نیوی کلب کو سیل نہ کرنے پر حکام کیخلاف توہین عدالت کیسز کی درخواست

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ایک درخواست میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین عامر علی احمد، سیکریٹری کابینہ ڈویژن احمد نواز سکھیرا اور چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی کے خلاف نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی۔

 رپورٹ کے مطابق کلب کو سیل کرنے کے عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار زینت سلیم نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اور نہ ہی نیوی حکام نے کلب سیل کرنے کے عدالتی احکامات پر عمل کیا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ کہتے ہوئےکلب سیل کرنے کا حکم دیا تھا کہ ’بادی النظر میں زمین پر قبضہ اور عمارت کی تعمیر غیر قانونی اور رائج قوانین کی خلاف ورزی ہے لہٰذا یہ عدالت آئندہ سماعت تک وفاقی حکومت، سیکریٹری کابینہ اور سی ڈی اے چیئرمین کو اس سیل کرنے کا حکم دیتی ہے‘۔

عدالت نے کابینہ کے سیکریٹری کو مذکورہ معاملہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی کیوں کہ اس میں قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور قانون صرف عام شہریوں تک محدود ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ سی ڈی اے عدالت کے احکامات کے باوجود کلب کو سیل کرنے سے گریزاں ہے۔

درخواست کے مطابق نیوی سیلنگ کلب معمول کے مطابق افعال سر انجام دے رہا ہے اور اس کی انفارمیشن ڈیسک آنے والوں کو رکنیت فارم تقسیم کررہی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سی ڈی اے عمارت اپنے تالوں سے بند کرنی اور عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں اپنا عملہ تعینات کرنا تھا۔

تاہم ’سی ڈی اے نے سیل کرنے کا ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور پی این سیلنگ کلب کی انتظامیہ معمول کے مطابق اپنے معمولات اور کاروباری امور جاری رکھے ہوئے ہے‘۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ ’یہ سی ڈی اے کی جانب سے قانون کے اطلاق میں امتیاز کی بری مثال ہے‘۔

درخواست میں عدالت سے گزارش کی گئی کہ مذکورہ بالا حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور فریقین کو عدالت کے حکم پر عملدرآمد کی ہدایت کی جائے۔

نیوی کلب سیل کرنے کا حکم

یاد رہے کہ 23 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول ڈیم کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

حکم نامے میں عدالت نے کہا تھا کہ سی ڈی اے کے مطابق راول جھیل کے کنارے کلب کی الاٹمنٹ ہوئی نہ ہی تعمیر کی اجازتٓ دی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم نامے میں مزید کہا تھا کہ بادی النظر میں راول جھیل کنارے کلب کی تعمیر غیر قانونی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ مستقل طور پر دیکھا گیا ہے کہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر ایجنسیز کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف ایکشن لینا معمول بن گیا جن کے پاس اثرانداز ہونے کے ذرائع نہیں ہیں جبکہ مراعات یافتہ افراد اور اشرافیہ کے ساتھ مختلف سلوک کیا جارہا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ آئین کے تحت ایک جمہوری حکومت کے لیے ناقابل قبول ہے جو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ متعلقہ اراضی کا قبضہ اور عمارت کی تعمیر غیرقانونی اور نافذ کردہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ لہذا یہ حکم دیا جاتا ہے آئندہ سماعت تک وفاقی حکومت، سیکریٹری کابینہ اور چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے کلب کی حدود کو سیل کریں گے۔

نیوی سیلنگ کلب کا معاملہ

خیال رہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔

مزید پڑھیں:

نوٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 'اگر اس پر عمل نہیں کیا جاتا تو سی ڈی اے آپ کے خطرے اور قیمت پر غیرقانونی/غیرمجاز اسٹرکچر کو زبردستی ہٹانے/منہدم کرنے سے متعلق کارروائی کرے گی'۔

دوسری جانب پاکستان نیوی کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ نیوی غور و خوص کے بعد جواب دے گی لیکن ساتھ ہی وہ بولے کہ سیلنگ کلب 1990 کی دہائی سے فعال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلنگ کلب میں غوطہ خوروں کی تربیت ہوتی ہے اور وہ شمالی علاقوں اور آزاد جموں و کشمیر میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ ملک کے شمال میں اس طرح کی یہ واحد سہولت ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کلب کو گزشتہ سال ستمبر میں سی ڈی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہوا تھا اور اس کے جواب میں اتھارٹی کو بتایا گیا تھا کہ سہولیات میں جدت لانے کے لیے تعمیر کی جارہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *