کورونا وائرس کے مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟

نئے کورونا وائرس کو ہسپتال میں زیرعلاج رہ کر شکست دینے والے اکثر مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لیڈز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان طویل المعیاد علامات میں شدید تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، نفسیاتی مسائل بشمول توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت متاثر ہونے اور مجموعی طور پر معیار زندگی متاثر ہونا شامل ہے۔‎

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ مریضوں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں ایسی علامات کو دیکھا گیا جو کسی بڑے سانحے کے بعد طاری ہونے والے عارضے پی ٹی ایس ڈی کے کیسز میں سامنے آتی ہیں۔

تحقیق کے نتائج میں برطانیہ میں کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد کو درپیش مسائل پر پہلا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 ایک نئی بیماری ہے اور ہمیں ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والے افراد کو درپیش طویل المعیاد مسائل کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مگر ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ مکمل صحتیابی کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور ضروری ہے کہ بحالی نو کے لیے ان کی معاونت کی جائے، اس تحقیق میں مریضوں کی ضروریات پر اہم تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

طبی جریدے جرنل آف میڈیکل وائرلوجی میں شائ تحقیق میں ہسپتال سے ڈسچارج مریضوں میں علامات اور بحالی نو کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کے مطابق اس تحقیق میں ہمارے ماضی کے کام کو آگے بڑھایا گیا جس میں کووڈ 19 کے مریضوں کی طویل المعیاد ضروریات کی پیشگوئی 2002 کی سارس کورونا وائرس اور 2012 کے مرس کورونا وائرس کی وبا کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی، کیونکہ ان وبائی امراض کے شکار افراد کے طبی مسائل بھی کووڈ 19 کے مریضوں سے ملتے جلتے ہیں مگر یہ زیادہ بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بیماری ہے۔

اس تحقیق میں کووڈ 19 کے ایسے سو مریضوں کا 8 ہفتوں تک جائزہ لیا گیا جن کو لیڈز کے ہسپتالوں سے ڈسچارج کیا جاچکا تھا۔

ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک گروپ ان افراد پر مشتمل تھا جو بہت زیادہ بیمار اور آئی سی یو میں زیرعلاج رہے اور ان کی تعداد 32 تھی۔

دوسرا گروپ 68 افراد پر مشتمل تھا جو ایسے مریضوں کا تھا جن کو آئی سی یو کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔

ان افراد سے صحتیابی اور ان علامات کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جن کا وہ تاحال سامنا کررہے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان دونوں گروپس میں سب سے عام علامت شدید تھکاوٹ تھی۔

ایسے افراد جو عام وارڈ میں زیرعلاج رہے ان میں 60 فیصد سے زائد نے معتدل یا شدید تھکاوٹ کو رپورٹ کیا گیا جبکہ آئی سی یو میں زیرعلاج افراد میں یہ شرح 72 فیصد تھی۔

دوسری سب سے عام علامت سانس لینے میں مشکلات تھیں اور دونوں گروپس کے لوگوں کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے شکار ہونے سے پہلے ان کو اس مسئلے کا سامنا نہیں تھا۔

اس مسئلے کی شرح آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں 65.6 فیصد جبکہ عام وارڈ میں علاج کرنے والوں میں 42.6 فیصد تھی۔

تیسری سب سے عام علامات نفسیاتی مسائل پر مبنی تھیں جس کی شرح وارڈ میں زیرعلاج افراد میں 25 فیصد کے قریب جبکہ آئی سی یو میں زیرعلاج افراد میں 50 فیصد کے قریب تھی۔

محققین کے مطابق پی ٹی ایس ڈی علامات اکثر بیماریوں کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں عام ہوتی ہیں جس کے عناصر مختلف ہوتے ہیں جیاسے موت کا ڈر، علاج، درد، کمزوری، نیند کی کمی اور دیگر۔

آئی سی یو میں رہنے والے 68.8 فیصد جبکہ وارڈ میں زیرعلاج رہنے والے 45.6 فیصد مریضوں نے مجموعی معیار زندگی متاثر ہونے کو رپورٹ کیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اب وہ مستقبل قریب میں ایسے مریضوں میں کووڈ 19 کے طویل المعیاد اثرات کا جائزہ لیں گے جن کو علاج کے لیے ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *