کچھ باتیں فن کی، کچھ من کی اور ڈاکٹر سعید خان کا دریائی گھر

MHTمستنصر حسین تارڑ

سڈنی کے اندر کہیں قدیم طرز تعمیر کا، کولونیٹل نہایت بلند چھت اور شہتیروں والا ایک وسیع ہال تھا جہاں کوچۂ ثقافت کا تخلیقی بازار سجنے کو تھا۔۔۔ ہال اتنا بڑا تھا کہ جاوید نظر کو خدشہ لاحق ہوا کہ یہ شاید بھرنہ پائے سونا پڑا رہے۔۔۔ بھلا ایک پاکستانی ادیب کی گفتگو سننے اور ایک مصور کی تصویر دیکھنے تیس ڈالر کا ٹکٹ خرید کر کون آتا ہے۔۔۔ اور یوں بھی سڈنی شہر میں کتنے پاکستانی ہوں گے جنہیں ادب کا عارضہ لاحق ہے۔۔۔ لیکن ہوا یہ کہ کچھ تو جاوید نظر کی انتظامی صلاحیت کی وجہ سے اور کچھ اس خاکسار کی محبت میں لوگ طویل فاصلوں سے کھنچے چلے آئے اور ہال اتنا لبریز ہوا کہ شائقین ادب نے برآمدوں میں کھڑے ہونا بھی معیوب نہ جانا۔۔۔ عظمیٰ گیلانی نہایت زرق برق ساڑھی میں کسی حد تک اپنی جوانی کے زمانوں کی جھلکیاں جھلکاتی مسکراتی مجھے سٹیج پر بلانے کے بعد اسد محمد خان کی ایک کہانی ڈرامائی انداز میں پڑھنے لگی۔۔۔ اس دوران زرد کُرتے میں ملبوس انجم ایاز کا تعارف ہوا اور وہ سٹیج پر آویزاں ایزل پر رکھے کینوس پر صاقینی انداز میں غالب کے ایک شعر کی تصویر خطاطی کرنے میں مگن ہو گئے۔ میں نے آغاز میں کچھ گفتگو کی۔۔۔ کچھ باتیں من کی اور کچھ فن کی۔۔۔ پھر گدھوں کے بارے میں ایک کالم نما تحریر پڑھی جسے پسند کرنے کے لیے گدھا ہونا شرط نہ تھی۔ سوالوں کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تھا۔۔۔ اس دوران ہجوم میں سے ایک ڈاکٹر خاتون برآمد ہوئیں اور کہنے لگیں۔۔۔ میں تعریف کرنے نہیں شکایت کرنے آئی ہوں، آپ کو مورد الزام ٹھہرانے آئی ہوں۔۔۔ آپ نے ’’خانہ بدوش‘‘ اور ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ جیسے سفرنامے لکھ کر ہمیں خانہ بدوش کر دیا۔۔۔ ہمیں دربدر کر دیا یہاں تک کہ آپ کی وجہ سے میں یہاں آسٹریلیاں میں آ بیٹھی ہوں اورآپ خود۔۔۔ اپنے لاہور سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔۔۔ آپ نے ضرور ہمیں اپنے وطن سے نکالنا تھا۔۔۔ آپ ہمیں اچھے نہیں لگتے۔۔۔ اگرچہ حاضرین میں سے کچھ نے اس ڈاکٹر خاتون کے طرز تکلم کو پسند نہ کیا لیکن میں نے بہت کیا کہ وہ میری تحریروں کی شیدائی تھیں، اگر مجھ سے محبت کرتی تھیں تو شکایت کرنا بھی اُن کا حق بنتا تھا۔ اور ہاں اس بات کا کریڈٹ جاوید نظر کر دیجیے کہ اس سے پیشتر آسٹریلیا میں بھانت بھانت کے مزاحیہ، شکل سے بھی مزاحیہ صرف شاعر بلائے جاتے تھے اور پہلی بار کسی نثرنگار کو یہاں مدعو کیا گیا تھا۔۔۔ اور اُنہیں کریڈٹ اس لیے بھی زیادہ جاتا ہے کہ وہ معروف شاعر نظر امروہوی کے صاحبزادے ہیں اور خود بھی ایک عدد شاعر ہیں۔۔۔ نظر صاحب کے بیٹیوں میں بے حد ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جاوید ایک سفید ریش حضرت آسٹریلیا کے ویرانوں میں تبلیغ کے لیے نکل جاتے ہیں کہ شاید کوئی ابودفیل مسلمان ہو جائے، بت شکن ہیں اور اُن کے بڑے بھائی انجم نیاز بت بناتے ہیں لیکن قاسمی صاحب کی کلاسیک نظم کے مطابق ریت سے نہیں بناتے۔۔۔ اُدھر کراچی میں ’’مونتاژ‘‘ ادبی جریدے کے مدیر اقبال نظر ہیں۔۔۔ انجم نیاز اور اقبال میں صرف اُن کی وِگ مشترک ہے جو شاید ’’ایک خریدئیے اور دوسری مفت حاصل کیجیے‘‘ کی پیشکش کے مطابق ہوبہو تھی۔۔۔ تقریب کے بعد ڈنر کا اہتمام تھا اور وہاں میں بھوکا رہا کہ بہت دور کے شہروں سے آنے والے مہربان تھے۔۔۔ ایک صاحب نے خصوصی انتظام کر کے میری کتابیں بائی ایئر پاکستان سے منگوائی تھیں اور مجھ سے آٹو گراف کرنے کی درخواست کرتے تھے۔۔۔ آسٹریلیا کے مختلف شہروں سے آنے والوں نے مجھے اپنے شہروں میں آنے کے لیے، تمام اخراجات برداشت کرنے کی دعوتیں بے شمار دیں کہ اگر میں اُن سب کو قبول کر لیتا تو اگلا ایک برس آسٹریلیا میں ہی گزارتا۔۔۔ تھینک یو آسٹریلیا۔
ایک سڈنی کا سب سے چمکدار دن تھا جب ڈاکٹر سعید خان نے اپنے محل نما گھر میں، ایک دریا کے کنارے بلند ہونے والی چٹانوں میں تعمیر شدہ ایک خوابناک رہائش گاہ میں مجھے اور میمونہ کو مدعو کیا اور میں نے اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا ’’یہ شخص زندگی سے لطف اندوز ہونا جانتا ہے‘‘۔ بے شمار لوگ مدعو تھے اور خورو نوش کے بے دریغ انتظامات ایسے تھے کہ ہر کوئی بے دریغ خوش ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر سعید خان اور ان کی خوش لباس اور خوش نظر اہلیہ نے ہم دونوں کا استقبال کیا۔۔۔ اُن کے شاہانہ، ذوق جمال سے آراستہ گھر کے کھلے ٹیرس سے نیچے بہتے دریا اور اس میں بہتی کشتیوں اور جنگلوں کا منظر ایسا کھلتا تھا کہ میں سحر زدہ ہو گیا۔ آسٹریلیا میں قیام کے دوران اگرچہ میرے اعزاز میں بہت سے لنچ اور ڈنر ہوئے، ڈاکٹر حضرات نے بھی میری توقیر کی لیکن یہ ڈاکٹر سعید خان نام کا شخص اُن سب سے الگ شناخت رکھتا تھا کہ۔۔۔ وہ زندگی سے لطف اندوز ہونا جانتا تھا۔۔۔ اگر اپنی شب و روز کی مشقتوں سے متمول ہوا تھا تو دولت جمع کرنے کی مشین نہیں ہو گیا تھا۔ شاندار اور شاہانہ طریقے سے زندگی کرتا تھا اور مجھ ایسے معمولی ادیب کے لیے بھی اتنے وسیع اہتمام کرتا تھا اور ہمہ وقت میرا شکریہ ادا کرتا تھا۔
اور یہاں آسٹریلیا میں مقیم سب سے اہم ادیب اور ناول نگار اشرف شاد بھی موجود تھا جو اپنی سفید مونچھوں اور دل فریب بش شرٹ میں نہایت دل کش لگ رہا تھا۔ اُس کا ناول ’’بے وطن‘‘ میرے پسندیدہ ترین ناولوں میں سے ہے اور میمونہ کو بھی یہ ناول بے حد پسند ہے۔ اشرف شاد نے میرے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز گفتگو کی۔۔۔ کہ آپ لوگ آج سے تیس برس بعد فخر کریں گے کہ ہم ایک ایسی دعوت میں شریک تھے جہاں تارڑ صاحب تھے جو ہم سے باتیں کرتے تھے۔ مجھے اشرف شاد کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ اب میرے دن تھوڑے ہیں۔ اور مجھے اندازہ بھی ہے کہ پچھلے دنوں راولپنڈی سے ایک صاحب کا محبت بھرا خط آیا کہ میرے پسندیدہ ترین ادیبوں میں، اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور آپ شامل ہیں، میں اب تینوں سے ملنا چاہتا تھا لیکن اشفاق صاحب اور مفتی صاحب فوت ہو گئے۔۔۔ اس لیے میں آپ سے جلد از جلد ملنا چاہتا ہوں۔۔۔ تو میرے دن تھوڑے تھے۔
موقع غنیمت جان کر اس محفل میں عظمیٰ گیلانی کی حیات کے بارے میں ایک کتاب کی رونمائی کا بھی اہتمام کیا گیا اور صدارت کا منصب مجھے سونپا گیا۔ یہ ایک عجیب بلکہ حسین اتفاق تھا کہ عظمیٰ کی یہ سرگزشت ابھی تک میری نظر سے نہ گزری تھی اور اس کے باوجود مجھے صدارتی خطبہ پیش کرنا تھا۔۔۔ یہ سرگزشت ایک نوجوان سیال نے تحریر کی تھی اور خوب تحریر کی تھی۔
یہ مبالغہ نہیں، ایک حقیقت ہے کہ آسٹریلیا کی ہر شام میں مجھے کو کُتے، غُل کرتے، چہکتے پرندے گھنے شجروں میں پوشیدہ سنائی دیتے تھے اور اُس شب وہ کچھ زیادہ ہی غل کرتے تھے تو وہ کون ہے ان خطوں میں جو مجھے ان رنگین پرندوں کی صورت پکارتا ہے۔ کوئی تو ہے، کوئی تو غزالِ شب ہے۔۔۔ کون ہے؟ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *