جاتے۔
ایسا نہیں ہے کہ حامد میر اور رضا رومی ایک دوسرے پر ہونے والے حملوں سے قطع تعلق ہیں، بات صرف اتنی ہے کہ ان دونوں حملوں کے بعد پائی جانے والی بے حسی اور بحث نے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ ایک اصول اور ایک پیشہ خطرے میں ہیں، نہ کہ ایک خاص چینل یا ایک خاص سیاسی نظریہ۔
یوں ابھرنے والی اس جنگ کے نقوش خاصے تاریک اور اداس ہیں۔ کیا یہ حب الوطنی کا مسئلہ ہے یا پاکستانی فوج کے انگنت خفیہ دستوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا مسئلہ ہے یا اختلافی نکتہ نظر رکھنے والی عوامی شخصیات پر حملوں کا مسئلہ ہے؟ اداروں کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے،ریاست سے متعلق اور لاتعلق، ہر قسم، شکل اور رنگ کے دشمنوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی ۔۔۔ کا منطقی نتیجہ اس مسئلے پر اخلاقی شفافیت کی موت ہی ہے۔
ہم حملوں کی تحقیقات اوروضاحت ، انصاف اور مجرموں کی گرفتاری چاہتے ہیں یا ہم ، بطور قوم ابتدائی طور پر ان اختلافات سے نمٹنا چاہتے ہیں جو ان اختلافات کے پیچھے ہیں؟ کیا فوج پسندی اور انتہا پسندی کی مذمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جانا چاہئے ؟ کیا دونوں حملہ زدگان میں سے زیادہ غلط کا پتہ لگایا جانا چاہئے؟اورکیا پہلے یہ فیصلہ بھی کیا جانا چاہئے کہ ناقابل شناخت تبدیلی کی زیادہ سزا کسے ملی اور زیادہ زخمی کون ہوا؟
ایک ایسی صورت حال، جس میں دونوں، رضا رومی اور حامد میر ، اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگیوں کو ہوا میں معلق دیکھ چکے ہیں، یہ بہت غلط ہو گا کہ ہم الٹا ان دونوں کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں۔ تاہم وہ جو ایسے حملوں کو جھیل چکے ہیں ، وہ حملہ آوروں کے خلاف بات کرنے کی زیادہ طاقت اور زیادہ قانونی استحقاق رکھتے ہیں۔
اگر میر اور رومی یکجا ہو سکیں اور سب سے پہلے بطور صحافی ۔۔۔ اور ایسے افراد کے طور پر شناخت کئے جا سکیں کہ جن کے پاس کہنے کو کچھ ہے اور جواپنی اور بہت سے دوسروں کی آزادی اظہار کے لئے کھڑے ہونے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ رکھتے ہیں تو یہ بحث بدل سکتی ہے۔ یہ صورت حال ہم سے مظلوموں کو نشانہ بنانے کی کہانیوں کے اختتام، سزا کے ماتمی شورکے اختتام اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی خاطر سیاسی نظرئیے کے شعوری استرداد (ایک ایسی چیز جو تاحال پاکستان میں ناممکن ہے)کا مطالبہ کرتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *