عید مبارک

مجھ جیسے گاؤں کے باسیوں کوترقی کی لگن شہر کی طرف ہانک دیتی ہے اور پھر ہم یہیں کے ہو رہتے ہیں۔ گاؤں لیکن ہم سے الگ نہیں ہوتا۔ کبھی حسرت اور کبھی یاد بن کر وجود سے لپٹا رہتا ہے۔ جیسے ایک قیدی جو رہائی کا طلبگار مگر بے بس ہے۔ قدم اٹھتاہے تو ساتھ ہی پاؤں کی زنجیر بھی چھنک اٹھتی ہے۔
فراز ہم وہ غزالانِ دشت و صحرا ہیں
اسیر کر کے جنہیں لوگ لائے شہروں میں
تہوار تو عذاب محسوس ہوتے ہیں کیونکہ اِدھر صبح اترتی ہے اور اُدھر یادوں کی بارات۔ مناظر یکجا ہوتے، ایک قافلہ ترتیب دیتے اور دھیرے دھیرے دل کی زمین پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ منجمد لہو کا یہ پیکر برسوں کی حدت کو کیسے برداشت کرے؟ پگھلتا اور آنکھوں کے راستے بہنے لگتا ہے۔ چھاجوں برستا اور جل تھل کر دیتا ہے۔
بے بے جی یاد آتی ہیں۔ مجسم انتظار۔ ایک جذبہ، ایک پیکرِ محسوس میں کیسے ڈھلتا ہے، میں نے پہلی دفعہ اپنے گھر میں دیکھا۔ میری ماں بھائیوں کے لیے سراپا انتظار ہیں جو تعلیم اور نوکری کے لیے شہر میں جا بسے ہیں۔ ظہر سے چولہے کے سامنے بیٹھی ہیں۔ چولہے میں دھیمی دھیمی آگ جل رہی ہے اور ان کے دل میں انتظارکا آتش کدہ۔ میں کم سن کہاں سمجھ سکتا تھا۔ اُس وقت جانا جب کچھ بڑا ہوا اور بھائیوں کی طرح شہر کو سدھارا۔ پھر میں نے انہیں اپنا انتظار کرتے دیکھا۔ دیکھا کہاں،دل سے جانا جو عید سے پہلے ہی گھر کی طرف کھینچنے لگتاتھا۔ یہ دل نہیں تھا، بعد میں معلوم ہوا، میری ماں کا انتظار تھا۔
باپ کہ صبروشکرکا پیکر ہے۔ مدت ہوئی انہیں آسودہ خاک ہوئے مگرآج بھی ان کی آواز کانوں میں گونجتی ہے ''عبدالرحمن نہیں آیا؟‘‘۔ عید سے ایک دن پہلے وہ مغرب کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو یہی سوال کرتے۔ سوال کیا، ایک خواہش ہے جو جواب چاہتی ہے مگر صرف اثبات میں۔ عبدالرحمن میرے سب سے بڑے بھائی کا نام ہے جوشہر میں رہتے تھے۔ معلوم نہیں کہ یہ سوال کتنی دعاؤں کے جلو میں، کتنے دنوں سے ان کے ہمرکاب ہے۔ باپ کو مگرجذبات چھپانا خوب آتاہے، اگرچہ مزاج میں رقّت بہت ہے۔
یادوں کی اس بارات میں چاچی فیلاں بھی شامل ہیں۔ ہمارے پڑوس میں رہتی تھی۔ اب کئی سال سے بہشت کے انتظار میں ایک انتظار گاہ میں بیٹھی ہیں۔ دیوار سانجھی تھی۔ دیوار توخیر نام کی تھی۔ یہ ہمارے اور چاچی فیلاں کے درمیان کبھی دیوار نہ بن سکی۔ ماں بتاتی تھیں کہ میرے بڑے بھائیوں کوجب والد صاحب سے مار پڑتی تو چاچی فیلاں ہی بچاتیں۔ انہیں کسی طرح سے خبرہو جاتی اور بھاگتی ہوئی آتیں ''لالہ جی! بس کرو‘‘۔ بھائی کے سامنے ڈھال بن جاتیں۔ مار صرف نہ پڑھنے پر پڑتی، کتاب ہو یانماز۔
چاچی فیلاں کو بھی میرے بھائیوں کا انتظار ہوتا۔ بے بے جی سے زیادہ تونہیں لیکن شاید کم بھی نہیں۔ عبدالرحمن بھائی گھر میں قدم رکھتے تو انہیں اطلاع ہوجاتی۔ بس چند منٹ ہی گزرتے ہوں گے کہ بسم اللہ، بسم اللہ کہتی حویلی کے دروازے سے داخل ہوتیں۔ بھائی کے ایک گال پہ تین بوسے، دوسرے گال پہ تین بوسے۔ میرے گالوں پہ بھی یہ بوسے اِس طرح ثبت ہیں کہ ماں کے اور ان کے بوسوں کے ذائقے میں فرق نہیں کرسکتا۔
ان کا بیٹا فوج میں تھا۔ 1970ء میں مشرقی پاکستان میں تعینات تھا۔ جنگ ختم ہوئی توپہلے خبر آئی کہ لاپتہ ہے۔ ماں کا انتظار دم توڑگیا جب ایک روز شہادت کی اطلا ع ملی۔ آج مجھے خیال ہوتا ہے کہ چاچی فیلاں عبدالرحمن بھائی میں اپنا محمد بشیر تلاش کرتی تھیں۔ گاؤں بس ایسے ہی ہوتے تھے۔ عبدالرحمن اور محمد بشیر سب کیلئے ایک جیسے تھے۔
میں نے اپنے گاؤں کی عیدگاہ سے بڑھ کر سماجی رابطے کا کوئی مرکز نہیں دیکھا۔ ہر چہرہ شناسا۔ ان سے بھی ملتے ہیں جن سے سارا سال یا کئی سال مل نہیں پاتے۔ کبھی گمشدہ شناسائی کو واپس لانے کیلئے ذہن پر زور دینا پڑتا اور پھر ایک بلند آہنگ قہقہے کے ساتھ معانقہ 'یار! تم کتنے بدل گئے ہو‘۔ یہ کہنے کی بات ہے ورنہ یہ سماجی ارتباط کچھ بدلنے نہیں دیتا۔ عمر ڈھلتی ہے مگر عید کا ملن ماضی کوحال سے جوڑے رکھتا۔
عیدگاہ سے نکلتے ہی ہر کوئی اپنی طرف کھینچتا۔ محبت کی یہ فراوانی فیصلہ مشکل بنا دیتی۔ ہم بھی اپنی باگ دوستوں کے ہاتھوں میں دے دیتے کہ جہاں لے چلیں۔ یہ ہمیں معلوم تھا کہ جہاں وہ رکیں گے‘ وہاں امان اور محبت ہی ملے گی۔یہ ملاقاتیں بے بے جی کے انتظار کو طویل بنا دیتیں۔ کبھی تو گھر واپس آتے آتے ظہر کا وقت ہو جاتا۔ برس ہا برس ہم عید کی نماز مسجد میں پڑھتے رہے۔ پھر ایک چاردیواری بن گئی جسے عیدگاہ کہا گیا۔
آپ یہ گمان نہ کیجیے کہ شیطان ہمارے گاؤں سے مایوس ہو کر، کہیں ہجرت کر گیا تھا۔ ہم اسے مایوس کہاں ہونے دیتے ہیں۔ اسے کامیابی کم ہی ملتی تھی لیکن اس کی فتوحات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا۔ عیدپر جھگڑے ہوتے تھے۔ ہماری مسجد یا تمہاری مسجد؟ ہر محلے کے لوگ اپنی پگ اونچی رکھنا چاہتے تھے۔ جب تک میرے والد گرامی زندہ رہے، یہ سوال نہیں اٹھا۔ پورا گاؤں ان کی امامت پر متفق تھا۔ بڑھاپے نے انہیں آلیا تو گاؤں کے پاس اُن کاکوئی متبادل نہیں تھا۔ یوں تسبیح کے دانے بکھرنے لگے۔ ایک وقت آیا‘ تین تین عیدیں پڑھی گئیں۔ عید گاہ نے پھر جمع کردیا۔
قربانی کا منظر توبہت یادگار ہوتا۔ لوگ خود ہی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتے اور خود ہی گوشت بناتے۔ قصائی پورے گاؤں میں نہیں تھا۔ دو تین افراد تھے جنہیں نسبتاً تجربہ کارکہا جا سکتا تھا۔ کھال اتارنے کا کام اکثر ان سے لیا جاتا کہ یہ مہارت چاہتا ہے۔ ویسے بھی اُس دور میں کھال اتارنے والے کم تھے۔ یہ فراوانی توچند سال پہلے آئی ہے۔ والد صاحب کی وجہ سے لوگ ہمیں کم ہی کام میں شریک کرتے۔ ہمارے حصے کاکام خود کر دیتے۔ محبت آمیز احترام کے یہ مناظر اب کہاں!اور ہاں، میرے بچپن کے دوست صغیر، شفقت، محفوظ اور خالد۔ صغیر کے گھر کی چھت جس طرح ہمارے گھر کی چھت سے ملی ہوئی ہے‘ اسی طرح دل بھی اس سے ملا ہوا ہے۔ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو ہمارا شغل ایک ہی ہوتا تھا۔ تاش کھیلنا۔ اب آپ سے کیا پردہ، والد صاحب سے چھپ کر۔ عید پرسب ملنے ملانے اور کھانے پینے سے فارغ ہوکر صغیرکی بیٹھک میں جمع ہوجاتے۔ شفقت پتے چھپانے کا ماہر تھا۔ اس کی یہ حرکت کھیل کو دلچسپ بنا دیتی۔
شہرنے زندگی کے اس فطری حسن کو چھین لیا۔ والد صاحب رخصت ہوئے توگھر کی بنیاد ہل گئی۔ گھر ہی نہیںِ، گاؤں سے تعلق کی بنیاد بھی کمزور ہوگئی۔ والدہ کی خواہش تھی کہ جب تک وہ زندہ ہیں، گھر کے دروازے بند نہ ہونے پائیں۔ کچھ سال تو سب بہن بھائی عید پرجمع ہوتے رہے مگر یہ مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔ برقعہ کی جگہ اب بے بے جی نے بھی بڑھاپے کی ردا اوڑھ لی۔ ہم بہ اصرار شہر لے آئے۔ یوں والد صاحب کے جانے سے جس تعلق کی بنیاد ہلی تھی، والدہ کے شہر منتقل ہونے سے اس کی چھت بھی گرگئی۔ اب صرف یادوں کا کھنڈر باقی ہے۔ ہمارا گھر اس کی مجسم تصویر ہے۔
ایک روز بے بے جی بھی رخصت ہوگئیں۔ یوں گاؤں کی طرف لوٹنے کا موہوم سا خیال بھی دم توڑ گیا، شاید ہمیشہ کے لیے۔کیا گاؤں میں اب بھی کوئی چاچی فیلاں ہوتی ہے؟ کیا اب بھی دریائے سواں کے کنارے آباد میرے گاؤں میں محبت کا دریا بہتا ہے؟ کیا اب بھی لوگ اپنے پیاروں کا انتظار کرتے ہیں؟ گاؤں سے لوٹنے والے اچھی خبریں نہیں سناتے۔ یہ دل گداز داستان، مگر یہیں چھوڑتا ہوں کہ مکمل کرنے کا یارا نہیں۔ آپ سب کو عید کی مبارک باد، بالخصوص ان کو جو گاؤں چھوڑ کر شہروں میں آ بسے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *